جمعہ , 18 جون 2021

اسرائیل فلسطین تنازع: حالیہ کشیدگی کے دوران کون سا ملک کس کے ساتھ کھڑا ہے؟

عمیر سلیمی

غزہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف بہت سے ممالک نے اپنی آواز بلند کی ہے اور فی الفور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاہم ایسے بھی کئی ممالک ہیں جو اسرائیل فلسطین تنازع میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو کا ساتھ دے رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے 25 ممالک کا شکریہ ادا کیا جن میں امریکہ، البانیہ، آسٹریلیا، آسٹریا، برازیل، کینیڈا، کولمبیا، قبرص، جارجیا، جرمنی، ہنگری، اٹلی، سلووینیا اور یوکرین جیسے نمایاں نام شامل ہیں۔

ان ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات ہیں اور وہ حماس کو عسکریت پسند تنظیم قرار دیتے ہوئے اسرائیلی حملوں کو اپنے دفاع کا حق قرار دیتے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان سمیت مسلم اکثریتی ممالک کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے اور فلسطینیوں کی جدوجہد کو جائز قرار دیتی ہے۔

اسرائیل کی حمایت میں امریکہ سب سے آگے نظر آتا ہے۔ حالیہ عرصے میں صدر بائیڈن اور ان کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بارہا اسرائیلی کارروائیوں کی حمایت کی ہے اور اسے اپنے دفاع کا حق کہا ہے۔

جرمنی اور فرانس ان یورپی ممالک میں شامل ہیں جنھوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوششیں کی ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے کہا ہے کہ ان کا ملک اظہار رائے کی آزادی کا دفاع کرتا ہے لیکن اپنی جمہوریت کو یہودیوں کی مخالفت کرنے والے مظاہروں سے متاثر ہونے نہیں دے گا۔

جبکہ فرانس نے گذشتہ ہفتے پیرس میں فلسطین کے حق میں مظاہروں پر پابندی عائد کی تھی۔ ان کے مطابق 2014 میں اسی طرز کے مظاہروں کے دوران جھڑپوں سے مشکلات پیش آئی تھیں۔

خیال رہے کہ جمعہ کو فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کے دوران اسرائیلی دفاع کی حمایت کی تھی۔

گذشتہ منگل آسٹریلیا میں ایک ایسی خاتون کو گرفتار کیا گیا جس نے مبینہ طور پر اسرائیلی پرچم کو نذر آتش کیا تھا۔ اس کے بعد آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک دو ریاستی حل پر یقین رکھتا ہے لیکن مشرق وسطیٰ کے تنازع کو آسٹریلیا میں درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انھوں نے آسٹریلوی شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی سے دور رہیں تاکہ ملک میں امن قائم رکھا جا سکے۔

اتوار کو کینیڈا میں اسرائیل اور فلسطین کی حمایت کرنے والے دو الگ احتجاجی مظاہروں کے درمیان جھڑپوں کے بعد پولیس نے آنسو گیس استعمال کر کے مظاہرین کو منتشر کیا۔

اس پر کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ ’ہر شخص کو پُرامن طریقے سے اجتماع کا حق ہے۔‘

’لیکن ہم یہودیوں کی مخالفت، اسلامو فوبیا یا کسی بھی قسم کے نفرت انگیز رویے کو برداشت نہیں کرسکتے اور نہ ہی کریں گے۔ اس ہفتے کے آخر میں کچھ مظاہروں کے دوران ہم نے نفرت انگیز بیانات اور تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔’

اسی دوران کینیڈا کے بعض سیاسی حلقوں نے جسٹن ٹروڈو سے مطالبہ کیا ہے کہ کینیڈا کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکی جائے۔

لندن میں اتوار ہی کے روز اسرائیل مخالف مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور برطانوی حکومت سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔

برطانوی وزیر خارجہ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ برطانیہ یروشلم پر راکٹ حملوں کی مذمت کرتا ہے۔ ‘یروشلم اور غزہ میں جاری پُرتشدد واقعات کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ تمام فریق کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں اور شہری آبادی کو ہدف بنانا روک دیں۔‘

روس کے وزیر خارجہ نے بدھ کو اپنے بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ فلسطینی علاقوں میں آباد کاری کی سرگرمیاں روکی جائیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعے کو متنبہ کیا تھا کہ حالیہ تناؤ روسی سکیورٹی کے لیے براہ راست ایک خطرہ ہے۔

’ہم معصوم شہریوں کے قتل کی حمایت نہیں کرتے‘

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ٹویٹ میں بوسنیا و ہرزیگووینا کا پرچم بھی شامل تھا اور اسرائیل نے ’اپنے دفاع کا حق‘ کی حمایت پر اس ملک کا شکریہ ادا کیا تھا۔ تاہم بوسنیا و ہرزیگووینا کے حکومتی عہدیداروں نے دوٹوک الفاظ میں اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معصوم شہریوں کے قتل کی حمایت نہیں کرتے۔

بوسنیا و ہرزیگووینا کی وزیر خارجہ بسریرا ترکوک نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک صرف ’اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل کے لیے قیام امن کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ امن و استحکام تشدد کے ذریعے ممکن نہیں۔‘

’ہم معصوم لوگوں کی ہلاکت کا باعث بننے والے حملوں کو فی الفور روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’ہم دونوں ممالک کے ساتھ مل کر کسی حل کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ صرف مذاکرات ہی پائیدار امن قائم کرسکتے ہیں۔ ہم ان اقدامات کی بھی حمایت کرتے ہیں جو تشدد کی لہر کو روکنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔‘

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بوسنیا و ہرزیگووینا میں مسلمان شہریوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جو فلسطینی شہریوں سے ہمدردی رکھتی ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نے جن ممالک کا شکریہ ادا کیا ان میں انڈیا کا پرچم شامل نہیں تھا حالانکہ انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور دائیں بازو کے نظریات کے حامل افراد مسلسل اسرائیل کی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس کے اقدامات کا دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ انڈیا کی جانب سے سرکاری سطح پر اسرائیل کی حمایت میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ انڈیا نے اتوار کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ورچوئل اجلاس میں حالیہ کشیدگی ختم کرنے پر زور دیا ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں انڈیا کے ایلچی ٹی ایس ترومورتی نے کہا ہے کہ یروشلم اور غزہ میں جاری تشدد سے متعلق انڈیا کو تشویش لاحق ہے۔

انڈین سفیر نے کہا کہ ’انڈیا ہر طرح کے تشدد کی مذمت کرتا ہے اور فوری طور پر تناؤ ختم کرنے کی اپیل کرتا ہے۔‘

ترومورتی نے کہا: ’انڈیا فلسطینیوں کے جائز مطالبے کی حمایت کرتا ہے اور دو ریاستی نظریے کے تحت (اس تنازعے کے) حل کے لیے پرعزم ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’انڈیا غزہ کی پٹی سے راکٹ حملوں کی مذمت کرتا ہے، اسی طرح اسرائیلی انتقامی کارروائیوں میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکت انتہائی افسوسناک ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ان حملوں میں ایک انڈین شہری کی موت ہوئی ہے جو اشکلون میں نرس تھیں، ہمیں ان کی موت کا شدید رنج ہے۔‘

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بلیک ستمبر: کیا 1970 میں فلسطینیوں کے ’قتل عام‘ میں ضیاالحق بھی ملوث تھے؟

عابد حسین اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری حالیہ تنازع پر دنیا بھر کے مختلف …