جمعہ , 18 جون 2021

اسرائیلی جارحیت اور نئی گیم تھیوری؟

قاضی سمیع اللہ

بعض تنازعات ایسے ہوتے ہیں جو عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت اختیار کرجاتے ہیں، جو پھر دو طرفہ (فریقین کے درمیان) بات چیت کے ذریعے حل ہونے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ ایسے ہی تنازعات کے حل کے حوالے سے پھر دو ہی آپشنز باقی رہ جاتے ہیں۔ پہلا آپشن یہ کہ اسے کسی تیسرے غیر جانبدار فریق کی ’’ثالثی‘‘ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے اور دوسرا آپشن یہ کہ اس طرح کا تنازعہ بالآخر دونوں فریقین کو ’’حتمی جنگ‘‘ پر مجبور کردے۔

عالمی سطح پر اس طرح کے دو بڑے تنازعے اقوام عالم کے سامنے موجود ہیں، جس کے حل میں عالمی برادری دانستہ تاخیر اور مجرمانہ غفلت برت رہی ہے۔ عالمی برادری کو درپیش دو بڑے ریاستی تنازعات میں پہلا ’’مسئلہ فلسطین‘‘ اور دوسرا ’’مسئلہ کشمیر‘‘ ہے۔ جبکہ دونوں عالمی تنازعات کا تعلق خالصتاً ’’مسلم نسل کشی‘‘ اور ان کے سماجی و سیاسی حقوق سے ہے۔
جہاں تک مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے تو یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ’’تقسیم ہند‘‘ سے چلا آرہا ہے اور اب تک اقوام متحدہ کی ’’استصواب رائے‘‘ کی قراردادوں سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔ جبکہ اس مسئلے کے حل کےلیے امریکا اور سعودی عرب کی جانب سے پیشکشیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ لیکن بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی اور اس کے جنگی جنون کی وجہ سے یہ معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے جبکہ بھارت کی انتہاپسند مودی سرکار نے کشمیر کی ’’خصوصی حیثیت‘‘ کو بھی اپنے آئین میں سے ختم کردیا ہے، جس پر اقوام متحدہ اور ثالثی کی پیشکش کرنے والے ’’امن کے ٹھیکیدار‘‘ بھی خاموش بیٹھے ہیں۔

جہاں تک ان دنوں ’’اسرائیلی جارحیت‘‘ کا سوال ہے تو اس وقت نہتے فلسطینی عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ کب اور کیسے ان کے حقوق کےلیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں گے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین دونوں ہی عالمی قوتوں بالخصوص برطانیہ کے پیدا کردہ ہیں، جو نوآبادیاتی دور کے خاتمے سے چلے آرہے ہیں۔

اس ضمن میں تاریخ میں یہ شواہد موجود ہیں کہ فلسطینی مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان غیر معمولی تناؤ کو (جنگی حالات) کم کرنے کےلیے عالمی برادری نے برطانیہ کو یہ ذمے داری سونپی تھی کہ وہ یہودیوں کےلیے فلسطین میں ’’قومی گھر‘‘ کی تشکیل کے نام پر اسرائیلی ریاست کی بنیاد رکھے۔ جس کی نہ صرف فلسطینیوں بلکہ تمام عرب ممالک نے مخالفت کی تھی۔ یہاں یہ واضح رہے کہ پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد فلسطینی خطے کا کنٹرول برطانیہ کے ہاتھ میں آگیا تھا اور اس وقت یہاں پر مسلم عرب اکثریت میں تھے، جبکہ یہودی محدود اقلیت میں پائے جاتے تھے۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ 1920 کی دہائی میں فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری میں تیزی آئی اور یہ سلسلہ 1940 کی دہائی تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔ فلسطین میں آباد ہونے والے یہودیوں میں وہ یہودی بھی شامل تھے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران ’’ہولو کاسٹ‘‘ سے بچ کر نکل آئے تھے۔ لیکن یہ وہ دور تھا جب برطانوی سامراج یہودیوں کا یکطرفہ ساتھ دے رہے تھے اور فلسطینی مسلمانوں کے خلاف تشدد روا رکھے ہوئے تھے۔ بہرکیف 1947 میں اقوام متحدہ میں فیصلہ کیا گیا کہ فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے۔ جن میں سے ایک حصہ یہودی ریاست (اسرائیل) ہوگا اور ایک عرب ریاست (فلسطین) ہوگا، جبکہ یروشلم (بیت المقدس) کو ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت حاصل ہوگی۔ حالانکہ عرب ممالک نے اقوام متحدہ کے اس فیصلے کو یکسر مسترد کردیا تھا، جبکہ برطانیہ بھی یہ مسئلہ حل کیے بغیر یہاں سے بھاگ نکلا تھا، جیسا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر برصغیر سے نکل گیا تھا۔

بالآخر 1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آگیا جبکہ فلسطین کا معاملہ جوں کا توں ہے اور رہی بات بیت المقدس کی، تو اس پر بھی اسرائیل غیر قانونی طور پر قابض ہے جبکہ امریکا جیسے امن کے ٹھیکیدار اور اقوام متحدہ اپنے ہی فیصلوں پر عملدرآمد کرنے کے بجائے اسرائیل جیسے ظالم کی پشت پناہی کررہے ہیں۔

فلسطینی جو اپنی ہی سرزمین پر اپنے وطن کے حصول کی جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ اسرائیل جیسے گھس بیٹھیے اپنی ناجائز ریاست قائم کرکے فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں اور عالمی برادری خاموشی سے اس ظلم کا تماشا دیکھ رہی ہے۔ یہودیوں کے ہاتھوں فلسطینی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان بہت طویل ہے لیکن حالیہ دنوں میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی آبادی پر جو بم باری کی جارہی ہے، اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ اسرائیل اپنے خفیہ غیر اعلانیہ اتحادیوں کے ساتھ کوئی نئی ’’گیم تھیوری‘‘ یا منصوبہ لے کر آیا ہے تاکہ جنگ بندی کے نام پر کوئی ’’نیا معاہدہ‘‘ فریم کیا جاسکے، جسے ’’امن معاہدے‘‘ کا نام دے کر عرب امارات کی طرح دیگر مسلم ممالک بالخصوص عرب ممالک کو شامل کرنے کا جواز بنایا جاسکے۔

رواں ماہ رمضان کے آخری جمعہ (جمعۃ الوداع) کو اسرائیلی فورسز نے مسجد الاقصیٰ میں نمازیوں پر چڑھائی کردی اور فلسطینی علاقے غزہ پر اسرائیل کی جانب سے فضائی حملے بھی کیے گئے، جس میں سیکڑوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے نہ صرف حملے جاری ہیں بلکہ ان کی جانب سے حملوں میں تیزی لانے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں مذمت کی جارہی ہے جبکہ دوسری جانب غزہ کی صورتحال پر او آئی سی بھی سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہے۔ تاہم حماس کی جوابی کارروائی کے بعد اسرائیل کے کسی حد تک ہوش ٹھکانے آئے ہیں۔

اسرائیل اپنی دانست میں 1967 کی عرب جنگ کے نتائج سجائے ہوئے، جب اس کی جانب سے ’’مشرقی بیت المقدس‘‘ اور ’’غرب اردن‘‘ کے ساتھ ساتھ شام میں گولان کی پہاڑیوں، غزہ کی پٹی اور مصر میں ’’آبنائے سینا‘‘ پر بھی قبضہ کرلیا گیا تھا۔ اس جنگ کے بعد سے اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان بہت کچھ بدل چکا ہے، جبکہ اسرائیل کی جارحیت کو اس جنگ کے نتائج سے مزید تقویت ملی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت سے آج تک مشرقی بیت المقدس، غزہ کی پٹی اور غرب اردن کے علاقوں میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان غیر معمولی تناؤ چلا آرہا ہے اور اس وقت ان علاقوں میں اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے۔ جبکہ مشرقی بیت المقدس سے فلسطینی مسلمانوں کو ان کے گھروں سے جبری طور پر نکالا جارہا ہے۔

عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو اب مسئلہ فلسطین پر آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں، جبکہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کو بھی اس معاملے پر اپنا سخت لائحہ عمل دینے کی ضرورت ہے، جو ماضی کے ’’امن معاہدے‘‘ جیسی اصطلاحات سے پاک ہو۔ کیونکہ اسرائیل تو وقفے وقفے سے فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ہی اس لیے کرتا آیا ہے کہ مسلم ممالک بالخصوص عرب ممالک کو اپنے ساتھ کسی معاہدے پر مجبور کرسکے، تاکہ اسے تسلیم کیے جانے کی کوئی راہ ہموار ہوسکے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اسرائیل کو اسی کی زبان میں جواب دیا جائے، یعنی گولی کا جواب گولی سے دیا جائے۔ بصورت دیگر اسرائیل اقوام متحدہ کی پیٹھ کے پیچھے چھپ کر پھر کوئی ’’معاہدہ‘‘ کرنے میں کامیاب ہوجائے گا اور موجودہ جارحیت کے پیچھے بھی اس کی یہی ’’گیم تھیوری‘‘ ہے، جسے سمجھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بہت سے عرب ممالک متحدہ عرب امارات کے بعد اسرائیل سے امن معاہدہ طرز کے معاہدے کےلیے جواز تلاش کررہے ہیں۔ لہٰذا اس بار ہوش اور عقلمندی سے کام لینے کی ضرورت ہے اور اسرائیل کے خلاف حماس جیسی قوتوں کی ہر ممکن امداد اور معاونت کرنے کی ضرورت ہے۔

لیکن یہاں یہ بات فراموش نہیں کی جاسکتی کہ ایک ایسے دن کا وعدہ ہے جب مجاہدین اسلام نہ صرف بیت المقدس کو صہیونی اور طاغوتی قوتوں سے آزاد کرائیں گے بلکہ دنیا بھر میں اپنے حقیقی رب کی حاکمیت اعلیٰ قائم کریں گے۔ تو پھر خوف کس بات کا ہے اور کمزوری کیوں کر دکھائی جارہی ہے؟ جبکہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کو دھوکا دیا گیا اور کیا اس بار بھی بھی ہم کوئی نیا دھوکا کھانے کےلیے خود کو تیار کررہے ہیں۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بلیک ستمبر: کیا 1970 میں فلسطینیوں کے ’قتل عام‘ میں ضیاالحق بھی ملوث تھے؟

عابد حسین اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری حالیہ تنازع پر دنیا بھر کے مختلف …