جمعہ , 18 جون 2021

فلسطین۔۔۔ اوہ، آئی سی!

عاصمہ شیرازی

فلسطین آنکھ سے نکلا ہوا وہ آنسو ہے جو صرف درد رکھنے والے دلوں پر ہی اثر کرتا ہے۔

قومی اور بین الاقوامی سکرینیں فلسطینیوں کے نوحوں سے بھری ہیں، نشست گاہوں اور یخ ہالوں میں فلسطین کے مظلوم عوام سے ہمدردی کی جا رہی ہے۔

فلسطین کے کھوئے مستقبل اور بے خبر حال سے نا آشنا معصوموں کے سکرین شاٹس ٹوٹے دلوں کے ساتھ واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز ہیں، دس سالہ بچی کے ادھورے خواب دھڑا دھڑ شیئر کیے جا رہے ہیں۔۔۔ مگر اس سے آگے کیا؟

پھر برق فروزاں ہے سرِ وادیِ سینا

پِھر رنگ پہ ہے شُعلۂ رُخسارِ حقیقت

پیغامِ اجل دعوتِ دیدارِ حقیقت

اے دیدۂ بینا!

اب وقت ہے دیدار کا دم ہے کہ نہیں ہے

فلسطین اور کشمیر کے مظلوم انسان نہ تو باقی خوشحال و آزاد دُنیا سے شکوہ کُناں ہیں اور نہ ہی کسی سے اچھے کی اُمید رکھتے ہیں۔ ہاتھوں میں پتھروں کا ہتھیار، آنکھوں میں آزادی کے خواب جبکہ چہروں پر دُنیا کے لئے طنزیہ مسکراہٹ۔۔۔ پیغام ہے کہ مزاحمت تو یوں بھی کی جا سکتی ہے۔۔۔ جنگ تو خالی ہاتھوں۔۔۔ بغیر میزائلوں، ٹینکوں اور ایٹم بم کے بھی لڑی جا سکتی ہے۔

فلسطین کی فوج کے ننھے سپاہی، نوجوان لڑکیاں، بہادر لڑکے، حوصلہ مند بوڑھے اور توانا جذبوں کی حامل مائیں، بیٹیاں، عورتیں ہر روز ایک نئی کربلا کا سامنا کرتے ہیں اوراُن کے خاموش سوال پونے دو ارب مسلمانوں کے ضمیر پر تازیانے برساتے ہیں کہ ناتواں اور تنہا سہی مگر دیکھو۔۔۔ جنگ تو یوں بھی لڑی جا سکتی ہے۔

گذشتہ تقریبا آٹھ دہائیوں سے اب تک فلسطین اپنے حق خود ارادیت کی جدوجہد میں ہے۔ پاکستان کے ساتھ فلسطینیوں کی آرزوئیں کشمیر کی صورت جُڑی ہیں۔ فلسطینی کشمیریوں کے ذریعے پاکستان کی شہ رگ ہیں اور اس رشتے کا آغاز خود بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے کیا تھا۔

محمد علی جناح ہوں یا ڈاکٹر محمد اقبال۔۔۔ فلسطین کے لیے پاکستان کے وجود میں آنے سے لے کر اب تک قومی قیادت اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ فلسطین کے عوام کم ازکم پاکستان کی طرف اُمید سے ضرور دیکھتے ہیں اور اب تک پاکستان کی حکومتوں اور عوام نے اُن امیدوں کو بہرحال توڑا نہیں ہے۔ قائد اعظم نے اپنی رحلت سے قبل خارجہ پالیسی کی بُنیاد ہی اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے پر رکھی۔

قائداعظم نے ایک نہیں کئی ایک مقامات پر فلسطین کے حق میں اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف واضح بیانات دیے۔ 26 دسمبر 1938 کو مسلم لیگ کے پٹنہ میں ہونے والے اجلاس میں قائد اعظم نے ان خیالات کا اظہار کیا: ’مسلمانان برصغیر اپنے عرب بھائیوں کی جدوجہد آزادی برائے خود مختار ریاست کے معاملے میں ان کی مدد سے ہرگز گریز نہ کریں گے۔‘

عجب معاملہ ہے کہ آج دُنیا بھر کے عوام چاہے امریکہ میں بستے ہوں یا یورپ میں، برطانیہ میں ہوں یا ہندوستان میں فلسطین کے حق میں ہم آواز ہیں جبکہ حکمران اسرائیل کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

حیران کُن بات تو یہ بھی ہے کہ لبرل اور ترقی پسند طبقہ سڑکوں پر ہے اور مذہبی اور قدامت پسند خاموش۔ کل اسلام آباد، لاہور، کراچی کی سڑکوں پر ’خونی لبرلز‘ قرار دیے جانے والے تو فلسطین کی حمایت میں جلوس نکالتے دکھائی دیے لیکن مذہب اور اسلام پر مرمٹنے کے دعویدار کہیں ریلیوں میں بھی نظر نہیں آئے۔

ستاون ملکوں کی حکومتوں اور او آئی سی نے بھی محض مزمتوں پر ہی بھروسہ کیا ہے۔ دو ہزار سترہ میں بننے والے اسلامی فوجی اتحاد نے بھی چُپ سادھ رکھی ہے۔

دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بنائی جانے والی اکتالیس ملکوں کی یہ فوج بھی صرف صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے یا سوچ رہی ہے کہ امریکیوں سے خریدا جانے والا اربوں ڈالر کا سامان حرب اسرائیل کے خلاف ہی کیسے استعمال کیا جائے۔

حال ہی میں دوستی کی پینگیں اور عرب اسرائیل بھائی بھائی کا نعرہ لگانے والے عرب ممالک فلسطینیوں کی کس مُنہ سے مدد کریں آخر زُبان بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

تلواروں کے رقص میں صرف سر ہی نگاہ میں ہیں وہ بھی صرف کمزوروں کے۔ ننگی ناچتی تلواریں زور آوروں کے خلاف بھلا کیسے استعمال ہوں۔۔۔ بھرم تیار نہیں اور حالات سازگار نہیں۔ اتحادی اسلامی فوج کے سربراہ راحیل شریف سے ہی استدعا ہے کہ’خُدا کے لئے اب تو آ جاؤ۔‘

اگر ہم یہ سمجھیں کہ روتی بلکتی ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھتی ننھی بچی کی پُکار کوئی محمد بن سلمان سُن لیں گے یا امارات کے شہزادے اور مسلم اُمّہ کے کرتا دھرتا۔۔۔ تو یہ ہماری غلط فہمی ہے۔

ہاں ان بلکتے بچوں کی پُکار غیرمسلم ملکوں میں بسنے والے ’کافروں‘ نے ضرور سُن لی ہے جو ہر روز سڑکوں پر نکل کر بتاتے ہیں کہ فلسطینیوں کی حمایت کے لئے مسلمان ہونا ضروری نہیں بلکہ اس کے لئے درد دل ہونا ضروری ہے اور دل۔۔۔

دل ہی تو کم لوگوں کے پاس ہے اور مفادات کے نام پر دماغ بہت۔۔۔

بقول فیض۔۔۔

پھر دل کو مصفَّا کرو، اس لوح پہ شاید

مابینِ مَن وتُو، نیا پیماں کوئی اترے

اب رسمِ سِتَم حکمتِ خاصانِ زمیں ہے

تائیدِسِتم مصلحتِ مُفتیِ دِیں ہے

اب صدیوں کے اقرارِ اطاعت کو بدلنے

لازم ہے کہ انکار کا فرماں کوئی اُترے

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بلیک ستمبر: کیا 1970 میں فلسطینیوں کے ’قتل عام‘ میں ضیاالحق بھی ملوث تھے؟

عابد حسین اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری حالیہ تنازع پر دنیا بھر کے مختلف …