اتوار , 20 جون 2021

انہدام جنت البقیع ۔ ایک سیاہ تاریخی باب

​تحریر: سائرہ نقوی
یہ ایک ناقابلِ تردید سچ ہے کہ تاریخ آلِ سعود کے سیاہ کارناموں سے پُر ہے اور ان میں انہدام جنت البقیع سیاہ ترین کارنامہ تصور کیا جاتا ہے۔ جنت البقیع کی موجودہ شکل مسمار شدہ ہے۔ اِس تاریخی مقام کو سن 1925 (یا 1926) میں آلِ سعود کے فرمانروا شاہ عبدالعزیز ابنِ سعود کے حکم پر منہدم کیا گیا تھا۔ جنت البقیع ایک قبرستان ہے جس میں اہلِ بیت علیہم السلام اور اصحابِ رسول رضی اللہ تعالی عنہم کی قبور ہیں۔ آلِ سعود عقیدہ وہابیت کے پیروکار ہیں جس کے مطابق قبور کی زیارت کرنا شرک و بدعت میں شمار ہوتا ہے۔ اس عقیدہ کے متضاد مسلم ممالک اہلِ بیت علیہم السلام و اصحابِ رسول رضی اللہ تعالی عنہم کی قبور کا احترام کرتے ہیں۔ چنانچہ زیارتِ قبور کے سلسلہ کو سعودی حکمرانوں نے بزورِ طاقت روکا اور جنت البقیع کو منہدم کر دیا۔
تاریخ میں بقیع کے انہدام کا ذکر دو بار ملتا ہے۔ پہلی بار اس مذموم فعل کا ارتکاب سن 1803 میں ہوا جب وہابیوں نے حجاز پر قبضہ کی غرض سے حملہ کیا۔ ان کا لشکر طائف کو فتح کرنے کے بعد مکہ مکرمہ کی طرف بڑھا اور وہاں کے مقدسات و گنبد کو گرا دیا۔ ان میں وہ گنبد بھی شامل تھا جو زم زم کے مقام پر تعمیر کیا گیا تھا۔ سن 1805 میں اِسی فعل کو دہراتے ہوئے مدینہ منورہ کی مساجد بشمول جنت البقیع کو منہدم کر دیا۔ قریب تھا کہ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی گرا دیا جاتا لیکن خوش قسمتی سے یہ سانحہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ بقیع کی تمام قبور کی اونچائی اور نشانات کو ختم کر دیا گیا اور زیارتِ قبور پر آنے والے زائرین کے لئے سخت سزا مقرر کی گئی۔ مسلم اُمہ نے مکہ و مدینہ کو مکمل تباہی سے بچانے کے لئے خلافتِ عثمانیہ کے قیام کی حمایت کی اور محمد علی باشا نے حملہ کر کے مکہ و مدینہ پر قبضہ حاصل کر لیا۔ سن 1818 میں عثمانی خلیفہ عبدالمجید اور عبدالحمید نے تمام مقاماتِ مقدسہ کی تعمیرِ نو کا فیصلہ کیا اور یہ سلسلہ سن 1860 تک جاری رہا۔
مغربی طاقتوں کی ایما پر خلافتِ عثمانیہ کو ختم کرنے کے بعد وہابی دوبارہ حجاز میں داخل ہوئے۔ اِس مرتبہ بھی انھوں نے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ تمام تاریخی ورثہ کو مسمار کر دیا۔ اس کے علاوہ مکہ مکرمہ میں واقع قبرستان "جنت المعلی” اور نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آبائی گھر کو گرا دیا۔ (وہابیوں نے اپنی طاقت کے اظہار کے لئے سرزمینِ حجاز کا نام بدل کر سعودی عرب رکھ دیا۔) اس قبیح فعل کے ردِ عمل میں تمام اسلامی دنیا نے صدائے احتجاج بلند کی۔ متحدہ ہندوستان میں آلِ سعود کے مذکورہ اقدام کے خلاف قرارداد منظور کی گئی۔ ایران عراق مصر انڈونیشیا اور ترکی میں مظاہرے ہوئے۔ مکہ مکرمہ میں جن محترم و بزرگ ہستیوں کی قبور کو منہدم کیا گیا ان میں حضرت بی بی آمنہ (س) حضرت خدیجہ بنتِ خویلد (س) حضرت ابو طالب (ع) اور حضرت عبدالمطلب (ع) شامل ہیں۔ جبلِ احد پر حضرت حمزہ (ع) اور دوسرے شہدا اور جدہ میں حضرت بی بی حوا (س) کی قبریں بھی آلِ سعود کے عقیدے کا نشانہ بنیں۔ اس کے علاوہ بنو ہاشم کے مخصوص افراد کے گھر بھی ڈھا دیے گئے جن میں حضرت علی (ع) سیدہ فاطمہ زہرا (ع) اور حضرت حمزہ (ع) کے گھر شامل ہیں۔ مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان جنت البقیع میں دخترِ رسول حضرت فاطمہ زہرا (س) امام حسن (ع) امام زین العابدین (ع) امام محمد باقر (ع) اور امام جعفر صادق (ع) کے روضوں کو منہدم کیا گیا۔ فرزندِ رسول حضرت ابراہیم (ع) ازواجِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ حضرت فاطمہ بنتِ اسد (س) حضرت ام البنین (س) حضرت حلیمہ سعدیہ (س) حضرت عثمان (رض) اور دوسرے صحابہ کرام (رض) کی قبور کی اونچائی کو ختم کر دیا گیا۔ موجودہ جنت البقیع میں قبریں دُور سے مٹی کے ٹیلے دکھائی دیتی ہیں جن پر چھوٹے چھوٹے پتھر اُبھرے ہوئے ہیں۔ زائرین کو قبور کے پاس جانے اور فاتحہ خوانی کی اجازت نہیں کیونکہ آج بھی حجاز (سعودی عرب) پر آلِ سعود قابض ہیں۔
آلِ سعود کی سرپرستی میں مقدسات کے انہدام کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اس کی وجہ حج و عمرہ کی کمائی سے حاصل ہونے والا منافع ہے۔ ایک ہی وقت میں زیادہ سے زیادہ حجاج اور زائرین کو رہائش فراہم کرنے کی غرض سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے آس پاس تعمیرات جاری ہیں۔ دورِ نبوی کے تعمیر شدہ کنویں اور پُل ختم کر دیے گئے ہیں۔ رسول اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ (ع) کے گھر کی جگہ مکہ ہوٹل تعمیر کیا گیا اور زوجہ رسول حضرت خدیجہ (س) کا گھر منہدم کر کے پبلک ٹوائیلٹ بنا دیے گئے ہیں۔ حضرت ابو بکر (رض) کی رہائش کی جگہ ہلٹن ہوٹل نے لے لی ہے۔ بلند و بالا مکہ کلاک ٹاور خانہ کعبہ کے عین قُرب میں تعمیر کیا گیا ہے جس کی پانچ منزلوں پر شاپنگ سنٹرز اور لگژری ہوٹلز ہیں۔ مستقبل قریب میں اسی طرز پر مزید ہوٹلز تعمیر کیے جائیں گے جن کی آمدنی سے سعودی حکمران امریکہ سے مزید ہتھیار خرید سکیں گے۔ آلِ سعود نے مکہ مکرمہ کو اقوام متحدہ کے ادارے کی "تاریخی ورثہ عمارات” میں بھی اسی وجہ سے شامل نہیں کیا تاکہ دنیا کو پتہ نہ چل سکے کہ یہاں کے تاریخی مقامات کو کتنی تیزی سے ختم کیا جارہا ہے۔ "مکہ ۔ شہرِ مقدس” نامی کتاب کے مصنف ضیاالدین سردار لکھتے ہیں: "سعودی حکمران بخوبی جانتے ہیں کہ ایک دن تیل ختم ہو جائے گا۔ اس لئے حج ان کی آمدنی کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔” آج کا جنت البقیع غم و الم کی داستان سناتا ہے۔ زائرین کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جب وہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم الشان روضے پر حاضری دے کر اُن کے خانوادہ کی بے سایہ قبروں پر جاتے ہوں گے۔

یہ بھی دیکھیں

بلیک ستمبر: کیا 1970 میں فلسطینیوں کے ’قتل عام‘ میں ضیاالحق بھی ملوث تھے؟

عابد حسین اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری حالیہ تنازع پر دنیا بھر کے مختلف …