پیر , 18 اکتوبر 2021

ملک میں قدرتی گیس کی پیداوار میں کمی

پاکستان میں اس وقت قدرتی گیس کی پیداوار یومیہ 3 ہزار 597 ملین مکعب فٹ ہے جو فروری 2017 میں تاریخ میں سب سے زیادہ 4 ہزار 126 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈ کی گئی تھی۔

ملک کی تین بڑی گیس فیلڈز سے 2017 سے گیس کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔

قادرپور گیس فیلڈ سے فروری 2017 میں گیس کی پیداوار 337 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈ کی گئی تھی جو 43 فیصد کم ہو کر 191 ایم ایم سی ایف ڈی پر آگئی ہے، اسی عرصے میں کندھکوٹ گیس فیلڈ سے پیداوار 37 فیصد کم ہو کر 208 سے 130 ایم ایم سی ایف ڈی اور سوئی گیس فیلڈ سے 444 سے 348 ایم ایم سی ایف ڈی ہوگئی ہے۔

اسی طرح ناشپا اور مکوڑی ایسٹ گیس فیلڈز سے پیداوار بالترتیب 7 اور 8 فیصد کم ہو کر 94 اور 79 ایم ایم سی ایف ڈی پر آگئی ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار شنکر تالریجا نے کہا کہ ماڑی گیس فیلڈ سے گیس کی پیداوار میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 641 سے 753 ایم ایم سی ایف ڈی پر آگئی ہے، جبکہ اوچھ سے پیداوار میں 3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 424 سے 436 ایم ایم سی ایف ڈی ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں گیس کے قابل واپسی ذخائر جون 2020 میں 62 ہزار 11 بلین کیوبک فٹ (بی سی ایف) کے مقابلے میں 2 فیصد اضافے سے دسمبر 2020 تک 62 ہزار 964 بی سی ایف ہوگئے تھے۔

شنکر تالریجا کا کہنا تھا کہ یہ اضافہ ماڑی ایچ آر ایل اور ماڑی ڈیپ کے گیس ذخائر میں بالترتیب 7 اور 8 فیصد اضافے اور 5 نئی فیلڈز بقا، منگریو، مامی کھیل جنوبی، توغ اور عُمیر کے شامل ہونے کے باعث ہوا۔

یہ بھی دیکھیں

توانائی کے بحران میں حکومت کا نئے ایل این جی ٹرمینل کی طرف جھکاؤ

اسلام آباد: بظاہر لگتا پے کہ حکومت نے موجودہ ایل این جی ٹرمینل کی مرمت …