اتوار , 20 جون 2021

زندہ باد غزہ

تحریر: علی احمدی

11 دن جنگ اور غزہ کی پٹی سے مقبوضہ فلسطین کی جانب 4 ہزار سے زائد راکٹ اور میزائل فائر ہونے کے بعد آخرکار اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم جنگ بندی پر مجبور ہو گئی اور اس نے جمعہ 21 مئی کی صبح سے یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ فلسطینی مجاہدین اور عوام غاصب صہیونی رژیم کے اس اقدام کو اپنے لئے بہت بڑی فتح قرار دے رہے ہیں۔ غزہ کی پٹی سے لے کر مقبوضہ فلسطین کے اندر بیت المقدس، مغربی کنارے اور دیگر علاقوں میں مسلمان فلسطینی شہریوں کے درمیان جشن کا سماں ہے۔ دوسری طرف صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے اسلامی مزاحمت کے خلاف کامیابی کے دعووں کے باوجود دیگر صہیونی حکام اور اہم شخصیات یکطرفہ جنگ بندی کے اعلان کو نیتن یاہو کی عبرتناک شکست اور اسرائیل کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ قرار دے رہے ہیں۔

جنگ کے دوران صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو اور دیگر صہیونی حکام اس بات پر زور دے رہے تھے کہ وہ مطلوبہ اہداف کے حصول تک غزہ کے خلاف جارحیت جاری رکھیں گے لیکن جب اسلامی مزاحمت کے تابڑ توڑ میزائل حملوں سے روبرو ہوئے تو مجبوری میں انہیں یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کرنا پڑا۔ صہیونی کابینہ کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق جاری کئے گئے بیانیے میں آیا ہے: "سکیورٹی سیاسی کابینہ نے متفقہ طور پر اور تمام سکیورٹی حکام، جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی، شین بیٹ (اندرونی حساس ادارہ) کے سربراہ، موساد (بیرونی حساس ادارہ) کے سربراہ اور قومی سلامتی کونسل کے سربراہ، کی ہدایت پر مصر کی جانب سے پیش کردہ غیر مشروط جنگ بندی کی پیشکش قبول کر لی ہے جسے لاگو کر دیا جائے گا۔” جنگ بندی جمعہ کی صبح 2 بجے سے لاگو ہو گئی ہے۔

غزہ میں اسلامی مزاحمتی گروہ حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے المیادین نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بارے میں کہا ہے: "اسلامی مزاحمت نے ثالثی کا کردار ادا کرنے والی قوتوں سے اس بات کی ضمانت لی ہے کہ غزہ پر جارحیت روک دی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا: "اس کے علاوہ بھی ایسے وعدے کئے گئے ہیں جن کی بنیاد پر قدس شریف میں شیخ جراح محلے اور مسجد اقصی سے صہیونی سکیورٹی فورسز کا انخلاء انجام پائے گا۔” اخبار القدس العربی کی رپورٹ کے مطابق، مصر حکومت کی زیر نگرانی صہیونی رژیم اور فلسطینی مجاہدین کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی شہری سڑکوں پر نکل آئے اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے جشن منانے لگے۔ غزہ کے گلی کوچے آتش بازی، گاڑیوں کے اجتماع اور خوشی کے ہارن بجنے کا سماں پیش کر رہے تھے۔

فلسطینی شہریوں کی بڑی تعداد اپنے گھر کی چھتوں پر کھڑے ہو کر نعرہ تکبیر لگانے میں مصروف تھی۔ یہ تمام مناظر اسلامی مزاحمت کی عظیم فتح اور فلسطین میں طاقت کے نئے توازن کی نوید دلا رہے تھے۔ جمعہ کے روز مسجد اقصی میں مسلمان فلسطینی شہریوں اور صہیونی پولیس کے درمیان ہلکی پھلکی جھڑپوں کا مشاہدہ کیا گیا۔ دوسری طرف صہیونی وزیراعظم نے اس عبرتناک شکست کے نتیجے میں اپنی شرمندگی اور ذلت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے اور دعوی کیا ہے کہ انہوں نے اسلامی مزاحمت کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔ اخبار رای الیوم کے مطابق نیتن یاہو نے اسلامی مزاحمتی گروہوں کے خلاف کھوکھلی دھمکیاں دہراتے ہوئے کہا: "میرے سامنے ایک بنیادی مقصد تھا اور وہ دہشت گرد تنظیموں پر حملہ ور ہو کر انہیں شدید دھچکا پہنچانا تھا۔”

بنجمن نیتن یاہو نے دعوی کیا: "ہم نے حماس کی زیر زمین سرنگوں کا ایک بڑا نیٹ ورک تباہ کر دیا ہے اور اب حماس دوبارہ انہیں استعمال نہیں کر سکتی۔ ہم نے 200 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے جن میں 25 اعلی سطحی فوجی کمانڈر بھی شامل تھے۔ جو بھی ان میں سے زندہ بچ گیا ہے وہ جان گیا ہے کہ ہمارے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔” اسی طرح صہیونی فوج نے بھی غزہ کی جنگ کے بارے میں ایک بیانیہ جاری کیا ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس جنگ میں حماس کی زیر زمین سرنگوں کا 100 کلومیٹر پر مشتمل حصہ تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس بیانیے میں مزید دعوی کیا گیا ہے کہ زمین پر موجود اور زمین سے نیچے حماس کے 1700 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ حماس کے 10 سرکاری دفتر تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ 340 راکٹ لانچر اور 35 مارٹر لانچر بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔

غزہ کے خلاف غاصب صہیونی رژیم کی حالیہ جنگ میں ابھر کر سامنے آنے والی حقیقت اسلامی مزاحمت کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت ہے۔ اسلامی مزاحمتی گروہ میزائلوں کی نوعیت، رینج اور تعداد کے لحاظ سے روز بروز زیادہ طاقتور ہوتے جا رہے ہیں۔ غزہ میں اسلامی مزاحمتی گروہ اس قدر طاقتور ہو چکے ہیں کہ انہوں نے محض بارہ دنوں میں دنیا کی بڑی فوجی طاقت سمجھے جانی والی غاصب صہیونی رژیم کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے اور غیر مشروط جنگ بندی کا اعلان کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ 4 ہزار سے زائد راکٹ اور میزائل فائر کئے جانا اور ان میں سے 50 فیصد راکٹ اور میزائل کامیابی سے زمین پر مطلوبہ ٹارگٹس پر گرنا ایسی نئی زمینی حقیقت ہے جس کا غاصب صہیونی رژیم اعتراف کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بلیک ستمبر: کیا 1970 میں فلسطینیوں کے ’قتل عام‘ میں ضیاالحق بھی ملوث تھے؟

عابد حسین اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری حالیہ تنازع پر دنیا بھر کے مختلف …