اتوار , 20 جون 2021

فلسطینی مزاحمت کی بہترین حکمت عملی

تجزیاتی رپورٹ: توقیر کھرل

فلسطین میں جنگ ختم ہوگئی ہے، بعض مقامات پر جھڑپیں جاری ہیں۔ یہ صورتحال کچھ دن تک جاری رہے گی۔ کسی بھی جنگ کے اختتام پر یہ فیصلہ کرنا کہ کون فاتح ہے، کون شکست سے دوچار ہوا، تجزیاتی جائزہ لینا ذہنی آزمائش ہے، لیکن تاریخ اور علوم سیاسیات کے طالب ہونے کے ناطے جنگ کے بنیادی اصول کا جائزہ لیتے ہیں۔ جنگ کے مخالف افراد اس جنگ کو فلسطینی مزاحمت کی صہیونی ریاست سے جنگ کو بڑی طاقت سے چھوٹے گروہ کی جنگ قرار دے رہے ہیں اور حماس کو مکمل ناکام ٹھہرا رہے ہیں۔ قارئین محترم! سیاست کی دنیا میں عام طور پہ چار جنگیں رائج ہیں، علوم سیاسیات نے جنگوں کو باقاعدہ اصطلاحات دی ہیں، جیسا کہ ایک جنگ جسے سخت جنگ کہتے ہیں، یا ہارڈ وار۔ دوسری جنگ سیمی ہارڈ وار، تیسری جنگ نفسیاتی جنگ اور چوتھی جنگ جو آج کے دور میں زیادہ رائج ہے، اسے ہم سافٹ وار یا نرم جنگ کہتے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطینی مزاحمت کی اس جنگ میں اسرائیل نے ہر محاذ پر جنگ آزمائی کی ہے، لیکن ہر محاذ پر ناکام یا کامیاب ہونے کا فیصلہ آپ خود کریں۔ اگر ہم جنگ کی پہلی قسم ہارڈ وار یا سخت جنگ کی بات کریں تو ایک ایسی جنگ ہے، جس میں چاقو ہتھیار سے لیکر تمام بم شامل ہیں، میزائل، ایٹمی ہتھیار، طیاروں کا استعمال بھی شامل ہوتے ہیں۔ جنگ کے پہلے روز سے اسرائیل نے تمام حملوں میں ڈیفنس کے تمام ذرائع کو استعمال کیا ہے، غزہ میں شدید بمباری کی ہے، جس میں کئی بچے اور خواتین شہید ہوئے ہیں۔ اسرائیلی ڈیفنس فورس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر سے ایک پیغام جاری کیا ہے کہ ہم دن رات آئرن ڈوم کو بہتر کرنے میں مگن ہیں، تاکہ اسرائیل کا دفاع مضبوط کیا جاسکے۔”

یہ دراصل صہیونی فورسز کا اپنی ٹیکنالوجی کے ناکارہ ہونے کا اعتراف ہے۔ ہارڈ وار میں ایک اور ناکامی یہ بھی ہوئی کہ اسرائیلی عبرانی چینل 12 کے مطابق "اسرائیلی افواج میں حماس کے سینیئر رہنماوں کو قتل نہ کرنے پر مایوسی پائی جا رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ میں راکٹ برسانے والے مقامات کے بارے میں ہماری خفیہ رپورٹس ناقص تھیں۔” اسرائیلی فوج کے تمام اعترافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ غزہ کے عوام کو آسانی سے ٹارگٹ کرتے رہے ہیں اور اپنے اصل اہداف کے حصول میں ناکام رہے، جبکہ دوسری طرف فلسطینی مزاحمت نے عوامی مقامات کو نشانہ نہیں بنایا، تاہم پھر بھی متعدد مقامات پر شہریوں کی بہت ہی کم تعداد ہلاک ہوئی۔

اگر جنگ کی دوسری قسم سیمی ہارڈ وار یا نیم سخت جنگ کا مشاہدہ کریں تو اس محاذ پر فلسطینی مزاحمت مکمل طور کامیاب دکھائی دیتی ہے۔ اسرائیلی فورسز نے آسان ہدف عوام کو بنایا اور کنفیوژن کا شکار فورسز نے چند عمارتوں کو بھی ٹارگٹ کیا۔ سیمی ہارڈ وار حماس کی بہترین حکمت عملی قرار دی جا رہی ہے۔ حماس نے عوامی مقامات کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ اسرائیل کی اہم عمارتوں اور تنصیبات کو ہدف کا نشانہ بنایا، اگر ہم سانحہ بغداد (4 جنوری 2020ء) ایرانی فورسز کا عراق میں امریکی بیس پر حملے کا جائزہ لیں تو اس حملہ میں بھی امریکی فوجیوں کو نہیں بلکہ امریکہ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد امریکی صدر نے کہا تھا آل از ویل۔

یہی حکمت عملی اسرائیل کے خلاف بھی اختیار کی گئی ہے اور سیمی ہارڈ وار میں ایک حد تک پہلے خفیہ ادارے یا انٹیلی جنس اپنا کام کرتے ہیں، جس کے تحت اطلاعات اور معلومات اکٹھی کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں دشمن ملک کی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو دیکھا جاتا ہے، اہم تنصیبات کا تعین کیا جاتا ہے کہ کہاں پر حملہ کرنا مناسب ہے اور کہاں پر نہیں۔ یعنی آدھا کام خفیہ ادارے کرتے ہیں جبکہ باقی نقصان پہنچانے کا کام ہارڈ وار کے ماہرین یا دوسرے لفظوں میں ہمہ اقسام کی فورسز یا افواج اس پر حملہ کرتی ہیں، اس لئے اسے سیمی ہارڈ وار کہتے ہیں۔ حماس نے اسرائیل کے اہم شہر تل ابیب پر حملہ کرنے سے قبل بتایا کہ ہم دو گھنٹوں بعد حملہ کریں گے، پھر بروقت حملہ کیا گیا، پوری دنیا سے براہ راست تل ابیب کے مناظر دیکھے، آسمان بلیسٹک میزائلوں سے بھر گیا تھا اور تاروں کی روشنی کم پڑ گئی تھی۔

یہ فلسطینی مزاحمت کی افسانوی طاقت اسرائیل کو سیمی ہارڈ وار میں ایک بڑی شکست سے دوچار کرنے کا عملی قدم تھا، حملہ کے بعد حماس نے کہا کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس سے بڑا سرپرائز بھی ہے۔ اسی باعث جنگ بندی بھی فلسطین کے استقامتی محاذ کی جانب سے قدس شریف، مسجد الاقصیٰ پر عدم جارحیت سے متعلق تل ابیب کو دی جانے والی مہلت کے بعد عمل میں آئی ہے۔ صہیونیوں کی سیمی ہارڈ وار میں ناکامی کا اعتراف اسرائیلی اخبار ہاریتز کے ایڈیٹر ان چیف ایلوف بین نے اداریئے میں ان لفظوں میں کیا ہے کہ "غزہ میں جاری کارروائی کی وجہ سے اسرائیلی فوج کی تیاریوں، رویئے اور ناکامیوں کا سلسلہ بے نقاب ہوگیا ہے اور اس کے پیچھے بے، بس اور پریشانی کا شکار اسرائیلی حکومت اور اس کی قیادت ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی کھل گئی ہے کہ اسرائیلی قیادت کنفیوژن کا شکار اور بے بس ہے۔ غزہ میں تباہی، بربادی اور موت پھیلا کر فاتحانہ تاثر پیش کرنے کی بیکار کوشش کرنے اور اسرائیلیوں کی زندگی تہس نہس کرنے کی بجائے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کو چاہیئے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کریں۔”

اب نفسیاتی جنگ اور سافٹ وار کا مشاہدہ کرتے ہیں، اسے بیانیہ کی جنگ بھی کہا جایا ہے، یہ جنگ ذہن سے ذہن کی جنگ ہے۔ اس میں تنصیبات یا عمارت کو نقصان نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی چاقو چھری جیسے کسی بھی ہیوی ہتھیار کا عمل دخل ہوتا ہے بلکہ انسانی سوچ کا عمل دخل ہوتا ہے۔ دوسرے انسان کی سوچ تبدیل کرنے کے لئے جو طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے، اس طریقہ کو سافٹ وار کہتے ہیں۔ اس جنگ میں بھی اسرائیل دوسری محاذوں کی ناکام اور رسوا نظر آتا ہے۔ تین دن قبل سی این این کے پروگرام امانپور میں دیے گئے انٹرویو کے دوران شاہ محمود قریشی سے یہ پوچھا گیا کہ کیا ان کے پاس سیز فائر سے متعلق کوئی خبر ہے۔؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ اسرائیل میڈیا کی جنگ ہار رہا ہے، وہ اپنے تعلقات کے باوجود یہ جنگ ہار رہا ہے۔

جب بیانا گولوڈریگا نے ان سے پوچھا کہ آپ کن تعلقات کے بارے میں بات کر رہے ہیں تو پاکستانی وزیرِ خارجہ نے جواب دیا کہ "ڈیپ پاکٹس۔” اینکر نے پوچھا: اس کا کیا مطلب ہے؟ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ بہت بااثر لوگ ہیں، وہ میڈیا کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس پر بیانا نے کہا کہ میں اسے ایک یہود مخالف بیان کہوں گی۔ اس بیان کے بعد صہیونی میڈیا میں کہرام مچ گیا۔ سی این این اینکر کا تعلق یہودی مذہب سے قرار دیا جا رہا ہے اور شاہ محمود قریشی کو جواب دینے پر صہیونی میڈیا کی طرف سے ہیرو بھی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ دراصل یہ نفسیاتی اور سافٹ وار میں اسرائیلی فورسز کی واضح ناکامی ہے۔ بیانیہ کی اس جنگ میں بوکھلاہٹ کا شکار اسرائیل نے غزہ مین الجزیرہ کے دفتر کو بھی تباہ کر دیا اور سماجی رابطے کے ذریعہ فیسبک پر بھی اسرائیل مخالف مواد کو ہٹایا ہے۔

دنیا بھر کی طاقت، ٹیکنالوجی کا بہترین استعمال کرنے کے باوجود اسرائیلی فورسز فلسطینی مزاحمت کی بہترین حکمت کے باعث ناکام و رسوا ہوئی ہیں اور جنگ کے محاذ پر شکست و ریخت کا شکار ہوئی۔ اب آپ خود فیصلہ کیجئے افسانوی طاقت اسرائیل سپرپاور امریکہ کی حمایت کے باوجود غلیل اور میزائل سے مزاحمت کرنے والوں کی "دفاعِ ارض ِفلسطین” حکمت عملی بہترین تھی یا وہ ناکام ہوئے؟ علوم سیاسیات کے تناظر میں جائزہ لینے کے بعد آپ کے نزدیک یہ فلسیطنیوں کی ناکامی ہے تو بمباری کے نتیجے میں ملبے میں دبے فلسطینی بچے کے خاک آلود اور زخمی ہاتھ کی وکٹری کا نشان بناتی انگلیاں مظلومین کی فتح کا اعلان ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بلیک ستمبر: کیا 1970 میں فلسطینیوں کے ’قتل عام‘ میں ضیاالحق بھی ملوث تھے؟

عابد حسین اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری حالیہ تنازع پر دنیا بھر کے مختلف …