جمعرات , 9 دسمبر 2021

میانمار، عوام کی مربوط جدوجہد

زبیر رحمٰن

یکم اپریل 1937 میں برما برطانیہ کی کالونی بنا اور ’’بامو‘‘ پہلے وزیر اعظم بنے۔ کچھ عرصے بعد بامو نے مکمل آزادی کا مطالبہ کرکے بغاوت کردی اور 1940 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس جدوجہد میں آنگ سان کی بنیادی رہنمائی تھی جنھیں بعد میں ہلاک کردیا گیا۔

بامو کو برطانوی سامراج نے گرفتار کرلیا۔ 1948-62 تک برما خودمختار رہا۔ پھر 1962-2011 تک فوجی آمریت کے زیر عتاب رہا۔ 1962 میں جنرل نی ون کی حکومت قائم ہوگئی۔ جنرل نی ون نے بدھ ازم اور سوشلزم کا ملغوبہ بنا کر ’’برمیزوے ٹوسوشلزم‘‘ کے نعرے کے ساتھ اقتدار کا آغاز کیا۔ 1988 تک یعنی 26 سال یہ فوجی اقتدار جاری رہا۔

برما کمیونسٹ پارٹی کے خلاف آپریشن میں فوجی حکومت کو چین کی بھی معاونت اور مدد حاصل رہی۔ وسائل کی لوٹ مار کے لیے مختلف نسلی، ثقافتی اور مذہبی گروہوں سے زمینیں اور علاقے خالی کرانے کے لیے جاری آپریشن کے نتیجے میں 2 لاکھ سے زائد شہریوں کو بنگلہ دیش فرار ہونا پڑا، ہزاروں مارے گئے۔
1974 میں ایک نئے آئین کے تحت یہ فوجی اقتدار نیم فوجی اقتدار میں تبدیل کیا گیا۔ ’’برما سوشلسٹ پروگرام پارٹی‘‘ کا سربراہ بھی جنرل نی ون کو بنایا گیا۔ پھر اکثریتی بامار نسلی گروہ کے شاؤنزم کا استعمال کیا گیا۔ روہنگا، رافائسن، تاک، کاچن، شان اور دیگر نسلی اقلیتوں کا قتل عام کیا گیا ۔ نی ون کے اقتدار کا خاتمہ 1988میں ابھرنے والی عوامی بغاوت کے نتیجے میں ہوا۔

32 سال بعد یہ پہلا موقعہ تھا جب میانمار کے تمام نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے فوجی آمریت کے خلاف بغاوت کردی۔ گو اس بغاوت کو فوج نے کچل ڈالا لیکن نی ون کا اقتدار ختم ہو گیا۔ عام انتخابات ہوئے اور برما سوشلسٹ پروگرام پارٹی کو شکست ہوئی اور تحریک کے نتیجے میں جنم لینے والی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئی۔ اس کے نتائج کو فوج نے تسلیم نہیں کیا اور آنگ سان سوچی کو گرفتار کرلیا۔

فوجی آمریت کا یہ سلسلہ 2011 تک جاری رہا۔ تیل، گیس، کاکنی، بینکاری سمیت سگریٹ کی پیداوار اور سیاحت کے شعبہ جات تک فوج کی دو کمپنیاں ملک کی سب سے بڑی سرمایہ کار ہیں۔ اس وقت میانمار کی کل آبادی 5 کروڑ40 لاکھ کی ہے۔ 135 نسلی برادریاں سات صوبوں میں رہتی ہیں۔

میانمار قدرتی دولت سے مالا مال ہے۔ یہاں کی معیشت کا انحصار تیل، گیس، زراعت، ماہی گیری، زنک، تانبا، سریا، لیڈ، کوئلہ، قیمتی پتھر اور ربڑ پر ہے۔ آبادی کا 50 فیصد سے زائد دو ڈالر یومیہ سے کم آمدن پر گزارا کرنے پر مجبور ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16 فیصد بے روزگار ہیں اور 24 فیصد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

میانمار میں احتجاج کا یہ تازہ سلسلہ رواں سال یکم فروری کو سویلین اقتدار پر فوجی قبضے کے بعد شروع ہوا۔ نسلی اقلیتوں کے قتل عام میں ملوث ایک جرنیل من آنگ بلینگ کی سربراہی میں میانمار کی فوج نے گزشتہ سال نومبر میں ہونے والے عام انتخابات کی فاتح آنگ سان سوچی کی پارٹی ’’نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی‘‘ کی فتح کو دھاندلی کا شاخسانہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔ مگر میانمار میں اقتدار پر فوجی قبضے کے خلاف تحریک عروج پر ہے۔

فوجی حکومت کا مظاہرین اور اقلیتی نسلی گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور آپریشن سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں، ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ تقریباً 8 ہزار افراد گھر بار چھوڑ کر اندرون اور بیرون ملک محفوظ مقامات پر فرار ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ تقریباً 4000 افراد زیر حراست ہیں ، ادھر چین بدستور فوجی حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔

برما کی کمیونسٹ پارٹی کے خلاف کیے جانے والے کریک ڈاؤن کرنے پر چین، فوجی حکمرانوں کا ساتھ دے رہا ہے۔ ہڑتالوں اور احتجاجوں میں شریک ڈاکٹروں، پولیس اہلکاروں، افسران ریلوے ملازمین سمیت دیگر شعبوں کے محنت کشوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا رہی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ تمام برادریاں ، نسلی گروہوں ، مذہبی گروہوں اور قومیتوں جو آپس میں ہی نبرد آزما رہے تھے اب متحد ہو کر فوجی آمریت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

2017 میں روہنگیا مسلم اقلیت کی نسل کشی کا سلسلہ مکمل کرنے کے بعد2018 میں ریاست ’’کاچن‘‘ میں ہونے والے فضائی حملوں میں آئی ڈی پیز کو محفوظ انخلا کا راستہ فراہم کرنے کے بجائے ان کا راستہ روکا گیا۔ چن اور رفائن میں ایک سال تک انٹرنیٹ سروس کو معطل کیا گیا۔

موجودہ فوجی بغاوت کے خلاف جہاں امریکی سامراج اور عالمی ادارے چیخ و پکار کر رہے ہیں اور اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں وہاں یہی امریکا سامراج اور مغربی سامراج فلسطینیوں کے قتل عام پر اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں، اس لیے کہ امریکا اور چین دونوں کے مفادات برما اور مشرق وسطیٰ میں تیل اور دیگر معدنیات سے وابستہ ہیں۔

ادھر امریکا چین کے بجائے خود میانمار کے وسائل پر قبضہ جمانا چاہتا ہے۔ میانمار کے فوجی آمر کی چین اور روس حمایت کر رہے ہیں۔ حالیہ عرصے میں چین نے کان کنی، زراعت اور گارمنٹ کی پیداوار کے لیے بڑے پیمانے پر میانمار میں سرمایہ کاری بھی کی۔ ’’چین میانمار اکنامک کوریڈور‘‘ بھی چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے (پی آئی آئی) کا حصہ ہے۔ جو براستہ ریاست ’’منڈالے‘‘ چین کی بحر ہند تک تجارتی رسائی کو یقینی بنائے گا۔ ماضی میں میانمار میں اقتدار اور لوٹ مار کو جاری رکھنے کے لیے بامار نسلی اکثریت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔ فوجی حکومت کے خلاف جنرل اسٹرائیک کمیٹی فار نیشنلٹیز کے بینر تلے احتجاج میں فوجی اقتدار کے خاتمے اور 2008 کے وفاقیت پر مبنی متنازعہ آئین کے خاتمے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور تمام نسلی اقلیتوں کے محنت کشوں اور نوجوانوں کے اتحاد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

ماضی کے برعکس نسلی اکثریتی گروہ بامار کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی جانب سے صرف اتحاد اور مشترکہ جدوجہد پر ہی زور نہیں دیا جا رہا ہے بلکہ میانمار کی 72 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ نسلی اقلیتوں پر ہونے والے مظالم پر سرعام معافی کے پیغامات جاری کیے جا رہے ہیں۔ اب وہ دن دور نہیں کہ میانمار کے عوام فوجی آمریت کا نہ صرف خاتمہ کریں گے بلکہ میانمار میں ایک غیر طبقاتی اور آزاد سوشلزم کا سماج قائم کریں گے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مسلمان پسماند ہ کیوں؟

تحریر: جمیل مرغز جس طرح ہمارے دائیں بازو کے دانشور اور علمائے کرام، ترقی یافتہ …