ہفتہ , 16 اکتوبر 2021

پاکستان میں آم برآمد کرنے والوں کی ایرانی مارکیٹ پر خصوصی توجہ

اسلام آباد: پاکستان میں آم کے موسم کا آغاز ہو گیا ہے اور اس پھل کے برآمد کرنے والے ان کو ایران سیمت دیگر پڑوسی ملکوں میں برآمد کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے ایرانی منڈی سے فائدہ اٹھانے کا ایک اچھا موقع سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں سائٹرس اور سمر ایکسپورٹرز کی یونین کے صدر نے اس حوالے سے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ سال کے دوران، کورونا وبا پھیلنے کے باوجود 20 ہزار ٹن آم کو ایران میں برآمد کیا گیا ہے۔

"وحید احمد” نے مزید کہا کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں پاکستان سے ایران میں 18 ہزار ٹن آم کی برآمد، انتہائی قابل قدر ہے اور ہم پاکستانی آم کو ایران میں برآمد کرنے پر بہت خوش ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے رواں سال کے دوران، 150 ہزار ٹن آم کو مختلف ممالک میں برآمد کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے اور ایران میں 2020 کے مقابلے میں آم کی برآمد میں مزید اضافہ ہوگا۔

احمد نے کہا کہ پاکستان میں آم کی برآمد 50 فیصد سمندری راستوں، 25 فیصد فضائی راستوں اور 25 فیصد زمینی راستوں سے ہوتی ہےـ اس کے باوجود آم برامد کرنے والوں نے زمینی اور فضائی راستوں کے ذریعے آم کی برآمد میں مزید آسانی لانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کی سرحدوں پر صورتحال مستحکم ہے تاہم؛ ہم دونوں ممالک کے کسٹم اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایران میں کہیں بھی آم لے جانے والے پاکستانی ٹرکوں کے لائسنس کے اجراء پر راضی ہوجائیں۔

وحید احمد نے کہا کہ ایران- پاکستان کی سرحد پر آم کی لوڈنگ اور ان لودںگ، پھلوں کی کوالیٹی پر بُرے اثرات مرتب کرنے کا ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور آخری منزل تک پہنچنے تک پھلوں کی صحت پر اثر پڑ سکتا ہے؛ حالانکہ پاکستان سے ایران میں آخری منزل تک جانے سے مصنوع کے معیار اور ایرانی تاجروں کو مطمئن کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے آم کے پھلوں کی صحت کیلئے پاکستانی کمپنیوں کی منظوری حوصلہ افزا ہے اور آم برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کو مزید تقویت بخشے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ شمسی سال کے دوران، ایران کی وزارت زراعت اور پاکستان پلانٹ پروٹیکشن اتھارٹی نے ایران کو آم برآمد کرنے کیلئے چھ دیگر پاکستانی کمپنیوں کو تسلیم کرنے سے اتفاق کیا۔

پاکستانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سالانہ تقریبا ایک ملین 800 ہزار ٹن آم کی اس ملک میں پیداوار ہوجاتی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

توانائی کے بحران میں حکومت کا نئے ایل این جی ٹرمینل کی طرف جھکاؤ

اسلام آباد: بظاہر لگتا پے کہ حکومت نے موجودہ ایل این جی ٹرمینل کی مرمت …