جمعہ , 17 ستمبر 2021

سعودی عرب میں مساجد کے لاؤڈ سپیکر کی آواز کم کرنے کا فیصلہ زیر بحث

ریاض: سعودی عرب میں حکام نے حکومت کے اس اقدام کا دفاع کیا ہے جس کے تحت مساجد میں لاؤڈ سپیکروں کے استعمال کو محدود کیا جائے گا۔

گذشتہ ہفتے ملک میں اسلامی امور کی وزارت نے اعلان کیا تھا کہ مساجد کے لاؤڈ سپیکروں کی آواز کو اپنی بلند ترین سطح سے کم کر کے اسے ایک تہائی تک اونچا کرنے کے بعد اذان دی جا سکے گی۔

ان ہدایات کے مطابق عام نمازوں میں صرف اذان اور اقامت کو بیرونی لاؤڈ سپیکروں پر ادا کیا جاسکے گا جبکہ مکمل نماز یا خطبات لاؤڈ سپیکر پر نہیں دیے جاسکیں گے۔

وزارتِ اسلامی امور کے وزیر عبد اللہ لطیف الشیخ نے کہا کہ یہ اقدام عوامی شکایات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

تاہم اس حوالے سے سوشل میڈیا پر قدامت پسند سعودی عرب میں کافی تنقید کی جا رہی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ملک میں سوشل میڈیا پر ایک ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنا شروع ہو گیا جس میں ریستورانوں اور کیفے میں اونچی آواز میں موسیقی پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس فیصلے کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ اگر آواز زیادہ ہو تو مساجد کے اردگرد رہنے والے لوگوں کے لیے یہ تنگی کا باعث ہے۔

عبد اللہ لطیف الشیخ کا کہنا ہے کہ شکایات کرنے والوں میں ایسے والدین بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ لاؤڈ سپیکروں سے ان کے بچوں کی نیند خراب ہوتی ہے۔

ریاستی ٹی وی پر ایک ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’جن لوگوں نے نماز پڑھنی ہوتی ہے وہ امام کی اذان کا انتظار نہیں کرتے۔‘

انھوں نے اس اقدام کی مخالفت کرنے والوں کو ‘سلطنت کے دشمن‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ وہ عوامی امن بگاڑنا چاہتے ہیں۔

یہ پابندیاں ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ملک کو قدرے آزاد خیال اور مذہب کا عوامی زندگی سے کردار کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں۔

ملک میں معاشرتی پابندیوں میں نرمی آئی ہے۔ تاہم انھوں ملک میں آزادیِ اظہارِ رائے کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے اور ہزاروں ناقدین کو جیلوں میں بھی ڈالا ہے۔

ولی عہد محمد بن سلمان نے ملک میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جو کہ قدامت پسند ملک کے مذہبی علما کے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں ہے۔

انھوں نے عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دی، بغیر مرد کفیل کے کاروبار شروع کرنے کا موقع دیا اور ان کے ہی دور میں ایک خاتون سعودی عرب کی سٹاک ایکسچینج کی سربراہ بنی۔

اسی طرح آماد خیالی کا سلسلہ جاری رہا اور اپریل 2018 میں 35 برس بعد سعودی عرب کے سینما میں دوبارہ فلم دکھائی گئی، اور سعوی عرب میں پہلے اینٹرٹینمنٹ سٹی کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

طالبان نے سابق حکمرانوں سے برآمد لاکھوں ڈالر مرکزی بینک میں جمع کرا دیے

کابل: طالبان نے سابق حکومتی عہدیداروں سے برآمد ہونے والے ایک کروڑ 20 لاکھ امریکی …