اتوار , 1 اگست 2021

ابراہیم رئیسی کی فتح، مشرق وسطی کی سیاست کتنی تبدیل ہو گی؟

فرخ نذیر

سید ابراہیم رئیسی ایران کے نئے صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ سیاست عالم خصوصاَ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں یہ ایک تاریخی موڑ ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اس سے پہلے کہ ایران میں نئی حکومت کی مستقبل کی ممکنہ پالیسیوں پر بات کی جائے، نئے منتخب ہونے والے صدر کا مختصر سا تعارف ضروری ہے۔

پانچ سال کی عمر میں یتیم ہوجانے والے سید ابراہیم رئیسی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین سمجھے جاتے ہیں۔ ابراہیم رئیسی 1960 میں پیدا ہوئے۔ 1980سے 1990 تک کرج، تہران اور ہمدان کے ڈپٹی پراسیکیوٹر اور پراسیکیوٹر کے عہدوں پر فائز رہے۔ 2004سے 2014 تک ایران کے ڈپٹی چیف جسٹس کے عہدے پر براجمان رہے۔ 2017میں صدارتی انتخابات میں حصہ لیا ، حسن روحانی انتخاب جیت گئے اور رئیسی 38 فی صد ووٹ حا صل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔

2019ء میں سپریم لیڈر خامنہ ای نے انہیں چیف جسٹس کا عہدہ سونپا۔ ان کا شمار انقلاب ایران کی تحریک کے سرگرم نوجوان کارکنان میں ہوتا ہے، نہ صرف یہ بلکہ ابراہیم رئیسی ایران عراق 8 سالہ جنگ میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ قانون پر عمل درآمد کروانے اور جرائم کی روک تھام میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔

ایران میں حالیہ انتخابات کے موقع پر عالمی سیاست خصوصاَ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں کافی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ مثلاَ جنگ شام میں امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کو شکست، عراق اور شام سے داعش کا خاتمہ، عراق سے امریکی افواج کے انخلا کا پرزور مطالبہ ، افغانستان سے 18 سالہ طویل جنگ میں ناکامی کے بعد امریکہ کا انخلا اور اُس کے بڑے اتحادی اسرائیل کے خلاف مزاحمتی تحریکوں کی زبردست کامیابیاں۔ موجودہ حالات نے ثابت کیا ہے کہ ایران کا انقلاب امریکہ کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی۔ کم وسائل کے باوجود ایران کا اثر و رسوخ امریکہ کی توقعات کے برعکس عراق ،شام ،افغانستان ،یمن، لبنان اور غزہ تک پھیل چکا ہے۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڑیٹجک سٹڈیز کی 2019ء کی رپورٹ کے مطابق ایران اثر ورسوخ کی دوڑ میں مشرقِ وسطیٰ میں اپنے حریف ممالک کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔

اگر شام کی بات کی جائے تو امریکہ ، فرانس اور برطانیہ سمیت تقریباَ 60 ممالک نے بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہا لیکن ایران، روس اور کسی قدر چین نے امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کی توقعات پر پانی پھیر دیا اور بشار الاسد ایک بار پھرسات سال کے لیے شام کے صدر منتخب ہو گئے۔ اِسی طرح کسی حد تک عراق سے داعش کا خاتمہ ہو چکا ہے اور ایران کی حمایت یافتہ عراقی عسکری تنظیمیں نہ صرف طاقتور ہو چکی ہیں بلکہ امریکی افواج کے انخلا کا پرزور مطالبہ کر رہی ہیں۔ عراق سے امریکی فوجوں کے انخلا کا یہ پر امن مطالبہ عسکری جدوجہد میں بدل سکتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ عراق ایک ایران دوست ریاست بن چکا ہے تو غلط نہ ہو گا۔ سب سے بڑی بات امریکہ کے سب سے بڑے اتحادی اور مشرقِ وسطیٰ میں اِس کا اڈہ سمجھے جانے والے اسرائیل کے لیے خطرات بڑھ چکے ہیں۔ 2006ء کی دوسری لبنان جنگ میں حزب اللہ سے شکست کے بعد اسرائیل کو صرف لبنان کے محاذ سے خطرات لاحق تھے لیکن آج اسے بیک وقت تین محاذوں لبنان ،شام اور غزہ سے سنجید ہ خطرات کا سامنا ہے۔ حالیہ کشیدگی میں فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے زبردست طاقت کا مظاہرہ کر کے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے مضبوط اتحادی اسرائیل کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ایران اسرائیل ممکنہ جنگ کی صورت میں اسرائیل کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کا اعتراف خود صیہونی حکام بھی کر چکے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں کہ جب ایران کے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات جاری ہیں ،سید ابراہیم رئیسی کی کامیابی امریکہ اور اُس کے اتحادیوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ نئی ایرانی حکومت کی مستقبل کی ممکنہ پالیسیاں واضح ہیں جن میں مشرقِ وسطیٰ سے امریکہ کا انخلا، میزائل پروگرام کا فروغ اور اسرائیل کے خلاف مزید جارحانہ اقدامات شامل ہیں۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں کمزور امریکہ کو عراق اور شام سے مکمل انخلا پر مجبور کیا جائے گا تو دوسری طرف اسرائیل کے خلاف سخت موقف اپنایا جائے گا۔ عالمی سیاست کی بات کی جائے تو یورپی یونین حکام کے مطابق طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق ایران کا قریبی دوست چین 2028 تک سپر پاور بن جائے گا یعنی امریکہ کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کو ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

اب افغانستان کا کیا کریں (حصہ اول)

وسعت اللہ خان میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کی شام کراچی پریس کلب کے …