اتوار , 1 اگست 2021

ایف اے ٹی ایف ہی نہیں، پورا ورلڈ آرڈر منافقانہ ہے

ڈاکٹر ندیم عباس

چند سال پہلے کی بات ہے، بین الاقوامی یونیورسٹی میں قانون سے متعلق ایک کورس میں شریک تھے، جس میں بین الاقوامی اداروں کا تعارف اور ان کے کام کرنے کا طریقہ کار سمجھایا جا رہا تھا۔ پروفیسر آتے اور ان اداروں کا خوبصورت تعارف کروا کر چلے جاتے۔ دنیا میں ان کے خوبصورت کردار کو سراہنے کو دل کرتا۔ ایسے میں ایک پروفیسر آئے اور انہوں نے ان تمام اداروں کی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا۔ انہوں بتایا کہ اقوام متحدہ سے لے کر دنیا کے تمام ادارے دوسری جنگ عظیم میں مغرب کی جیت کے نشے کو لمبے عرصے تک قائم رکھنے کے لیے تشکیل دیئے گئے ہیں۔ ان کا اسٹرکچر ہی ایسا ہے کہ یہاں کسی بھی اس ملک، ادارے یا شخصیت کو کوئی فائدہ یا حق نہیں مل سکتا، جو اس نظام کے مقابل سوچ رکھتا ہے۔ ویسے تو یہ ہر سوچ کے خلاف ہیں، کشمیر اور فلسطین پر آپ چیختے رہیں، مگر کبھی بھی یہ ادارے کوئی کردار ادا نہیں کریں گے، کیونکہ یہ مقامات ان کے مقابل مزاحمت کا نظریہ رکھنے والے لوگوں کے ہیں، یہاں انسانی حقوق اور جمہوریت سب کی ماں مر جاتی ہے۔

ان کی اس بات پر میں نے بہت سوچا، واقعاً یہ ادارے سرمایہ دارانہ نظام اور مغربی غلبے کو فروغ دینے کی بیساکھیاں ہیں، جو اس نظام کو سہارے دیے کھڑی ہیں۔ مشرقی تیمور میں بات ان کے ہم نظریہ لوگوں کی تھی، راتوں رات مسائل کو حل کروا لیا گیا اور انڈونیشیا کے گلے پر خنجر رکھ کر فیصلہ کرا لیا گیا۔ اسی طرح آپ سوڈان میں درافر کا مسئلہ دیکھیں، وہ کیسے حل کرا لیا گیا۔ کردوں کا مسئلہ دیکھ لیں۔ آج امریکہ اور یورپ ان کی آزادیوں کے لیے ان کی حمایت نہیں کرتے بلکہ یہ ان کو خطے میں اپنے مفادات کا محافظ سمجھتے ہیں اور خطے کے ممالک کو توڑنے سے ڈرائے رکھنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کی بھی تربیت ایسے کر دی ہے کہ ان کی فکر و طرز زندگی مغربی رنگ میں رنگا جا چکا ہے۔

آج مراکش کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں ہڈی کے طور پر صحرا کا ایک بڑا حصہ دے دیا جاتا ہے، جس پر تنازع چلا آرہا تھا۔ آپ کو یہ اختیار کس نے دیا کہ آپ دوسری اقوام کی زمینوں کی بندر بانٹ کریں؟ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہی یہ قانون بنا دیا گیا کہ اب بارڈر تبدیل نہیں ہوں گے اور اگر کوئی بارڈر تبدیل ہوتا ہے تو اسے بین الاقوامی قانون تسلیم نہیں کرے گا۔ مگر اسرائیل کے معاملے میں دیکھیں، کیسے یہ قانون خاموش ہے۔ اسرائیل پورے فلسطین کو ہڑپ کر گیا اور اب جو بچا ہے، اس پر بھی آئے روز حملہ آور ہوتا ہے، مگر اس سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔

ہمارے وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی نے فرمایا ہے کہ "انڈیا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے فورم کو "سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے” اور انڈیا کو اس فورم کے سیاسی استعمال کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ ہمارے وزیر خارجہ صاحب نے اصول کی بات کی ہے اور دنیا کی کوئی لاجک اس کے خلاف ہو ہی نہیں سکتی۔ مگر شاہ صاحب آپ نے پاکستان کے ایک دشمن کا نام لے کر اس کے کردار کو پاکستانی عوام کے سامنے آشکار کیا ہے، مگر اصل اور بڑے کردار کو سامنے نہیں لائے۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ امریکہ پاکستان کو افغانستان کے معاملات میں دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے؟ جس کی وجہ سے اس نے کافی عرصے سے پاکستان کی معاشی شہہ رگ کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے اور ہر دو تین ماہ بعد اس کا اجلاس رکھ کر دنیا کے سامنے ہمارا ٹرائل کراتا ہے۔

آج امریکہ چاہے تو اسی آنے والے اجلاس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکل جائے گا اور ہم مالیاتی خود مختاری کی طرف بڑھ جائیں گے، مگر امریکہ ایسا نہیں ہونے دے گا۔ وہ سی پیک اور افغان معاملات پر اپنی من مانی کرنا چاہے گا۔ جب چین نے ایران کے ساتھ معاشی معاہدے کیے تو کسی امریکی عہدیدار کا بیان آیا تھا کہ چین ہمارے ورلڈ آرڈر کو نہ چھیڑے۔ یہ ورلڈ آرڈر اصل میں ہر آزاد ملک اور فکر کا گلا دبانے کا نام ہے۔ ورنہ دو ملکوں کے درمیان معاشی معاہدات جن کا تعلق معاشی سرگرمیوں کے فروغ سے ہے، ان پر اعتراض کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی ہے۔ اب دیکھ لیجئے امریکہ نے دنیا کے سامنے امریکہ کا اصل چہرہ لانے اور انسانیت پر اس کے مظالم کو بے نقاب کرنے والی اکیس ویب سائٹس پر پابندی لگا دی ہے۔ کیا یہ آزادی اظہار کا گلا گھونٹنا نہیں ہے؟ کیا اس سے آپ مدمقابل دانش کو دنیا کے سامنے آنے سے روک نہیں رہے؟ کیا اس سے آپ ان لوگوں کی آواز کو دبا نہیں رہے، جو آپ کے مظالم کو بے نقاب کر رہی ہے؟

اگر وہ جھوٹ ہے، اگر وہ پروپیگنڈا ہے؟ تو جناب یہ بی بی سی، سی این این، اے بی سی اور ڈبلیو نیوز تو ہر وقت آسمانی صحائف کی تلاوت چلاتے ہیں، اس لیے انتہائی مقدس ہیں اور جو ملک ان پر پابندی لگائے، امریکی و مغرب ان ممالک پر آزادی اظہار کے قوانین کے تحت پابندیاں عائد کر دیتے ہیں۔ امریکہ میں بیٹھے پالیسی ساز اس قدر تنگ نظر اور پسماندہ دماغ کے حامل ہوسکتے ہیں، شائد کچھ عرصہ پہلے تک ایسا کہنا بھی عجیب لگتا ہو، مگر آج وہ مدمقابل فکر سے خوفزدہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی اقدار بھی کھو چکے ہیں، جو انہیں کسی بھی طور پر فکر کو دبانے کی اجازت نہیں دیتی۔ انٹرنٹ کا نظام ان کی فکر کو پھیلانے کے لیے بنایا گیا ہے، جب مقابل فکر فیس بک، ٹویٹر غرض کسی بھی سائٹ پر آئے گی تو قابل گردن زنی سمجھ کر ختم کر دی جائے گی۔ اصل میں آزادی اظہار کا ڈھونگ رچاتے تھے، جس کی اصلیت آہستہ آہستہ سامنے آتی جا رہی ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

اب افغانستان کا کیا کریں (حصہ اول)

وسعت اللہ خان میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کی شام کراچی پریس کلب کے …