اتوار , 1 اگست 2021

اب افغانستان کا کیا کریں (حصہ اول)

وسعت اللہ خان

میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کی شام کراچی پریس کلب کے ہال میں انتہائی بوریت کے عالم میں دیگر ویہلے صحافیوں کے ہمراہ کیبل چینل پر کوئی تھکی ماندی ہندی فلم دیکھ رہا تھا ۔ایک آواز آئی سی این این لگاؤ جلدی سے۔کسی نے چینل بدلا۔ ایک اسکائی اسکریپر میں ایک طیارہ گھس جاتا ہے اور یہ منظر بار بار دکھایا جا رہا ہے۔

سب یہی سمجھے کہ یہ ہالی وڈ کی کسی نئی ایکشن تھرلر کا ٹریلر ہے۔ جس کے ہاتھ میں ریموٹ تھا اس نے ’’ابے یار کیا بوریت ہے ‘‘ کہتے ہوئے پی ٹی وی لگا دیا۔مگر وہاں پر بھی اسکائی اسکریپر میں طیارہ گھسنے کا وہی منظر دکھایا جا رہا تھا۔تب آہستہ آہستہ یقین آنے لگا کہ یہ کوئی فلمی ٹریلر نہیں بلکہ سچ مچ کی فلم ہے۔مگر یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ فلم کم ازکم اگلے بیس برس تک گلے میں پڑنے والی ہے۔

نائن الیون کے چھبیس روز بعد امریکا نے افغانستان پر ہلہ بول دیا۔ اب وہی امریکا نائن الیون کی بیسویں برسی سے پہلے پہلے افغانستان سے مکمل انخلا کی تیاری کر رہا ہے۔کوئی پوچھے کہ آیا کیوں تھا اور اب جا کیوں رہا ہے؟ بظاہر افغانوں کو ایک باعزت جمہوری نظام دینے آیا تھا اور اب بیس برس بعد اپنی عزت بچا کے رخصت ہو رہا ہے۔
اس امریکی رخصتی کے بعد جو کچھ ہونے والا ہے وہ ایک بار پھر پاکستان ہی بھگتے گا۔اگرچہ اس بار پاکستان دو ہزار چھ سو ستر کلومیٹر طویل مغربی سرحد پر تیزی سے باڑھ لگا رہا ہے۔بقول شیخ رشید یہ کام تیس جون تک مکمل ہو جائے گا۔

پر دیکھنا یہ ہے کہ یہ باڑھ سرحد پار سے آنے والی مصائب کی نئی باڑ کو کس قدر روک پائے گی۔پچھلے چالیس برس میں پاکستان کے ساتھ یہ تیسری بار ہونے جا رہا ہے۔دو بار تو اسے امریکا اور خلیجی ریاستوں کی امداد و تائید میسر تھی۔مگر تیسری بار کا ملبہ لگتا ہے پاکستان کو خود ہی صاف کرنا پڑے گا۔ اس ملبے کی نوعیت اور مقدار کیا ہو گی ؟ کم ازکم یہ تو معلوم پڑے۔

سات اکتوبر دو ہزار دو سے اپریل دو ہزار اکیس تک کے بیس برس میں افغانستان میں کم ازکم دو لاکھ اکتالیس ہزار مصدقہ اموات ہوئی ہیں۔ان میں اکہتر ہزار تین سو چوالیس سویلین اموات ہیں۔ان سویلینز میں سے سینتالیس ہزار دو سو پینتالیس افغانستان کی حدود میں اور چوبیس ہزار ننانوے پاکستانی حدود میں مرے۔ فوج ، نیم فوجی اداروں اور پولیس کے اٹہتر ہزار تین سو چودہ اہلکار قربان ہوئے۔ان میں سے لگ بھگ انہتر ہزار اہلکار افغان اور نو ہزار تین سو چودہ پاکستانی اہلکار تھے۔

چوراسی ہزارایک سو اکیانوے اموات حکومت مخالف جنگجوؤں کی ہوئیں۔ان میں افغان طالبان، داعش اور کالعدم ٹی ٹی پی کے حامی نمایاں ہیں۔ان میں سے اکیاون ہزار ایک سو اکیانوے اموات افغانستان میں اور تینتیس ہزار پاکستان میں ہوئیں۔

اس پورے عرصے میں تین ہزار پانچ سو چھیاسی غیرملکی فوجی ہلاک ہوئے۔ان میں سے دو ہزار چار سو بیالیس امریکی اور ایک ہزار ایک سو چوالیس دیگر ممالک کے فوجی تھے۔ بیس ہزار کے لگ بھگ غیر ملکی فوجی زخمی ہوئے۔نصف سے زائد کو کسی نہ کسی نفسیاتی مدد کی ضرورت بھی پڑی۔

ان کے علاوہ تین ہزار نو سو چھتیس وہ امریکی مرے جو فوج کا باقاعدہ حصہ نہیں تھے بلکہ ٹھیکے پر عسکری و دیگر خدمات انجام دے رہے تھے۔بیس برس کے دوران اس بحران نے پانچ سو انچاس این جی او رضاکاروں اور ایک سو چھتیس صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو بھی نگل لیا۔

دو ہزار دس سے اپریل دو ہزار اکیس تک کے دس برس میں اقوامِ متحدہ کے ماتحت متعلقہ اداروں کے انتہائی محتاط اندازے کے مطابق سات ہزار سات سو بانوے بچے جنگ کا ایندھن بن گئے اور اٹھارہ ہزار چھ سو باسٹھ زخمی ہوئے۔اس عرصے میں تین ہزار دو سو انیس خواتین براہ راست جنگ کے سبب ہلاک اور سات ہزار زخمی ہوئیں۔ ان میں عام عورتوں کے ساتھ ساتھ فلاحی کارکن اور صحافی خواتین بھی شامل ہیں۔

بیس برس میں تین کروڑ اسی لاکھ کی آبادی میں سے چالیس لاکھ افغان اندرونِ ملک دربدر ہوئے اور ستائیس لاکھ نئے پناہ گزین ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

اگرچہ ان بیس برس کے دوران ایک افغان کی اوسط عمر چھپن برس سے بڑھ کے چونسٹھ برس تک پہنچ گئی۔دورانِ زچگی شرحِ اموات نصف ہو گئی ، صحت و تعلیم کی سہولتوں میں نسبتاً اضافہ ہوا۔پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی ستائیس فیصد تک پہنچ گئی۔مگر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی افغانستان آج بھی خواتین کی سلامتی کے تناظر میں یمن کے بعد دوسرا سب سے غیر محفوظ ملک ہے۔سینتیس لاکھ افغان بچے اسکول سے باہر ہیں اور ان میں ساٹھ فیصد بچیاں ہیں۔

دو ہزار سات میں غربت کی شرح چونتیس فیصد تھی جو اب پچپن فیصد تک ہے۔امریکا نے گزشتہ بیس برس میں منشیات کی پیداواری روک تھام کے لیے افغانستان میں نو ارب ڈالر خرچ کیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دو ہزار دو میں افغانستان میں چوہتر ہزار ہیکٹر پر پوست کی کاشت ہوئی جو دو ہزار بیس میں بڑھ کر ایک لاکھ تریسٹھ ہزار ہیکٹر تک پہنچ گئی۔ گویا مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

یورپ سے باہر نیٹو اتحاد کی یہ سب سے طویل فوجی مہم تھی۔امریکا نے بھی اپنی سوا دو سو سالہ تاریخ میں اتنی طویل جنگ پہلے کبھی نہیں لڑی۔چار امریکی صدور اور چھ امریکی حکومتیں اس جنگ کے دوران تبدیل ہوئے۔

بییس برس پہلے تیرہ ہزار امریکی فوجی افغانستان میں اترے تھے۔خیال یہ تھا کہ اگلے چار ماہ میں فوجی اہداف حاصل ہو جائیں گے۔مگر دس برس بعد امریکی اور نیٹو فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار تک پہنچ گئی۔ آج چھتیس ممالک سے تعلق رکھنے والے ان فوجیوں کی تعداد دس ہزار کے لگ بھگ ہے۔جب کہ بائیس ہزار پانچ سو باسٹھ امریکی کنٹریکٹرز اس کے علاوہ ہیں۔

ان چھتیس ممالک کے دس ہزار فوجیوں کی ضرب تقسیم کی جائے تو امریکا کے ڈھائی ہزار ، جرمنی کے تیرہ سو ، اٹلی کے آٹھ سو چھیانوے ، جارجیا کے آٹھ سو ساٹھ ، برطانیہ کے سات سو پچاس، رومانیہ کے چھ سو انیس، ترکی کے چھ سو ، پولینڈ کے دو سو نوے ، منگولیا کے دو سو تینتیس، پرتگال کے ایک سو چوہتر ، ہالینڈ کے ایک سو ساٹھ ، ڈنمارک کے ایک سو پینتیس ، آرمینیا کے ایک سو اکیس ، آزربائیجان کے ایک سو بیس ، بلغاریہ کے ایک سو سترہ، ناروے کے ایک سو ایک، البانیہ کے ننانوے، آسٹریلیا کے اسی ، بلجئیم کے بہتر، بوسنیا کے چھیاسٹھ ، چیک ریپنلک کے باون ، ایستوینا کے پینتالیس ، لتھوینیا کے چالیس ، سلواکیہ کے پچیس ، اسپین کے چوبیس ، فن لینڈ کے بیس ، مقدونیہ کے سترہ، آسٹریا اور سویڈن کے سولہ سولہ، یونان کے گیارہ، یوکرین کے دس ، ہنگری کے آٹھ ، نیوزی لینڈ اور سلووینیا کے چھ چھ ، لٹویا اور لکسمبرگ کے دو دو فوجی افغانستان میں ” قیام ِ امن اور خوشحالی ” کے لیے کوشاں ہیں۔ اگلے ایک ماہ کے دوران یہ سب بھی روانہ ہو چکے ہوں گے۔ (داستان جاری ہے)

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایف اے ٹی ایف ہی نہیں، پورا ورلڈ آرڈر منافقانہ ہے

ڈاکٹر ندیم عباس چند سال پہلے کی بات ہے، بین الاقوامی یونیورسٹی میں قانون سے …