جمعرات , 21 اکتوبر 2021

جولان کے بارے میں امریکی حکومت اسرائیل کو جھٹکا دے سکتی ہے

واشنگٹن: شام کے جولان کے علاقے پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تسلیم کئے جانے کے فیصلے سے بائیڈن کی حکومت پسپائی اختیار کرتی نظر آ رہی ہے۔

امریکی ویب سائٹ freebeacon.com کے مطابق بائیڈن انتظامیہ، ٹرمپ حکومت کے، شام کے جولان علاقے کو غاصب صیہونی حکومت کی جانب سے باقاعدہ اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ رہی ہے ۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 2019 میں جولان علاقے پر صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے کو تسلیم کیا تھا۔

اس کے بعد 2020 میں سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جولان علاقے کا دورہ کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن نے جولان کو مقبوضہ علاقہ سمجھنے کی پالیسی کو کئی عشرے پہلے ہی ترک کر دیا ہے۔

اس مسئلے میں بائیڈن انتظامیہ کے موقف پر اس وقت سوال اٹھا جب موجودہ امریکی وزیر خارجہ اینٹی بلینکن نے پہلی بار فروری میں سابق حکومت کے فیصلے پر اپنی وزارت کے پابند ہرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔

فری بیکن نے جب اس مسئلے میں سوال کیا تو امریکی وزارت خارجہ کے عہدیدار نے کہا کہ یہ علاقہ فی الحال کسی کا نہیں ہے اور علاقے کے بدلتے حالات کے مد نظر اس پر قبضہ بدل سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی و ہندوستانی وزرائے خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے مزید فروغ کے لئے پر عزم

نیویارک: اسلامی جمہوریہ ایران اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل …