اتوار , 1 اگست 2021

اب افغانستان کا کیا کریں (حصہ دوم)

وسعت اللہ خان

نجیب اللہ حکومت نے تو سوویت انخلا کے بعد لگ بھگ تین ساڑھے تین برس اپنے بل پر گزار لیے تھے مگر اشرف غنی حکومت افغانستان سے اگلے چند ہفتے کے دوران غیرملکی فوجیوں کے آخری دستے کی رخصتی کے بعد کتنی دیر چل پائے گی ؟ امریکی سی آئی اے کا اندازہ ہے کہ کابل حکومت اگلے چھ ماہ بھی سہار جائے تو بڑی بات ہے۔

بظاہر معروضی تصویر یوں ہے کہ صرف پچیس فیصد افغانستان پر کابل حکومت کا کنٹرول ہے۔دیہی علاقہ لگ بھگ سو فیصد طالبان کے زیرِ اثر ہے۔پچاس سے زائد ضلعی ہیڈ کوارٹرز یا تو طالبان کے قبضے میں ہیں یا پھر گھیرے میں ہیں۔فوجی اہمیت کے کئی مقامات افغان دستوں نے پہلے ہی خالی کر دیے ہیں یا پھر رفتہ رفتہ پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ داخلہ اور دفاع کی وزارتوں میں ردوبدل کیاگیاہے۔ کابل حکومت نے طالبان کے لیے اور طالبان نے کابل حکومت کا ساتھ چھوڑنے والے فوجیوں اور پولیس والوں اور سویلین ملازمین کے لیے پیشگی عام معافی کا اعلان کر دیا ہے۔

کابل حکومت کی بے بسی کا اندازہ یوں ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ہر پسپائی کو ’’ جنگی حکمتِ عملی کے تحت منصوبہ بند پسپائی ‘‘ قرار دے رہی ہے۔یہ حالت دیکھ کر مجھے وہ دوست یاد آ رہا ہے جو ہر بار نشے میں دھت لڑکھڑا کے گرپڑتا۔کوئی سہارا دینے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتا تو وہ ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہتا ’’ یار میں نشے میں نہیں ہوں اپنی مرضی سے گرا ہوں ‘‘۔ جب ہم کہتے اچھا اب اپنی مرضی سے اٹھ کر بھی دکھاؤ تو لاچاری میں ہنسنے لگتا۔
امریکا یہ کہہ کر کابل حکومت کی ہمت بندھا رہا ہے کہ ناگزیر حالات میں خلیجی ممالک میں موجود پہلے سے تعینات پچاس ہزار امریکی فوجی بھی حرکت میں آسکتے ہیں اور امریکا فوجی انخلا کی رفتار سست بھی کرسکتا ہے تاکہ افغانستان میں طالبان کی برق رفتار پیش قدمی کے سبب توازن ِ طاقت بالکل ہی یکطرفہ نہ ہو جائے۔

مگر کابل حکومت کو بھی معلوم ہے کہ جس امریکا نے اسے بتائے بغیر بالا بالا طالبان سے معاملہ نپٹا کر انھیں برابر کا فریق تسلیم کر لیا وہی امریکا ایک ہارتی حکومت کو سہارا دینے آخر کیوں پلٹے گا۔

امریکا کو آٹھ برس پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ انگور کتنے کھٹے ہیں۔آپ جتنے بڑے طرم خان ہوں مگر گھر سے ہزاروں میل پرے آپ کتنی دیر تک حالات کو اپنی مرضی کے مطابق بنانے کی خاطر زور زبردستی سے کام لے سکتے ہیں۔جہاں افغان سرحد سے متصل سوویت یونین نہ چل پایا وہاں پانچ ہزار میل پرے سے آنے والا امریکا کب تک نہ ہانپتا۔

ویسے بھی ویتنام اور افغانستان سے انخلا کے تجربے میں صرف چھیالیس برس کا ہی تو فاصلہ ہے۔

امریکا نے جس طرح ویتنام میں حالات اپنے موافق کرنے کے لیے انیس سو بہتر سے انیس سو پچھتر تک کے تین برس کارپٹ بمباری کی۔بالکل اسی طرح دو ہزار تیرہ سے انیس کے درمیان چھ برس میں افغان طالبان کو فضا سے ستر ہزار جنگی پروازوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی اور ستائیس ہزار ٹن بم گرائے گئے۔ اس قدر محنت کے باوجود امریکا انھی طالبان کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ گیا جیسے کہ شمالی ویتنامیوں کے ساتھ پیرس میں ایک میز پر بیٹھنے پر مجبور ہوا تھا۔وہ میز امریکا کو باون ہزار فوجیوں کی موت کی قیمت پر ملی،مگر قطر میں طالبان کے ساتھ شئیر ہونے والی میز کی قیمت امریکا نے ویتنام کے تجربے سے بھی زیادہ چکائی۔

اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ افغان مہم جوئی پر بیس برس میں مجموعی امریکی خرچہ دو اعشاریہ چھبیس ٹریلین ڈالر (کھرب) کا ہوا۔اس میں سے پونے دو کھرب ڈالر سیدھے سیدھے اسلحے اور فوج پر صرف ہوئے۔دو سو چھیانوے ارب ڈالر فوجیوں کے علاج معالجے اور معذوری کی دیکھ بھالی سہولتوں پر لگ گئے۔پانچ سو تیس ارب ڈالر جنگی قرضے کے سود کی مد میں چلے گئے۔ساٹھ ارب ڈالر افغان فوج کی تربیت و تشکیل میں خرچ ہو گئے۔جب کہ ایک سو چوالیس ارب ڈالر افغانستان کی تعمیرِ نو کے نام پر مقامی وفاداروں، بچولیوں اور تعمیراتی ٹھیکیداروں میں بٹ بٹا گئے۔ بدلے میں ہاتھ کیا آیا۔کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔

ویسے بھی سب کچھ ہی بیساکھیوں پر ہے۔کابل حکومت کو جتنا بھی سالانہ بجٹ میسر ہے اس کا اٹھائیس فیصد دفاع پر خرچ ہو رہا ہے۔عالمی بینک کے مطابق افغانستان کا تجارتی خسارہ کل قومی پیداوار کے تیس فیصد کے برابر ہے۔بجٹ کا پچھتر فیصد دار و مدار غیر ملکی مدد پر ہے۔گزشتہ برس امریکا نے اس مددگاری پر ساڑھے پینتیس ارب ڈالر ، جرمنی نے ساڑھے اٹھائیس ارب ڈالر، برطانیہ نے ساڑھے اٹھارہ ارب ڈالر، جاپان نے سولہ ارب ڈالر اور فرانس نے چودہ ارب ڈالر کا حصہ ڈالا۔مگر یہ ایک سو گیارہ ارب ڈالر کہاں گئے ؟ نہ افغان کے پیر میں نظر آئے نہ تن پر۔

ابھی تو ایک اور انسانی مسئلہ بھی درپیش ہے۔ہر نوآبادیاتی یا قابض طاقت روزمرہ کام اور مقامیوں سے رابطے یا مخبری کے لیے اپنا نیٹ ورک قائم کرتی ہے۔ یعنی چوکیدار ، باورچی ، ڈرائیور ، کلرک ، پیغام رساں ، مترجم ، گائیڈ ، ٹرانسپورٹر وغیرہ وغیرہ۔

یہ لوگ بھی عام شہری ہوتے ہیں اور روزگاری مجبوریوں میں قابض طاقت کی نوکری کرتے ہیں۔مگر قابض طاقت کی مدِمقابل جنگجو تنظیمیں ان کارکنوں کو غدار یا مشکوک سمجھتی ہیں۔چنانچہ ان کارکنوں کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ کسی ممکنہ جانی نقصان یا سماجی بائیکاٹ کی ذلت کا سامنا کرنے کے بجائے قابض طاقت علاقہ چھوڑتے وقت انھیں بھی اپنے ہمراہ لے جائے۔

ویتنام سے جب امریکی افواج کا انخلا ہوا تو پینٹاگون بہت سے مقامی مددگاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو امریکا منتقل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔پھر بھی ایک بڑی تعداد پیچھے رہ گئی۔ ایسے لوگ جان بچانے کے لیے کشتیوں میں بیٹھ کر نامعلوم منزلوں کی جانب نکل کھڑے ہوئے۔ انھیں تاریخ میں ’’ بوٹ پیپل یا بوٹ ریفیوجیز ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

افغانستان میں گزشتہ بیس برس کے دوران لگ بھگ ایک لاکھ بیس ہزار افغان شہری امریکی اور اتحادی فوجوں کے لیے روزمرہ خدمات انجام دیتے رہے۔مگر مقامی آبادی بالخصوص طالبان کی جانب سے انھیں مسلسل مخاصمت اور دھمکیوں کا سامنا رہا۔بہت سے کارکن حملوں میں بھی مارے گئے۔اب جب کہ امریکی اور نیٹو دستے واپس جا رہے ہیں۔ان مقامی کارکنوں کا کیا مستقبل ہے ؟

امریکا نے اپنے مقامی خدمت گاروں کے لیے بیس ہزار امیگریشن ویزوں کے کوٹے کا اعلان کیا ہے۔ مگر اب تک صرف گیارہ ہزار ویزے ہی جاری ہو پائے ہیں۔کئی کارکن برس ہا برس خدمات انجام دیتے رہے مگر کسی بھی معمولی وجہ کے سبب ان کی ویزا درخواست مسترد ہو گئی۔اب یہ نمک خوار نہیں جانتے کہ بدلے حالات میں زندہ بھی رہ پائیں گے یا پھر کسی پناہ گزیں کیمپ میں نامعلوم عرصہ گذاریں گے۔

برطانیہ نے تقریباً تین ہزار کارکنوں کو امیگریشن ویزا جاری کیا ہے۔جب کہ جرمنوں نے سات سو کارکنوں کو اپنے ہاں بسانے کا عندیہ دیا ہے۔اگر سب ویسے ہی ہو گیا جیسا کہا جا رہا ہے تب بھی لگ بھگ ساٹھ فیصد کارکن پیچھے ہی رہ جائیں گے۔

بہرحال آنے والے مہینے صرف ان کارکنوں کے لیے ہی نہیں بلکہ افغانستان کے اندر اور اردگرد سب ہی کے لیے مشکل ثابت ہونے والے ہیں۔اقوامِ متحدہ نے پیش بندی کے طور پر لاکھوں ممکنہ پناہ گزینوں کے لیے ابھی سے انتظامات شروع کر دیے ہیں۔جانے کون کون سے ویرانے تازہ قبرستانوں میں بدلنے والے ہیں۔جانے دوآنکھوں کو اور کیا کیا دیکھنا ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایف اے ٹی ایف ہی نہیں، پورا ورلڈ آرڈر منافقانہ ہے

ڈاکٹر ندیم عباس چند سال پہلے کی بات ہے، بین الاقوامی یونیورسٹی میں قانون سے …