ہفتہ , 16 اکتوبر 2021

مساجد کے لئے بلا معاوضہ قرآنی آیات کندہ کرنے والا ہندو خطاط

حیدر آباد دکن: مشہور مقولہ ہے کہ ’فن کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‘ جس کی بہترین مثال بھارت کے شہر حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے والے انیل کمار چوہان ہیں۔

خلیجی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق انیل کمار چوہان تقریباً 30 سالوں سے حیدرآباد دکن کی مساجد کی محرابوں اور دیواروں پر دلکش انداز سے قرآنی آیات تحریر کرکے عبادت گاہ کی زیب و زینت کو چار چاند لگا چکے ہیں اور وہ اس کام کا معاوضہ بھی نہیں لیتے۔

انیل کمار چوہان تقریباً30سالوں سے مساجد کی محرابوں اور دیواروں پر دلکش انداز سے قرآنی آیات تحریر کر چکے ہیں
رپورٹ کے مطابق حیدرآباد دکن کے پرانے علاقے چارمینار کے قریب گلی حسینی عالم میں ایک چھوٹی دکان ہے جہاں نیم خواندہ انیل کمار ہندی، انگریزی، اردو اور تیلگو سمیت کئی مقاموں زبانوں میں سائن بورڈ لکھتے ہیں۔

انیل کمار کی خاص بات اردو اور عربی زبان کے حروف تہجی کو خوبصورت انداز سے تحریر کرنا ہے جس میں اسلامی تاریخ اور ثقافت کا رنگ بھی آجائے۔ وہ خود بھی اردو اور عربی کو خاص اہمیت دیتے ہیں جس کے لیے غزلیں کہتے ہیں اور نعتیں بھی پڑھتے ہیں۔

خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انیل کمار چوہان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 100 سے زائد مساجد کے لیے کی گئی خطاطی پر ہدیہ لیا، بعد ازاں 100 مساجد کے لیے بلامعاوضہ خطاطی کی اور اس دوران روحانی طور پر ملنے والے سکون نے معاوضہ لینے سے روکا۔

100مساجد کے لیے بلامعاوضہ خطاطی کی اور اس دوران روحانی طور پر ملنے والے سکون نے معاوضہ لینے سے روکا: انیل کمار
انیل کمار کا کہنا ہے کہ وہ ملک بھر سے ملنے والے فری لانس اسائنمنٹ کے طور پر 350 ڈالر ماہانہ کمالیتے ہیں۔

انیل کمار کے مطابق انہوں نےکبھی کسی اسکول سے عربی اسکرپٹ اور اردو زبان سے متعلق کوئی تعلیم حاصل نہیں کی۔

’عربی اسکرپٹ اور اردو زبان سے متعلق کوئی تعلیم حاصل نہیں کی‘
اس سے قبل انیل کمار چوہان نے بھارتی میڈیا سے گفتگو میں بتایا تھا کہ وہ اردو زبان کو نہیں جانتے تھے لیکن جب بھی وہ اردو زبان میں کسی تحریر کو پاتے تو کاپی کرتے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی و ہندوستانی وزرائے خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے مزید فروغ کے لئے پر عزم

نیویارک: اسلامی جمہوریہ ایران اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل …