ہفتہ , 22 جنوری 2022

یمن: سعودی اتحاد اپنی حرکتوں سے باز آنے والا نہیں

صنعا: سعودی عرب یمن میں جنگ بندی کی کوشش کرنے سے متعلق اپنے جھوٹے بیانات کے باوجود یمن کے مختلف علاقوں پر حملے کر رہا ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے صوبے الحدیدہ پر جارح سعودی اتحاد کےجنگی طیاروں اور ڈرون نے پروازیں کیں، توپوں کے گولے اور میزائل داغے اور بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے حملے کر کے 153 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔

اسی طرح صوبہ مأرب کے علاقوں "صرواح” اور "مدغل” اور صوبہ الجوف کے "خب” اور "الشعف” پر بھی جارح سعودی اتحاد کےجنگی طیاروں نے حملے کئے۔ ابھی تک ان حملوں سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے چند ماہ قبل یمن میں بحران کے خاتمے کیلئے ایک فارمولا پیش کیا تھا لیکن اس کے باوجود سعودی عرب، یمن کے مختلف علاقوں پر حملے کر رہا ہے۔

یمن کے خلاف جنگ اور جارحیت کا سلسلہ ایسے وقت میں جاری ہے جب سوئیڈن میں صنعاء اور ریاض کے وفد کے مابین 18 دسمبر 2018 کو الحدیدہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تاہم سعودی جنگی اتحاد نے اپنی ہی اعلان کردہ جنگ بندی کی ایک دن بھی پابندی نہیں کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ چھے برس سے یمن پر سعودی عرب کی جاری وحشیانہ جارحیت میں اب تک ہزاروں یمنی شہری شہید و زخمی ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں عام شہری بے گھر ہوئے ہیں اور یمن کی اسی فیصد بنیادی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں۔

اس جارحیت کے باوجود سعودی اتحاد اب تک یمن میں اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر سکا ہے۔

یمن کے نہتے شہریوں کو اپنی وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنانے والے سعودی اتحاد کی جانب سے یمنی جیالوں کے مقابلے میں انتہائی بے بسی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مآرب کی جنگ میں شرمناک شکست اور یمنیوں کے ڈرون حملوں نے سعودی شاہی خاندان کی رات کی نیندیں حرام کر کے رکھ دی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین باضابطہ گفتگو

انقرہ: ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین ٹیلی فونی گفتگو ہوئی ہے۔ ترکی …