اتوار , 1 اگست 2021

ہیٹی: صدر کے قتل میں سابق سرکاری عہدیدار کے ملوث ہونے کا دعویٰ

ہیٹی: کولمبین پولیس نے ہیٹی کے صدر کے قتل میں سابق سرکاری عہدیدار کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس چیف جنرل جورگ ورگس کا کہنا ہےکہ ہیٹی کی وزارت انصاف کے سابق عہدیدار جوزف فیلکس پر صدر کے قتل کے احکامات دینے کا شک ہے۔

پولیس چیف کا کہنا تھا کہ صدر کے قتل کے حوالے سے ہیٹی، کولمبین اتھارٹیز اور انٹرپول کے ساتھ کی جانے والی تحقیقات میں بظاہر یہ لگتا ہےکہ جوزف فیلکس نے صدر پر حملے سے تین روز پہلے ان کے قتل کے احکامات جاری کیے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ پولیس کی جانب سے خبر رساں اداروں کو پولیس چیف کا آڈیو میسج بھیجا گیا ہے جس میں اس حوالے سے انکشاف کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس چیف نے اپنے آڈیو کلپ میں مزید کہا کہ تحقیقات میں یہ پتا چلا ہےکہ جوزف نے کنٹریکٹ پر سکیورٹی سروسز فراہم کرنے والے سابق فوجیوں کو صدر کے قتل کے احکامات جاری کیے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ پولیس چیف کی جانب سے کیے جانے والے انکشاف سے متعلق کوئی ثبوت بھی فراہم نہیں کیا گیا ہے تاہم پولیس نے جوزف کے جن دیگر دو ساتھیوں کے قتل میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے ان میں سے ایک پولیس مقابلے میں مارا جاچکا ہے جب کہ دوسرا پولیس کی حراست میں ہے اور پولیس کو اب جوزف کی تلاش ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہناہے کہ صدر کے قتل کے بعد سے اب تک 20 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جن پر واقعے میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے جب کہ ان مشتبہ افراد میں زیادہ تر تعداد سابق کولمبین فوجیوں کی ہے۔

اس سے قبل پولیس چیف نے بتایا تھا کہ صدر کے قتل کے وقت 24 پولیس افسران ان کے گھر کے باہر سکیورٹی کے لیے تعینات تھے، ان تمام افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے جس شخص پر قتل کے احکامات دینے کا شبہ ظاہر کیا ہے اس کا بھی کوئی مؤقف اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہےکہ ہیٹی کے صدر کو 7 جولائی کو ان کی رہائش گاہ پر مسلح گروپ نے فائرنگ کرکے قتل کیا جب کہ اس قاتلانہ حملے میں خاتون اول بھی زخمی ہوئیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

افغانستان میں شدید جھڑپیں، طالبان کے حملے میں کاپیسا کے ڈپٹی گورنر ہلاک

کابل: افغانستان کے مختلف اضلاع میں افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں …