اتوار , 1 اگست 2021

افغانستان کے حالیہ واقعات اور ممکنہ مستقبل

سید منعم فاروق

آج کے اس بلاگ میں ہم زمینی حقائق، خطے کا ماضی، عالمی اتار چڑھاؤ دیکھتے ہوئے مسئلہ افغانستان پر روشنی ڈالیں گے اور یہ کوشش کریں گے کہ اس مسئلے کے حوالے سے قارئین کو سیر حاصل معلومات حاصل ہوجائیں۔

ماضی قریب کی بات کی جائے تو افغانستان سے امریکی و اتحادی افواج کے انخلا کے بعد وہاں کے زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ طالبان نے بیشتر علاقوں کی جانب پیش قدمی شروع کردی ہے۔ ایک بین الاقوامی جریدے کے مطابق طالبان اب تک افغانستان کے 85 فیصد علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کا اعتراف کرچکے ہیں، جن میں کچھ ممالک کے بارڈر کراسنگ کے علاقے بھی شامل ہیں اور اب وہ کابل کی جانب پیش قدمی کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ دوسری جانب افغان فوج نے بیشتر مقام پر طالبان کے سامنے سرینڈر بھی کیا اور کچھ مقامات پہ ابھی بھی گھمسان کی لڑائی جاری ہے، جس میں افغان فوج کے ساتھ چند گنے چنے لوکل ملیشیا یا اسلحہ بردار گروپس بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ افغانستان کے کچھ علاقوں میں موجود ہمارا مشرقی ہمسایہ بھارت بھی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر رات کے اندھیرے میں اپنے دیس روانہ ہوچکا ہے۔ کچھ اتحادی ممالک اپنے پورے مشن افغانستان سے نکال چکے ہیں جبکہ امریکا بھی 95 فیصد انخلا مکمل کرچکا ہے۔ اس کے ساتھ طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی دیکھ کر برطانیہ جیسے ممالک سے یہ آوازیں بھی اٹھنا شروع ہوچکی ہیں کہ اگر طالبان نے حکومت بنائی تو ان سے بات کرنے کا آپشن موجود ہے۔

اس سارے تناظر میں پاکستان کی طرف دیکھا جائے تو سب سے اہم کردار پاکستان کا ہے۔ طالبان کو بات چیت کی میز سے لے کر اتحادی افواج کے انخلا اور افغانستان کو امن کےلیے مکمل طور پر سپورٹ کرنے تک پاکستان ہر قدم پر افغانستان کے ساتھ نہ صرف کھڑا رہا بلکہ خطے میں امن کےلیے ہر فورم پر اپنا بھرپور کردار بھی ادا کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی کرتا رہے گا۔ پاکستانی حکومت نے پاکستان اور اس کے بعد افغانستان کے عوام کا مفاد مدِنظر رکھتے ہوئے پہلے امریکا کو اپنی سرزمین افغان حکومت کے خلاف استعمال کرنے سے انکار کیا اور اس کے بعد پوری دنیا میں افغانستان میں قیامِ امن کےلیے کوششیں تیز کردیں۔ اور آج امریکا کا اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ انسداد دہشتگردی کو لے کر پاکستان اور امریکا کے مفادات مشترکہ ہیں، اور پاکستان کا مسئلہ افغانستان کے پُرامن حل کےلیے کردار بہت اہم ہے۔
بھارت، جس کو افغانستان میں حالیہ واقعات کے بعد اپنے اربوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آرہی ہے، اس وقت شدید اضطراب میں ہے۔ افغانستان میں موجود بھارت نواز حکومت کے کچھ اراکین ابھی بھی بھارتی زبان بولتے نظر آرہے ہیں۔ افغانستان کے ایک عہدیدار نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ شاید افغانستان طالبان کے خلاف بھارت کو مدد کی درخواست بھی کردے۔ لیکن راقم کے ذاتی خیال میں یہ دیوانے کا خواب ہوسکتا ہے۔ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ افغانستان ایسی فرمائش کرے گا اور نہ ہی بھارت ایسی احمقانہ غلطی کرنے کا سوچ سکتا ہے۔ جہاں امریکا اور اس کی اتحادی افواج بیس سال سر کھپانے کے بعد بلانتیجہ واپس گئی، جہاں سے بھارت نے اپنے قونصل خانوں کے عہدیدار رات کے اندھیروں میں بھگائے، وہاں بھارت فوج بھیجنے کی کوئی بھی غلطی کیوں کرے گا؟ ہاں بھارت پاکستان دشمنی میں افغانستان کی موجودہ حکومت سے اس طرح کے تقاضے تو ضرور کرسکتا ہے کہ پاکستان پر مختلف طرح کے الزامات لگائے جائیں وغیرہ۔ لیکن ابھی تک کے زمینی حالات دیکھ کر یہی محسوس ہورہا ہے کہ افغانستان میں بھارت کا رہا سہا کردار بھی ختم ہونے والا ہے۔

افغانستان میں امن کےلیے وہاں موجود تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ بٹھانے کےلیے پاکستان نے ایک بار پھر آگے بڑھ کر جولائی کے تیسرے ہفتے میں اسلام آباد میں افغانستان امن کانفرنس کروانے کا پروگرام دیا ہے۔ جس میں افغانستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے مندوبین کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اور یہ خیال ہے کہ اس کانفرنس سے افغانستان میں طالبان اور موجودہ حکومت کو ایک صفحہ پر لانے کےلیے اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ خطہ بالخصوص افغانستان کے عوام امن کی فضا میں سانس لے سکیں۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایف اے ٹی ایف ہی نہیں، پورا ورلڈ آرڈر منافقانہ ہے

ڈاکٹر ندیم عباس چند سال پہلے کی بات ہے، بین الاقوامی یونیورسٹی میں قانون سے …