بدھ , 19 جنوری 2022

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے نئے سیکٹرز میں ججز کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل کردی

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی دارالحکومت کی عدلیہ کو سیکٹر ایف-14 اور ایف-15 میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل کرتے ہوئے مشاہدہ کیا ہے کہ زمین کا یہ ایوارڈ سراسر مفادات کا ٹکراؤ ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس بھی جاری کیا اور وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے معاشرے کے چند طبقات میں پلاٹوں کی تقسیم کی پالیسی پر وضاحت طلب کی۔

13 ستمبر کو اس کیس کی مزید سماعت کے لیے ایک لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) نے رائے شماری کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد اور اعلیٰ عدلیہ کے دیگر ججز کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر وقار مسعود خان اور ڈاکٹر شہزاد ارباب سمیت بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹ کیے تھے۔

سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد انہیں وزیراعظم کے معاون خصوصی کے طور پر ترقی دی گئی۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اسلام آباد کے گاؤں تھلہ سیداں اور جھنگی سیداں میں جائیدادوں کے مالکان کی جانب سے ان کی زمین کے حصول کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کر رہے تھے۔

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ‘یہ اطلاع ملی ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی نے حال ہی میں ایف-14 اور ایف-15 میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے لیے بیلٹنگ کی ہے، فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں کا عملی طور پر ہر جوڈیشل آفیسر، جس نے متاثرہ زمین کے مالکان کی شکایات اور حقوق کو حل کرنے اور فیصلہ کرنا ہے، اس سے فائدہ اٹھانے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے مفادات کے تصادم کے حوالے سے سنجیدہ سوالات سامنے آتے ہیں کیونکہ فائدہ اٹھانے والوں کو موجودہ مارکیٹ ریٹ سے کافی کم قیمت پر پلاٹ دیے جائیں گے اور اس طرح ہر فائدہ اٹھانے والے کا مالی مفاد ہوتا ہے، فہرست میں وہ عدالتی افسران بھی شامل ہیں جنہیں بدعنوانی کی وجہ سے برطرف کیا گیا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے مشاہدہ کیا کہ جوڈیشل آفیسر جو اس عدالت کی جانب سے سزا یافتہ تھا اور جسے بعد میں اگست میں سپریم کورٹ نے طیبہ نامی بچی کے کیس میں سزا کو برقرار رکھا تھا، وہ بھی اس سے فائدہ اٹھانے والوں میں سے ہے۔

آئی ایچ سی کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘اسی طرح جوڈیشل آفیسر جو جعلی ڈگری (ایگزیکٹ) کیس میں بدعنوانی کے الزامات پر برطرف کیا گیا تھا وہ بھی ایک الاٹی ہے’۔

ایف جی ای ایچ اے کے ریکارڈ کے مطابق تین برطرف ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز پرویزالقادر میمن، راجہ خرم علی خان اور جہانگیر اعوان کو ایف 14 اور ایف 15 میں ایک ایک کنال پلاٹ الاٹ کیا گیا جبکہ دو سابق سول ججز عدنان جمالی اور امیر خلیل کو ان شعبوں میں 14 مرلہ ہر ایک پلاٹ دیا گیا۔

پرویزالقادر میمن کو فروری 2018 میں ایگزیکٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) شعیب شیخ کے کو بری کرنے کے لیے رشوت لینے پر نوکری سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

راجہ خرم علی خان کو طیبہ تشدد کیس میں سزا سنائی گئی تھی اور ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا جبکہ جہانگیر اعوان کو گزشتہ سال کونسٹیٹیوشنل ایونیو پر جھگڑے کے دوران ہوائی فائرنگ کرنے پر برطرف کیا گیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ حکومت ایسے سرکاری ملازم کو کیسے انعام دے سکتی ہے جسے بدعنوانی یا بدانتظامی پر برطرف کیا گیا ہو۔

عدالت کے احکامات کے مطابق آئی ایچ سی کے عہدیداروں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ بھی معطل رہے گی۔

یہ بھی دیکھیں

صنعا پر جارح سعودی اتحاد کی وحشیانہ بمباری، بارہ شہید، گیارہ زخمی

صنعا: جارح سعودی اتحاد کے بمبار جہازوں نے پیر کی شام کو صوبے صنعاء کے …