جمعہ , 3 دسمبر 2021
تازہ ترین

چہرہ چھپانا یا نہ چھپانا خواتین کی مرضی ہے، ترجمان طالبان

کابل: افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد وہاں کے نظام اور طالبان کی طرز حکومت کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے جبکہ طالبان نے خواتین سمیت معاشرے کے تمام افراد کے بنیادی حقوق بحال رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

معروف ویب سائٹ ‘اردو نیوز’ کی رپورٹ کے مطابق دوحہ میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ‘ان کی حکومت میں خواتین چہرہ چھپائیں یا نہیں یہ ان کی مرضی ہوگی’۔

طالبان کے گزشتہ دور حکومت میں خواتین پر سخت پابندیاں عائد تھیں اور پردے کے حوالے سے بھی سختی تھی، اسی لیے خواتین حقوق سمیت پردے کے بارے میں مستقبل میں خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

سہیل شاہین نے واضح کیا کہ ‘کابل میں میڈیا کے اداروں میں جو خواتین کام کر رہی ہیں، وہ اسکارف لیتی ہیں، یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ اسکارف لیتی ہیں یا کوئی ایسی ہوں جو خود نقاب کرتی ہوں اور ان کی نوکری ایسی ہو’۔

انہوں نے کہا کہ ‘طلوع نیوز اور آریانہ نیوز کی خواتین ایک عملی مثال ہیں’۔

افغانستان میں حکومت سازی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں خواتین کی عدم شمولیت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘مستقبل میں خواتین کو تمام شعبوں میں رسائی ہوگی’۔

رپورٹ کے مطابق کابل میں سیاسی ملاقاتوں میں خواتین کے حوالے سے ‘وضاحت دیئے بغیر ’ سہیل شاہین نے کہا کہ ‘ابھی تو بالکل ہنگامی حالت اور خلا ہے، اس کو پر کرنے کی ضرورت ہے اور اسی کے لیے ہم فوری ضرورت کی بنیاد پر سیاست دانوں کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں’۔

انٹرویو کے دوران سہیل شاہین نے افغانستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے کہا کہ ‘نئی حکومت تمام افغان نمائندوں پر مشتمل ہوگی تاہم ہو سکتا ہے کہ نئی حکومت طالبان کے سابق دور حکومت کی طرح ہو جس میں سربراہ رئیس الوزرا ہوں’۔

ترجمان طالبان نے کہا کہ ‘افغانستان میں ایک ایسے آئین کی ضرورت ہے جو عوام کے مفاد میں ہو اور مرد و خواتین سمیت سب کے حقوق اس میں درج ہوں اور ہم ایک اور آئین بنائیں گے’۔

کابل میں گزشتہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 15 اگست کو قبضے کے بعد اپنی دوسری پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ کابل ایئرپورٹ پر ملک سے باہر جانے کے لیے موجود لوگوں کو واپس اپنے گھروں پر جانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ان کی سیکیورٹی کی ضمانت دیتے ہیں۔

امریکا کے انخلا کے عمل پر اعتراض کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ امریکا باصلاحیت افغانوں کا انخلا بند کرے، امریکی انخلا کے دوران انجینئروں اور ڈاکٹروں جیسے افغان ماہرین کو باہر لے جا رہے ہیں اور ہم ان سے کہہ رہے ہیں کہ یہ عمل روک دیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے سرکاری دفاتر میں نوکری کرنے والی خواتین کے حوالے سے غیر ملکی صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت اصل مسئلہ سیکیورٹی ہے، ہم اپنی بہنوں کو وزارتوں میں جانے کے لیے مشکلات سے دوچار نہیں دیکھنا چاہتے اور ہم ان کی بحفاظت واپسی کے لیے حالات سازگار ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

کابل میں پہلی پریس کانفرنس میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ خواتین کا معاملہ بہت اہم ہے، امارات اسلامی شریعت کے مطابق خواتین کے حقوق کی پابند ہے، ہماری بہنیں اپنے حقوق سے مستفید ہوں گی، قوانین کے مطابق مختلف شعبوں اور اداروں میں ان کا کردار ہے۔

خواتین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں خواتین ہمارے شانہ بشانہ کام کریں گی، عالمی برادری کے خدشات پر ہم یقین دلاتے ہیں کہ خواتین کے حوالے سے کوئی تفریق نہیں برتی جائے گی تاہم ہمارے قوانین کے مطابق ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری مسلمان خواتین شرعی اصولوں کے مطابق زندگی گزارتی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی سیکریٹری دفاع کی ہائپرسونک ہتھیاروں کیلئے چین کی کوششوں پر تنقید

سیول: امریکی سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے ہائپر …