ہفتہ , 16 اکتوبر 2021

افغان نائب صدر کا انکشاف، مرکزی حکومت شدید امریکی دباؤ میں تھی

کابل: افغانستان کے سابق نائب صدر امر اللہ صالح کا کہنا ہے کہ طالبان کے قیدیوں کو آزاد کرنے کے لئے امریکا دو سال سے دباؤ ڈال رہا تھا۔

افغانستان کے سابق نائب صدر امر اللہ صالح نے جو کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے پنجشیر میں موجود ہیں، کہا کہ ملک کو طالبانستان ہونے سے بچانے کے لئے جنگ جاری رکھیں گے۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امر اللہ صالح نے اشرف غنی کے ملک سے فرار ہونے کے بعد خود کو ملک کا صدر اعلان کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ملک کے صدر کی اچانک موت یا کسی حادثے کی صورت میں نائب صدر ہی صدر کی جگہ لیتا ہے۔

انہوں نے ایک ٹیلیویژن چینل کے ساتھ انٹرویو میں ملک کے بارے میں امریکا کے موقف کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

امر اللہ صالح نے کابل پر طالبان کے مکمل قبضے کے بعد پنجشیر میں پناہ لی اور احمد شاہ مسعود کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف مزاحمت کا محاذ تشکیل دے دیا۔

انہوں نے ملک کے آئین کا حوالے دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ملک سے صدر کے فرار ہونے کی صورت میں وہ عبوری صدر ہیں۔

افغانستان کے اس سیاست دان نے انڈیا کے چینل نیوز-18 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی سرنگونی کے تین اسباب تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلا سبب پاکستان کی جانب سے طالبان کی کھلی مدد، دوسرا سبب قطر میں امن مذاکرات اور تیسری وجہ طالبان، افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکا کا موقف ہے۔

امر اللہ صالح کا کہنا تھا کہ یہ بات پوری طرح سے واضح ہے کہ طالبان پر کبھی بھی دباؤ نہيں رہا اور انہوں نے حمایت کے اصل مرکز کے طور پر پاکستان سے کھلی حمایت حاصل کی۔

افغانستان کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ امریکا نے پیسے کی مدد سے پاکستان کا تعاون خریدنے کی کوشش کی۔

امراللہ صالح کے مطابق امریکا نے پاکستان کو جتنا پیسہ دیا پاکستان نے اتنی ہی طالبان کی مدد کی۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی و ہندوستانی وزرائے خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے مزید فروغ کے لئے پر عزم

نیویارک: اسلامی جمہوریہ ایران اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل …