پیر , 25 اکتوبر 2021

کراچی: کورنگی کی فیکٹری میں آتشزدگی، 16 افراد جاں بحق

کراچی: کراچی کے ضلع کورنگی کے علاقے مہران ٹاؤن میں ایک فیکٹری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 16 افراد جاں بحق ہوگئے۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق اب تک جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں 16 افراد کی لاشیں لائی جاچکی ہیں۔

قبل ازیں سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) کورنگی شاہ جہاں خان نے بتایا تھا کہ اب تک 15 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں، عمارت میں تقریباً 25 افراد پھنس گئے تھے اور سب کے جاں بحق ہونے کا اندیشہ ہے۔

عینی شاہد نے بتایا کہ مرنے والوں میں 3 سگے بھائیوں سمیت ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 5 افراد شامل ہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ فیکٹری میں سوٹ کیس اور دیگر سامان بنایا جاتا تھا اور کیمکل کے ڈرمز موجود تھے۔

ادھر ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کے نتیجے میں کوئی ہنگامی راستہ نہ ہونے کی وجہ سے فیکٹری میں 20 سے 25 افراد پھنس گئے تھے، فیکٹری کی کھڑکی توڑ کر لاشوں کو نکالنے کا عمل جاری ہے تاہم ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

کراچی پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران ایدھی کا ایک رضاکار گر کر زخمی ہوگیا جسے جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

تحقیقات کا آغاز ہوگیا، رپورٹ میڈیا سے شیئر کی جائےگی، مرتضیٰ وہاب
دوسری جانب میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ آگ لگنے کے باعث 10 افراد دم گھٹنے کے سبب جاں بحق ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمعہ کی صبح 10 بج کر 9 منٹ پر آگ لگنے کی اطلاع ملی اور 10 بج کر 10 منٹ پر عملہ روانہ ہوا، تمام تر اقدامات اٹھائے گئے لیکن مشکل اس لیے پیش آئی کہ ہنگامی اخراج کا راستہ نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ آگ بجھ گئی ہے اور اب کولنگ کا عمل جاری ہے، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ فیکٹری کی پہلی منزل پر 21 افراد کام کر رہے تھے جس میں سے 10 کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس اور فائر بریگیڈ کا عملہ معاملے کی تفتیش کر رہا ہے، رپورٹ مکمل ہونے کے بعد میڈیا سے شئیر کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ کا نوٹس، واقعے کی رپورٹ طلب
ادھر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کورنگی میں فیکٹری میں آگ لگنے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی اور لیبر ڈپارٹمنٹ سے رپورٹ طلب کرلی۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ بتایا جائے واقعہ کیسے پیش آیا اور حفاظتی تدابیر کیا تھیں، اتنا زیادہ جانی نقصان کیسے ہوا؟

ساتھ ہی انہوں نے متعلقہ حکام کو جاں بحق مزدوروں کے خاندانوں کی بھرپور مدد اور زخمیوں کا علاج کرنے کی بھی ہدایت کی۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ کے ڈی اے، ایس بی سی کی نااہلی کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، سندھ حکومت بتائے رہائشی پلاٹ پر کمرشل سرگرمیوں کی اجازت کس نے دی۔

انہوں نے کہا کہ جائے حادثہ پر کوئی حکومتی نمائندہ موجود نہیں ہے، ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے واقعے کی وجوہات جلد سامنے لائیں۔

خیال رہے کہ 10 فروری کو بلدیہ ٹاؤن میں واقع دھاگا بنانے کی فیکٹری میں رات گیارہ بجے کے قریب اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے چند لمحوں میں تین منزلہ عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

آگ لگنے کے باعث جھلس کر 3 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ فیکٹری کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

کراچی میں فیکٹری میں آتشزدگی کا بدترین واقعہ ستمبر 2012 کو پیش آیا تھا جس میں بلدیہ میں واقع علی انٹرپرائیز فیکٹری میں آتشزدگی کے باعث 250 سے زائد مزدو جاں بحق ہوئے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

لبنان کو ایرانی تیل کی ترسیل کا سلسلہ جاری

تہران: ایرانی ایندھن کا حامل ایک اور کاروان شام کے راستے لبنان میں داخل ہو …