جمعرات , 2 دسمبر 2021
تازہ ترین

یحیی السنوار، غاصب صیہونی رژیم کی آنکھ میں چبھتا ہوا کانٹا

تحریر: عبدالباری عطوان (چیف ایڈیٹر رای الیوم)

لیکوڈ پارٹی سے وابستہ غاصب صیہونی رژیم کے رکن پارلیمنٹ (کینسٹ) ڈیوڈ بیٹن نے حال ہی میں کہا ہے کہ ہمیں ہر قیمت پر غزہ میں حماس کے سربراہ یحیی السنوار کو قتل کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا: "یحیی السنوار نے اسرائیلیوں کو تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے۔۔۔۔ہمیں اسے قتل کرنا ہو گا چاہے جنگ کی صورت میں اس کی بھاری سے بھاری قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔۔۔وہ ہمارا ضدی دشمن ہے جو بے رحمی سے ہمیں نچا رہا ہے۔” ایک ریاستی ادارے کا رکن ہونے کی حیثیت سے ان کا یہ بیان قابل تعجب نہیں ہے چونکہ گذشتہ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اس جعلی ریاست کے سب سے بڑے حکومتی عہدیدار ہوتے ہوئے بارہا ایسے بیانات دے چکے ہیں۔

صیہونی رکن کینسٹ ڈیوڈ بیٹن نے مزید کہا: "گذشتہ بارہ برس کے دوران سابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہمیشہ اپنی پالیسی کی بنیاد غزہ میں حماس کی نابودی پر استوار کی اگرچہ واضح ہے کہ حماس کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ لیکن اگر نیتن یاہو اس وقت اقتدار میں ہوتے تو وہ غزہ کی جانب سے اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیتے اور سیاسی نتائج کی بھی کوئی پرواہ نہ کرتے۔ وہ امریکہ دورے کا لحاظ نہ کرتے اور فوجیوں کے زخمی ہونے سے بھی نہ گھبراتے۔ ہمیں مظاہرین کو غزہ میں اپنی سرحد کے قریب آنے اور آرمی کیلئے خطرہ بن جانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے تھی۔” ڈیوڈ بیٹن کی یہ باتیں نہ ہی غیر متوقع ہیں اور نہ ہی حیران کن ہیں۔ یہ درحقیقت ان مشکلات کا ردعمل ہے جو غزہ میں حماس کے سربراہ یحیی السنوار نے اسلامی مزاحمتی گروہوں کی مدد سے اس غاصب رژیم کیلئے پیدا کی ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ صیہونی رژیم کی انٹیلی جنس ایجنسیاں دن رات غزہ میں حماس کے سربراہ یحیی السنوار اور تازہ ترین شمشیر القدس معرکے میں ان کے دست راست اور عزالدین القسام بریگیڈز کے شجاع فوجی کمانڈر محمد الضیف کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ لیکن اب تک وہ ان دونوں مجاہدین کی ٹارگٹ کلنگ میں ناکام رہی ہیں۔ اس کی وجہ ان کی سستی یا کاہلی نہیں بلکہ ان دو افراد تک ان کی عدم رسائی ہے۔ دوسری طرف غاصب صیہونی رژیم کے سکیورٹی اور فوجی سربراہان اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ ایسے ممکنہ اقدام کی صورت میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کی انتقامی کاروائی بہت زیادہ دردناک اور تباہ کن ہو گی۔

یحیی السنوار غاصب صیہونی رژیم کی شدید پریشانی، بوکھلاہٹ، خوف اور شکست کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے غزہ کی پٹی میں اپنی اعلی قائدانہ صلاحیتوں کے باعث صیہونی رژیم کے دل میں شدید خوف ڈال رکھا ہے۔ انہوں نے غزہ میں اسلامی مزاحمت میں روح ڈال رکھی ہے اور یہ بذات خود صیہونی رژیم کیلئے ایک خوفناک حقیقت ہے۔ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ صیہونی حکام بظاہر غزہ کے خلاف نئی جنگ شروع کرنے کی دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کے بقول اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم بعض ایسی شدید مشکلات کا شکار ہے جنہیں دور کئے بغیر وہ غزہ میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کے خلاف کسی نئی جنگ کا سوچ بھی نہیں سکتی۔

سیاسی ماہرین کی نظر میں صیہونی رژیم کی پہلی مشکل جو شاید سب سے زیادہ اہم مشکل ہے وہ خود صیہونی حکام کے بقول غزہ پر زمینی حملہ کرنے کی عدم صلاحیت ہے۔ صیہونی فوج ہر گز غزہ پر زمینی حملہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اس کی بنیادی وجہ بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خوف ہے۔ صیہونی حکام اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر وہ غزہ کی جانب زمینی فوج کے ذریعے پیشقدمی کی کوشش کرتے ہیں تو اسلامی مزاحمتی گروہ انہیں شدید جانی نقصان سے دوچار کر دیں گے۔ صیہونی رژیم کی دوسری مشکل اسلامی مزاحمتی گروہوں کی زمین کے اندر سرنگیں ہیں۔ صہیونی چینل 13 کے فوجی امور کے تجزیہ کار ایلن بن ڈیوڈ نے اعلی سطحی سکیورٹی و فوجی ذرائع کے بقول دلچسپ حقائق بیان کئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2014ء میں غزہ کے خلاف زمینی حملے کے بعد سے اسلامی مزاحمتی گروہوں نے زمین کے اندر سرنگوں کا بڑا نیٹ ورک مکمل کر لیا ہے۔ ان میں سے بہت سی سرنگیں مقبوضہ فلسطین کے اندر تک پہنچتی ہیں۔ اسی طرح جنگ میں جزوی طور پر خراب ہونے والی سرنگوں کی بھی تعمیر نو کر دی گئی ہے۔ اس فوجی و سکیورٹی تجزیہ کار نے کہا کہ اگر اسرائیل غزہ پر کوئی نیا زمینی حملہ کرتا ہے تو اس کا جانی نقصان ماضی سے کہیں زیادہ ہو گا۔ غزہ کے خلاف نئی جنگ شروع کرنے میں غاصب صیہونی رژیم کی تیسری مشکل اس کی کم چوڑائی ہے۔ حال ہی میں شمشیر القدس معرکے کے دوران اسلامی مزاحمتی گروہوں نے اسرائیل کے مرکز کو بھی کئی سو میزائلوں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ جنگ بندی پر مجبور ہو گیا۔ سیاسی تجزیہ کار اسے صیہونی رژیم کی شکست قرار دے رہے ہیں۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

چین امریکہ تعلقات کا مستقبل کیا ہے؟

تحریر: ملیحہ لودھی امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے چینی ہم منصب شی جن …