جمعرات , 2 دسمبر 2021

امریکی ہتھیار طالبان کے قبضے میں آجانے سے آل سعود کو تشویش

ریاض: سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ ترکی الفیصل نے افغانستان کی صورتحال اور ایران نیز پاکستان کے کردار پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کی جانب سے امریکی ہتھیاروں کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران، پاکستان، چین اور روس کا افغانستان میں اثر و رسوخ ہے۔

ترکی الفیصل نے کہا کہ انہیں اس بات کی شدید تشویش ہے کہ افغانستان میں امریکی ہتھیار، القاعدہ جیسے عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ جائیں گے جس کی وجہ سے افغانستان سے انخلاء کے بعد امریکا کا سخت دشمن مضبوط ہو جائے گا۔

انہوں نے سی بی ایس چینل سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان سے امریکا کے انخلاء کے بارے میں کہا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ کیا الفاظ استعمال کروں، نا اہلی، بے احتیاطی اور بد انتظامی، یہ سب چیزیں اس پر صادق آتی ہیں۔

ترکی الفیصل نے کہا کہ آپ کو تو پتہ ہے کہ القاعدہ نے دوسروں سے سب سے زیادہ سعودی عرب کو نشانہ بنایا ہے، یہ بہت ہی تشویشناک پہلو ہے اور اب ممکن ہے کہ طالبان کے ذریعے اس کے اتحادی القاعدہ کے ہاتھوں میں ہتھیار پہنچ جائیں اور یہ زیادہ تشویش کا سبب بنے گا۔

یہ بھی دیکھیں

ویانا مذاکرات میں امریکہ کا پلڑا بھاری نہیں ہے: نیویارک ٹائمز

نیویارک: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ ٹرمپ کا رویہ، امریکا اور اسرائیل …