ہفتہ , 4 دسمبر 2021

موساد کی خونخوار جاسوس کی موت

تل ابیب: صیہونی حکومت کی مشہور جاسوس اور متعدد فلسطینی رہنماؤں کی قاتل کی موت ہو گئی۔

صیہونی حکومت کی خونخوار خفیہ ایجنسی موساد کی ایک مشہور جاسوس یائیل مان جس نے لبنان میں فلسطینی مزاحمت کے کئی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ اور شہادت میں اہم کردار ادا کیا 85 سال کی عمر میں ہلاک ہوگئی۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کے عہدیداروں نے سنیچر کے روز خونخوار خفیہ ایجنسی موساد کی مشہور جاسوس یائیل مان کی موت کی خبر دی تھی۔

رشیا ٹو ڈے کی ویب سائٹ کے مطابق 85 سال کی عمر میں مرنے والی اسرائیل کی جاسوس نے 1973 میں لبنان کے دار الحکومت بیروت میں فلسطینی مزاحمت کے رہنماؤں کے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اسرائیل کے چینل-7 کے مطابق یائیل مان کی پیدائش 1936 میں کینیڈا میں ہوئی تھی اور 1968 میں اس نے مقبوضہ فلسطین کی جانب ہجرت کی تھی اور 1971 میں موساد میں شامل ہوئی اور اس نے اپنی سرویس کے دوران متعدد جاسوسوں کو بھرتی کیا۔

صیہونی حکومت کی خفیہ خونخوار ایجنسی موساد نے اسے ناول لکھنے کے بہانے لبنان بھیجا اور بیروت میں جب تک وہ رہی خود کو اسکرپٹ رائٹر بتاتی رہی اور کہتی تھی کہ وہ لبنان اور شام میں خواتین کی زندگی پر ڈاکیومینٹری فلم بنا رہی ہے اور اس نے اپنی ملازمت کے دوران تحریک فتح کے کمال عدوان، کمال ناصر اور ابو یوسف النجار سیمت متعدد رہنماؤں کے قتل کا منصوبہ تیار کیا۔

صیہونی چینل کے مطابق یائیل مان جب تک بیروت میں تھی اس نے اپنے منصوبوں پر عمل کرنے کے لئے متعدد جاسوس تیار کئے اور کوئی بھی جاسوس اس کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں کر سکا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران کا پاکستان سے سرحدی انفراسٹرکچر کی تقویت اور کسٹمز کے فروغ کی ضرورت پر زور

اسلام آباد: پاکستان میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے پاکستان فیڈرل بورڈ آف …