ہفتہ , 22 جنوری 2022

امریکا کا اشرف غنی کے پاکستان سے متعلق دعوے کی تائید سے انکار

واشنگٹن: امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے سابق افغان صدر اشرف غنی کے اس دعوے کی تائید سے انکار کردیا کہ کابل پر طالبان کے حملے میں 10 سے 15 ہزار پاکستانی شامل تھے۔

اس کے بجائے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک سینیئر عہدیدار نے افغانستان سے امریکی فوجیوں اور شہریوں کو نکالنے کی امریکی کوششوں میں ’اہم مدد‘ فراہم کرنے پر پاکستان اور دیگر شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس سے جب اشرف غنی کے دعوے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میں ان رپورٹس کیہ تصدیق کے لیے ان پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔

امریکی عہدیدار نے اس سوال کا بھی جواب نہیں دیا کہ کیا واشنگٹن اب بھی اشرف غنی کو افغانستان کا جائز حکمران سمجھتا ہے۔

جب نیڈ پرائس سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ اس دعوے پر تبصرہ کریں گے کابل میں موجود طالبان فورسز میں غیر ملکی بھی شامل ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’اگر ہمارے پاس مزید معلومات ہوئیں تو فراہم کردیں گے‘۔

دوسری جانب انڈر سیکریٹری اسٹیٹ برائے پولیٹکل افیئرز وکٹوریہ نولینڈ نے ایک نیوز بریفنگ کے دوران پاکستان کو ان ایک درجن ممالک میں شامل کیا جنہوں نے امریکا کی انخلا کی کوششوں میں اہم مدد فراہم کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ان ممالک کے بڑے نیٹ ورک کے بے حد مشکور ہیں جنہوں نے ہماری انخلا کی کوششوں میں اہم مدد فراہم کی۔

انخلا میں مدد کرنے والے ممالک میں جہاں انہوں نے پاکستان، کویت، قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کا نام لیا وہیں امریکا کے اہم یورپی اتحادی ممالک فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، برطانیہ اور دیگر ممالک کا بھی کا بھی نام لیا جنہوں نے امریکیوں اور دیگر کو بحفاظت منتقل کرنے میں تعاون کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انخلا اور نقل مکانی دونوں پر ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ ہمارا قریبی تعاون اہم ہے ، لیکن ساتھ ہی ہم افغان عوام اور طالبان کے ساتھ اپنے جاری تعلقات کو گنجائش دینا شروع کررہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین باضابطہ گفتگو

انقرہ: ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین ٹیلی فونی گفتگو ہوئی ہے۔ ترکی …