جمعرات , 9 دسمبر 2021

ایران مذاکرات کا حامی اور مذاکرات میں دباؤ اور دھمکی کا مخالف ہے : صدر ابراہیم رئیسی

تہران: ایران کے صدر نے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے ٹی وی انٹرویو میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران، ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔ انہوں نے اب تک 50 سے زائد سربراہان مملکت کے ساتھ رابطہ کیا اور ان سے مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے اس انٹرویو میں کہا کہ ہم مذاکرات کے حامی اور طرفدار ہیں لیکن مذاکرات میں دباؤ اور دھمکیوں کو قبول نہیں کریں گے۔

صدر مملکت نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امریکہ کو قراردیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے جہاں بھی قدم رکھا وہاں اس نے تباہی مچائی ہے افغانستان میں بھی امریکہ نے تباہی مچائی جو عالمی برادری کے سامنے ہے۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان کی حکومت کو عوامی ارادوں پر مشتمل ہونا چاہیے اور جو بھی حکومت عوامی ارادوں پر مشتمل ہوگی ہم اسے قبول کریں گے اور اس کے ساتھ تعاون کریں گے۔ صدر رئیسی نے کہا کہ افغانستان کی سلامتی ایران کی سلامتی ہے ایران اپنے تمام ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے۔

سید ابراہیم رئیسی نے کورونا وائرس کو ملک کا سب سے اہم مسئلہ قراردیتے ہوئے کہا کہ عوام کی سلامتی اہم ہے اور کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لئے ہم نے کورونا ویکسین کی بڑی مقدار باہر سے خرید ی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ مذاکرات کا محور ایرانی مفادات کا تحفظ اور پابندیوں کا خاتمہ ہے اور ہم اس سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

عراق کے شہر بصرہ میں بم دھماکے میں پندرہ افراد شہید

بصرہ: عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں الجمہوری اسپتال کے قریب زوردار بم دھماکے کے …