بدھ , 27 اکتوبر 2021

حامد کرزئی نے دہائیوں تک طالبان، امریکہ اور مجاہدین کے درمیان توازن کیسے رکھا

تحریر: گریگر ایٹناسیان

طالبان کے کابل میں داخل ہونے سے پہلے صدر اشرف غنی ملک سے جا چکے تھے لیکن افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی، جو گذشتہ دو دہائیوں سے افغانستان کے مقبول رہنماؤں میں سے ایک ہیں، آج بھی وہیں موجود ہیں۔

یہ بات اس لیے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ طالبان نے انھیں کئی بار قتل کرنے کی کوشش کی۔ صدر کرزئی کو نشانہ بنانے والے طالبان کے حملوں میں ان کے کئی قریبی ساتھی ہلاک ہوئے ہیں۔

1980 کی دہائی میں کرزئی نے سوویت فوج کا مقابلہ کیا۔ وہ نوے کی دہائی میں مجاہدین کی حکومت میں شامل ہوئے اور انھوں نے بھی طالبان کی حمایت کی تھی تاہم جب طالبان نے ان کے والد کو قتل کر دیا تو ان کا رویہ بدل گیا۔

طالبان کی شکست کے بعد صدر کرزئی نے امریکی حمایت سے افغانستان کی باگ ڈور سنبھالی لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ امریکہ کی نظروں میں بُرے بن گئے۔

گذشتہ ماہ 15 اگست کو جب طالبان کابل میں داخل ہو رہے تھے تو غیر ملکی فوجی، عام شہری، سفارت کار اور بڑی تعداد میں عام افغان سابق صدر کرزئی کے نام سے منسوب ہوائی اڈے کے راستے عجلت میں ملک چھوڑ رہے تھے۔ لیکن حامد کرزئی نے فیصلہ کیا کہ وہ ملک کی سیاست کا حصہ بنے رہیں گے۔

طالبان اور مجاہدین کے ساتھ
حامد کرزئی کا تعلق پشتون برادری کے درانی قبیلے سے ہے جنھیں پوپلزئی بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی برادری نے ایک متحد افغانستان کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ان کے رہنما احمد شاہ درانی، درانی سلطنت کے پہلے شاہ تھے جنھوں نے افغانستان پر حکومت کی۔ انھوں نے 1747 میں قندھار میں اپنی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔

حامد کرزئی کے والد عبدل احد کرزئی آخری افغان شہنشاہ ظاہر شاہ کے قریبی ساتھی تھے۔ وہ افغان پارلیمان کے ڈپٹی سپیکر بھی رہے۔ حامد کرزئی کا رجحان بھی بادشاہت کی طرف رہا۔ اقتدار میں آنے کے بعد انھوں نے دوبارہ بادشاہت کے زمانے میں استعمال ہونے والا جھنڈا لہرایا اور ظاہر شاہ کو ’بابائے قوم‘ کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔

جب سوویت فوجی افغانستان پہنچے تو کرزئی کا خاندان پاکستان کے شہر کوئٹہ چلا گیا جہاں سے انھوں نے سوویت یونین کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھا۔

حامد کرزئی بعد میں مجاہدین کی ایک تنظیم میں شامل ہو گئے۔ انھوں نے جنگ میں حصہ تو نہیں لیا لیکن وہ پریس سیکرٹری اور مترجم کا کردار ادا کرتے رہے۔ انھوں نے انڈیا میں تعلیم حاصل کی اور انھیں ہندی، انگریزی، اردو، فرانسیسی، پشتو اور دری جیسی زبانوں پر عبور حاصل ہے۔

سنہ 1992 میں روسی صدر بورس یلتسن نے افغانستان کی اس وقت کی کمیونسٹ حکومت کو اسلحے کی فراہمی بند کر دی جس کے بعد مجاہدین نے کابل پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت کے صدر محمد نجیب اللہ نے بھاگ کر اقوام متحدہ کے دفتر میں پناہ لی جہاں وہ طالبان کی آمد کے چار سال تک چھپے رہے۔ طالبان نے انھیں قتل کر کے ان کی لاش صدارتی محل کے باہر ٹریفک لائٹ پر لٹکا دی تھی۔

حامد کرزئی کو مجاہدین حکومت میں نائب وزیر خارجہ بنایا گیا لیکن مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے انھیں کابل چھوڑنا پڑا۔

سنہ 1996 میں پاکستان میں اپنے والد کے گھر سے انھوں نے طالبان کو اقتدار پر قابض ہوتے دیکھا۔ انھیں ملک کے نئے حکمرانوں سے بھی ہمدردی تھی اور ایک موقعے پر تو انھیں اقوام متحدہ میں طالبان کا غیر سرکاری سفیر بنانے پر بھی غور کیا جا رہا تھا۔

سنہ 1998 میں حامد کرزئی نے کہا تھا ‘طالبان میں کچھ بہت اچھے لوگ تھے، بہت سے لبرل اور قوم پرست تھے۔ لیکن عربوں اور پاکستانیوں نے انھیں خراب کر دیا۔‘

طالبان کے خلاف، مغربی قوّتوں کے ساتھ

حامد کرزئی کے والد کو 1999 میں قتل کر دیا گیا۔ ان کے قتل کے پیچھے طالبان کا ہاتھ بتایا گیا تھا۔ اس وقت تک ان کے بڑے بھائی امریکہ میں سکونت اختیار کر چکے تھے جہاں ان کے کئی افغان ریستوران ہیں۔

حامد کرزئی کو ان کے قبیلے کا نیا لیڈر منتخب کیا گیا۔ اگلے چند سال حامد کرزئی نے مغربی ممالک کے ساتھ رابطے قائم کرنے میں گزارے۔ اسلام آباد میں تعینات بعض سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ حامد کرزئی مغربی ممالک کے سفارتخانوں میں طالبان کے خلاف حمایت حاصل کرنے گئے تھے۔

سنہ 2001 میں امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو کرزئی اپنے وفادار جنگجوؤں کے ساتھ ملک واپس آئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس وقت تک انھیں امریکہ کی حمایت مل گئی تھی اور اسلام آباد کا سی آئی اے بیورو خاص طور پر ان کے ساتھ تھا۔

اسی سال 5 دسمبر کو ان کا قافلہ غلطی سے امریکی گولہ باری کی زد میں آ گیا۔ اگرچہ وہ معمولی زخموں کے ساتھ بچ گئے تھے لیکن اس حملے میں بہت سے لوگ ہلاک ہوئے۔

اسی دن جرمنی کے شہر بون میں اقوام متحدہ کی قیادت میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں افغانستان کی سیاسی جماعتیں شریک تھیں۔ اس کانفرنس میں حامد کرزئی کو عبوری حکومت کا سربراہ منتخب کیا گیا۔ کرزئی یاد کرتے ہیں کہ یہ معلومات انھیں بی بی سی کی ایک نامہ نگار نے دی تھی۔

انھوں نے نیو یارکر کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’ہسپتال میں نرس خون میں لت پت میرے چہرے کو صاف کر رہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی اور جب میں نے فون اٹھایا تو دوسری جانب بی بی سی کی نامہ نگار لیز ڈوسیٹ تھیں۔ ان کے پاس بون سے میرے لیے یہ خبر تھی۔ انھوں نے کہا ‘آپ کو حکومت کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے۔‘

اگلے موسم گرما میں انھیں ملک کا عبوری صدر بنا دیا گیا۔

افغانستان میں حامد کرزئی کا دور
حامد کرزئی نے 13 سال تک ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔ سنہ 2001 کے آخر میں وہ قائم مقام صدر بن گئے۔ 2004 میں انھوں نے صدارتی انتخاب جیتا اور 2009 میں دوبارہ منتخب ہوئے۔

کرزئی کے دور میں افغانستان ایک بکھرا ہوا اور تقسیم شدہ ملک رہا جس میں مقامی رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا اور یہ مقامی رہنما اپنے وفادار قبیلوں کے بل بوتے پر طاقتور رہے۔

کرزئی حکومت کی طاقت اتنی محدود تھی کہ بعض نے انھیں مذاق میں ‘کابل کا میئر’ کہا۔ کئی دہائیوں سے جاری خانہ جنگی کی وجہ سے افغان صوبوں پر وار لارڈز کا غلبہ تھا جن کے اپنے جنگجو ہوا کرتے تھے۔

سنہ 2001 میں امریکہ نے طالبان کو شکست دینے کے لیے ان ہی قوّتوں کا استعمال کیا اور جب لڑائی ختم ہوئی تو انھوں نے کرزئی کے ساتھ اقتدار کا اشتراک کیا۔

شہرہ آفاق کمانڈر عبدالرشید دوستم، جن پر جنگی جرائم کے الزامات تھے، کرزئی کابینہ میں وزیر بنے۔ اس کے برعکس کرزئی ایک سیاستدان تھے، فیلڈ کمانڈر نہیں۔

ان کی طاقت کے پیچھے امریکہ اور نیٹو کے رکن ممالک کے سپاہی تھے۔

محققین کا کہنا ہے کہ جس طرح سوویت یونین نے 30 سال پہلے کیا تھا، اسی طرز پر امریکہ نے افغانستان ایک ’کٹھ پتلی‘ حکومت قائم کی۔ سرکاری حکومت کے متوازی امریکی مشیر اور افغانستان کی تعمیر نو ٹیم کے ارکان کابل میں جمع ہوئے۔ ماہرین ان لوگوں کو ‘شیڈو گورنمنٹ’ کہا کرتے تھے۔

امریکہ نئی حکومت کے ہر قدم کو کنٹرول کرنا چاہتا تھا۔ کرزئی، جو کئی بار مہلک حملوں کی زد میں آ چکے تھے، طویل عرصے تک صدارتی محل سے باہر نہیں نکلے۔ ایک نجی فوجی کمپنی کے امریکی باڈی گارڈز کا ایک دستہ ان کی حفاظت میں لگا رہتا تھا۔

بہت سے لوگوں نے ان کے اس رویے کو اپنے لوگوں پر بھروسے کی کمی کی علامت کے طور پر دیکھا۔

غیر ملکی امداد جلد ہی کرزئی کے لیے بوجھ بن گئی لیکن امریکہ کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے رہے۔

کرزئی کے دوست اور افغان نژاد امریکی زلمے خلیل زاد کو افغانستان کے لیے امریکی سفیر بنایا گیا۔ خلیل زاد نے 1980 کی دہائی میں مجاہدین اور امریکہ کے درمیان رابطے میں بھی کردار ادا کیا تھا۔

خلیل زاد نے افغانستان میں نئے آئین کی تیاری میں حصہ لیا۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ آئین افغانستان میں امریکہ کی پالیسیوں پر عملدرآمد سے متعلق ہے۔ صحافی زلمے خلیل زاد کو ‘وائسرائے’ کہتے تھے اور ایسی اطلاعات بھی تھیں کہ صدر کرزئی امریکی سفیر کے ساتھ ہفتے میں تین بار کھانا کھاتے تھے۔

سنہ 2005 میں خلیل زاد کو عراق میں سفیر بنایا گیا لیکن ان کے بعد آنے والے امریکی سفیر کے لیے حالات بدل چکے تھے۔ امریکی سفارتکاروں پر کرزئی کا اعتماد ڈگمگانے لگا تھا۔

اُسی سال کرزئی امریکہ کے دورے پر گئے جہاں انھوں نے پوری کوشش کی کہ غیر ملکی فوجیوں کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکی فوجیوں نے دو افغان قیدیوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا۔

حامد کرزئی، برطانیہ اور امریکہ
افغانستان میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سب سے مشکل کام منشیات کی سمگلنگ کے خلاف جنگ ہے۔ امریکہ نے ہلمند کی ذمہ داری برطانیہ کو سونپی تھی۔

کرزئی نے شیرا قبیلے کے رہنما محمد اخوندزادہ کو ہلمند کا گورنر مقرر کیا۔ برطانیہ کو یہ اندیشہ تھا کہ وہ منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہیں اور2005 میں اخوندزادہ کے گھر سے نو ٹن منشیات برآمد کی گئی۔

برطانیہ کے کہنے پر محمد آخوندزادہ کو ہلمند کے گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ کرزئی نے انھیں دوبارہ گورنر بنانے کی کوشش کی لیکن برطانیہ نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اس کے فوراً بعد ہلمند میں بین الاقوامی افواج اور طالبان کے درمیان خونی جنگ کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔

محمد اخوندزادہ نے بعد میں اعتراف کیا کہ انھوں نے اپنے 3000 جنگجو طالبان میں بھیجے تھے کیونکہ وہ خود ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ مغرب کو کرزئی کے سوتیلے بھائی احمد ولی پر منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کا بھی شبہ تھا۔

میڈیا رپورٹس میں احمد ولی کا نام افیون اور ہیروئن کی سمگلنگ سے جوڑا جاتا تھا اور یہ بات امریکی سفارت کاروں نے کرزئی کو بتائی۔ احمد ولی کو امریکہ میں فوجداری مقدمے کا سامنا تھا جب سنہ 2011 میں ایک محافظ نے انھیں گولی مار دی۔

محمد اخوندزادہ اور احمد ولی پر 2009 کے افغان انتخابات میں دھوکہ دہی کا الزام لگایا گیا تھا۔ یہ وہی انتخابات تھے جن میں کرزئی دوبارہ منتخب ہوئے اور صدر بنے۔

پیٹر گولبریتھ، جو افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے تھے، نے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا تھا تاہم ان کے اس بیان کے بعد انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

اس سے ایک سال پہلے امریکہ میں بھی صدارتی انتخابات ہوئے تھے۔ نئی امریکی حکومت کے ساتھ کرزئی کے تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے۔ اوباما انتظامیہ کی ٹیم نے کابل میں ان کی تقریب حلف برداری میں شرکت تک نہیں کی۔

2008 میں ہیلری کلنٹن نے افغانستان کو ‘ڈرگ سٹیٹ’ قرار دیا اور کرزئی حکومت پر بدعنوانیوں کا الزام لگایا۔

اس کے بعد کرزئی امریکہ کے دوست سے نقاد بن گئے۔ انھوں نے امریکہ اور برطانیہ پر سامراجی رویہ رکھنے کا الزام عائد کیا۔

انھوں نے کہا کہ مغربی قوتیں طالبان کے ساتھ خفیہ طریقے سے سانٹھ گانٹھ کر رہی ہیں۔

کابل کا زوال
اقتدار سے دستبردار ہونے کے بعد کرزئی نے کابل میں ایک سرکاری عمارت میں سکیورٹی کے دائرے میں رہنا شروع کر دیا۔ اپنے پرانے اتحادیوں کے خلاف ان کی شکایات جاری تھیں۔

انھوں نے کہا کہ القاعدہ نے کبھی افغانستان سے کام نہیں کیا اور نہ ہی امریکہ میں ہونے والے 11 ستمبر کے حملوں کو افغان سرزمین سے انجام دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ نام نہاد دولت اسلامیہ امریکہ کا آلہ کار ہے اور وہ ’امریکہ اور آئی ایس میں کوئی فرق نہیں سمجھتے۔‘

2018 میں کرزئی نے ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی حمایت کی۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پرانے دوست خلیل زاد اس گفتگو کے لیے ذمہ دار تھے۔

کرزئی نے طالبان سے رابطے کی کوشش بھی کی۔ 2019 میں انھوں نے ماسکو میں منعقدہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک کانفرنس میں شرکت کی جس میں طالبان رہنما بھی شامل تھے۔

اس وقت حامد کرزئی نے کہا تھا کہ ‘طالبان بھی افغان ہیں۔ انھوں نے دوسرے افغانوں سے کم کچھ نہیں کھویا۔ ان کے بچے بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان کے گھر بھی اجڑتے ہیں۔ ان پر بھی بم گرائے گئے ہیں۔ گولیاں برسائی گئی ہیں۔ ان کے گھروں کی تلاشی بھی لی گئی ہے۔‘

طالبان کے کابل میں داخل ہونے اور صدر غنی کے ملک چھوڑنے کے بعد بھی کرزئی وہاں موجود ہیں۔ ان کے سیاسی مخالف عبداللہ عبداللہ بھی کابل میں ہیں۔

کرزئی، طالبان اور عبداللہ دونوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ کرزئی نے اپنے گھر کے باہر سے ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا۔ ان کی بیٹیاں ان کے ساتھ کھڑی تھیں۔

انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کابل نہیں چھوڑیں گے اور اقتدار کی منتقلی کو پُرامن طریقے سے کرانے کی کوشش کریں گے۔

طالبان نے حقانی نیٹ ورک کے انس حقانی اور کرزئی کے ساتھ ملاقات کی تصاویر شیئر کی ہیں۔

حالانکہ سی این این کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کرزئی اور عبداللہ عبداللہ کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے تاہم اس خبر کی تردید ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

آلِ سعود کی خباثت:مدینہ منورہ میں 10سینما ہال کے قیام کا منصوبہ

تحریر: توقیر کھرل ایک وقت تھا جب سعودی عرب کے بارے میں معروف تھا کہ …