بدھ , 27 اکتوبر 2021

صہیونی جیل سے فلسطینی قیدیوں کا کامیاب فرار

تحریر: رامین حسین آبادیان

حال ہی میں علاقائی اور عالمی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبر شائع ہوئی ہے جس نے غاصب صہیونی رژیم کے سیاسی اور سیکیورٹی حلقوں میں ہلچل اور کھلبلی مچا دی ہے۔ وہ خبر یہ تھی: "چھے فلسطینی قیدی اسرائیل کی جلبوع جیل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔” یہ خبر شائع ہوتے ہی غاصب صہیونی رژیم کے حکمران اور فوجی و سیکیورٹی سربراہان شدید حیرت اور تشویش کا شکار ہو گئے۔ مقبوضہ فلسطین کے شمال میں واقع جلبوع جیل کا شمار صہیونی رژیم کے ایسے جیلوں میں ہوتا ہے جہاں انتہائی اعلی سطح کی سیکیورٹی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ اس جیل میں موجود یہ چھے فلسطینی قیدی زمین کے اندر دسیوں میٹر طویل سرنگ کھود کر اس جیل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں سے پانچ کا تعلق اسلامک جہاد جبکہ ایک کا تعلق فتح تنظیم سے تھا۔

جلبوع جیل سے بھاگ نکلنے والے تمام فلسطینی قیدی اسلامی مزاحمتی تنظیموں سے وابستہ تھے اور اعلی سطح کی جہادی سرگرمیاں انجام دے چکے تھے۔ فرار ہونے والوں میں شہداء الاقصی بریگیڈز کے سابق کمانڈر زکریا زبیدی سمیت مناضل یعقوب، محمد قاسم عارضہ، یعقوب محمود قدری، ایھم فواد اور محمود عبداللہ شامل ہیں۔ ان فلسطینی قیدیوں کا فرار اس لحاظ سے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کہ انہوں نے جیل سے بھاگ نکلنے کا جو طریقہ کار اختیار کیا ہے اس کی تکمیل کیلئے کم از کم بھی کئی ماہ کا وقت درکار تھا۔ لہذا اس انتہائی سکیورٹی کے حامل جیل کے حکام کئی ماہ تک ان فلسطینی قیدیوں کا ارادہ اور اقدامات بھانپنے میں ناکام رہے۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کیلئے یہ ایک بڑی سکیورٹی اور انٹیلی جنس شکست قرار دی جا رہی ہے۔

جلبوع جیل میں اس قدر اعلی سطح کے سیکیورٹی اقدامات اور تدابیر انجام دی گئی ہیں کہ اسے "لاکر” کہا جاتا ہے۔ عبری زبان میں اس جیل کا نام "کسیفت” رکھا گیا ہے جس کا مطلب لاکر ہیں۔ اسرائیل کی غاصب رژیم نے اس جیل کا افتتاح 2014ء میں کیا تھا جب مسجد اقصی میں انتفاضہ اپنے عروج پر تھا۔ اس جیل میں صہیونی رژیم نے اپنی نظر میں خطرناک ترین فلسطینی قیدیوں کو رکھا ہوا تھا۔ اس جیل میں قید تمام قیدیوں کا تعلق اسلامی مزاحمتی گروہوں کے اہم اور مرکزی رہنماؤں سے ہے۔ ان میں سے بعض قیدیوں پر خودکش حملے انجام دینے کا الزام ہے اور سب کو شدید سزائیں سنائی گئی ہیں۔ اس جیل کی تعمیر آئرلینڈ کی ایک مشہور کمپنی نے کی ہے جس کا کام ہی مضبوط ترین جیل تعمیر کرنا ہے۔

جلبوع جیل سے چھ فلسطینی قیدیوں کے فرار پر مختلف قسم کے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ اس بارے میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم اسلامک جہاد نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان قیدیوں کو ہیرو قرار دیا جنہوں نے غاصب صہیونی رژیم کے سکیورٹی اداروں پر کاری ضرب لگائی اور صہیونی سکیورٹی فورسز کے منہ پر زوردار طمانچہ دے مارا۔ اسلامک جہاد کے ترجمان نے کہا کہ ان فلسطینی قیدیوں کے فرار کے ساتھ ساتھ غزہ کے اسلامی مزاحمتی گروہوں نے بھی صہیونی رژیم کو شدید وارننگ دی ہے جس کے باعث اس رژیم کی کمزوری اور شکست مزید عیاں ہو گئی ہے۔ اسی طرح اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے بھی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود ان چھے فلسطین قیدیوں کے کامیاب فرار کو شجاعانہ اور حیرت انگیز قرار دیا۔

فوزی برہوم نے کہا کہ اس عظیم کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ غاصب صہیونی رژیم جدید ترین سیکیورٹی اور فوجی وسائل سے لیس ہونے کے باوجود ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتی۔ حماس کے ترجمان نے کہا کہ فلسطینی قوم کی آزادی کی جدوجہد حتی صہیونی جیلوں کے اندر بھی جاری ہے اور یہ ہر گز ختم نہیں ہو گی۔ صہیونی حکام نے ان قیدیوں کے فرار کے بعد انہیں تلاش کر کے دوبارہ گرفتار کرنے کے لئے وسیع سرگرمیاں اور اقدامات انجام دیے ہیں لیکن ابھی تک انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ صہیونی سکیورٹی فورسز نے ان فلسطینی قیدیوں کو پکڑنے کیلئے مقبوضہ فلسطین میں 200 نئی چیک پوسٹس بھی لگا دی ہیں۔ اسی طرح صہیونی حکمرانوں نے اس واقعے کے بعد جلبوع میں قید تمام فلسطینی قیدیوں کو کسی نئی جگہ منتقل کر دیا ہے۔

جلبوع جیل سے چھے فلسطینی قیدیوں کے کامیاب فرار نے غاصب صہیونی رژیم کی سکیورٹی کمزوری کو ظاہر کر دیا ہے۔ خود صہیونی حکام اس حقیقت کا اعتراف کرتے نظر آ رہے ہیں کہ یہ فلسطینی قیدی جیل سے سرنگ کھود کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے جیل سے باہر تک یہ سرنگ کھودنے میں طویل عرصہ لگایا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سرنگ کو کھودنے کیلئے انہیں کم از کم چار مہینے کا وقت درکار تھا۔ لیکن اس مدت میں جیل کے صہیونی سکیورٹی حکام ان فلسطینی قیدیوں کی سرگرمیوں اور اقدامات سے مکمل طور پر لاعلم اور غافل رہے۔ یہ بذات خود صہیونی سیکیورٹی اداروں کی بہت بڑی شکست اور ناکامی ہے۔ لہذا اکثر ماہرین ان قیدیوں کے کامیاب فرار کو غاصب صہیونی رژیم کے لئے بہت بڑی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس رسوائی قرار دے رہے ہیں۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

آلِ سعود کی خباثت:مدینہ منورہ میں 10سینما ہال کے قیام کا منصوبہ

تحریر: توقیر کھرل ایک وقت تھا جب سعودی عرب کے بارے میں معروف تھا کہ …