بدھ , 1 دسمبر 2021

افغانستان میں سب سے بڑا لوزر بھارت

تحریر: رانا بشارت محمود

پاکستان کے ہمسایہ اسلامی ملک افغانستان میں طالبان کی طرف سے تقریباً اکیس سال تک امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف لڑی جانے والی آزادی کی جنگ کچھ دنوں پہلے ہی اپنے اختتام کو پہنچی ہے۔ جس کے بارے میں دنیا کے ہر ملک میں، ہر میڈیا چینل و اخبارات پر یہی باتیں ہورہی ہیں کہ اِس اکیس سال تک لڑی جانے والی جنگ میں کس نے کیا کھویا اور کس نے کیا پایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے بہت سے پہلوؤں پر بھی مختلف تجزیے کیے جارہے ہیں اور مزید کی بھی گنجائش ہے۔

افغانستان کی مجموعی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھی ایک بات کہی تھی کہ ’’افغانستان میں سب سے بڑا لوزر بھارت ہوگا‘‘۔

بھارت جنوبی ایشیائی خطے میں واحد ایسا ملک ہے جو برسوں سے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر دوسرے ممالک میں دہشت گردی کروانے اور غلط معلومات پھیلانے میں ملوث رہا ہے۔ اور اگر مجموعی طور پر بھی دیکھا جائے تو بھارت کے اپنے کسی بھی ہمسایہ ملک کے ساتھ ایسے تعلقات نہیں ہیں جن کو ہم اچھے، خوشگوار اور دوستانہ کہہ سکیں۔ جب سے بھارت میں بدنام زمانہ سیاسی پارٹی (بی جے پی) کی آر ایس ایس نواز حکومت آئی ہے اور نریندرا مودی بھارت کا وزیراعظم بنا ہے، تب سے ہی بھارت پاکستان کے خلاف دنیا میں غلط معلومات پھیلانے اور کئی طریقوں سے پاکستان میں دہشتگردی کروانے میں اور بھی زیادہ ملوث رہا ہے، جس کے ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں۔ ان ہی میں ایک یورپ کے آزاد ادارے ’’ڈس انفارمیشن لیب‘‘ کی بھارت کے خلاف شایع شدہ رپورٹ ہے جس کے مطابق بھارت دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں بہت ساری غلط معلومات پھیلا کر آج تک پوری دنیا کو دھوکا دیتا آیا ہے۔

چند ماہ قبل افواج پاکستان کے ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار اور پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بہت سے ناقابل تردید شواہد دنیا کے سامنے رکھے تھے۔ ان سب سے بڑھ کر بھارتی نیوی کا ایک سابقہ آفیسر اور بھارتی انٹیلی جنس ادارے را کا جاسوس کلبھوشن سدھیر یادیو، جسے پاکستانی انٹیلی جنس اداروں نے بہت محنت کے بعد صوبہ بلوچستان سے پکڑا تھا، جو پاکستان میں کی جانے والی بہت سی دہشتگردانہ کارروائيوں کا ماسٹر مائنڈ بھی تھا اور پاکستان میں موجود بہت سی کالعدم تنظیموں کو دہشت گردی کروانے کےلیے بھی استعمال کررہا تھا۔ اِن سب جرائم کا اعتراف اُس نے خود اپنے دیے گئے انٹرویو میں کیا تھا، جو بین الاقوامی میڈیا پر بھی دکھایا گیا۔

بھارت ہمیشہ سے افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کرواتا آرہا ہے اور یہ سب کچھ بھارتی حکومت کی سرپرستی میں ہورہا تھا۔ بھارتی انٹیلی جنس ادارے را نے افغانستان میں باقاعدہ اپنے ٹریننگ سینٹرز بنا رکھے تھے، جہاں وہ پاکستان میں موجود کچھ نام نہاد و خود ساختہ علیحدگی پسند جماعتوں کے کارندوں کو افغانستان لے جاکر ہر طرح کی ٹریننگ دے رہے تھے اور انہیں ہر قسم کا اسلحہ بھی فراہم کر رہے تھے تاکہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کرکے بدامنی پھیلاتے رہیں اور پاکستان کو اقوام عالم میں ایک دہشت گرد ملک کے طور پر بدنام بھی کرتے رہیں۔ اس سب کےلیے دہشتگردانہ سوچ کے حامل ملک بھارت نے اب تک اپنا بہت سارا پیسہ (جو کہ اربوں ڈالرز میں بتایا جاتا ہے) اسلحے کی خرید و فروخت اور دہشتگردی کی کارروائیوں میں جھونک دیا ہے، جو اسے اپنے ملک کے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کےلیے خرچ کرنا چاہیے تھا۔ لیکن اب حال ہی میں بھارت میں بھی اس پر آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔

بھارت نے دہشتگردانہ کارروائیوں کے لیے بہت سارا پیسہ پاکستان میں موجود اپنی پیداکردہ بہت سی کالعدم تنظیموں کو بھی بھیجا، جن کی تفصیلات بھی افواج پاکستان کے ادارے آئی ایس پی آر کے ترجمان نے کئی بار میڈیا کے سامنے پیش کی ہیں، جو نہ صرف بھارت بلکہ افغانستان اور دنیا کے دوسرے بہت سے ممالک سے بھیجا جاتا تھا۔

افواج پاکستان اور سیکیورٹی اداروں نے بہت محنت اور اَن گنت قربانیوں کے بعد پاکستان سے ان کرائے پر کام کرنے والے گروپوں کا تقریباً صفایا کردیا ہے، لیکن ابھی بھی ان کے سلیپنگ سیلز و گروہ کسی حد تک اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ اب تک بھارت ہی افغانستان میں موجود اپنے تربیت یافتہ دہشت گردوں کو کسی طریقے سے پاکستان بھیج کر کوئی نہ کوئی بزدلانہ کارروائی کرواتا رہتا تھا۔ ذرائع کے مطابق ان وارداتوں میں سابقہ افغان حکومت اور انٹیلی جنس ایجنسی (این ڈی ایس) بھی کئی طریقوں سے ان کی معاون تھی۔

مگر اب افغانستان میں طالبان کی حکومت آجانے کے بعد سابقہ افغان صدر اشرف غنی، بھارت کےلیے کام کرنے والے سبھی کرائے کے لوگ اور شکست خوردہ امریکا اپنے سبھی اتحادیوں سمیت افغانستان سے بھاگ چکے ہیں۔ جو پیچھے رہ گئے ہیں وہ بھی اپنی جان بچا کر بھاگنے کےلیے طالبان کی منتیں کر رہے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں اپنا بہت سا جنگی ساز و سامان (جس میں بڑے و چھوٹے مسافر اور جنگی طیارے، ہیلی کاپٹرز اور بہت سی گاڑیاں بھی شامل ہیں) افغانستان میں ہی چھوڑ کر، اپنی جان بچا کر بھاگنا پڑ رہا ہے۔

بھارت نے اب تک صرف اور صرف پاکستان میں بدامنی پھیلانے اور دہشتگردی کےلیے سابقہ افغان حکومت اور اس کے اداروں کو پیسوں اور کئی طرح کے لالچ دے کر خرید رکھا تھا۔ اس سب کےلیے بھارت نے افغانستان میں جو بھاری انویسٹمنٹ کی ہوئی تھی، وہ سب چھوڑ کر بھارت کو افغانستان سے بھاگنا پڑا ہے۔ اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی کئی مہینوں پہلے کہی گئی یہ بات ’’افغانستان میں سب سے بڑا لوزر بھارت ہوگا‘‘ سو فیصد سچ ثابت ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ جسے اب پوری دنیا بھی اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

طالبان اور داعش خراسان کے مابین مستقبل میں خانہ جنگی کے امکانات

9/11 سے قبل طالبان کی قیادت کو بنیادی چیلنج شمالی اتحاد کا تھا جس کی …