بدھ , 1 دسمبر 2021

آلِ سعود کی خباثت:مدینہ منورہ میں 10سینما ہال کے قیام کا منصوبہ

تحریر: توقیر کھرل

ایک وقت تھا جب سعودی عرب کے بارے میں معروف تھا کہ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سینما کھولنے کی اجازت نہیں، اس کی بنیادی وجہ مدینہ منورہ کا اسلام کے مقدس ترین شہروں میں سے ایک ہونا تھا۔ گذشتہ دنوں مدینہ میں سینما ہال قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ نئے منصوبوں کے تحت 10 سینماؤں کے علاوہ 28 دکانیں، 32 ریستوران اور تفریح کیلئے دو مقامات شامل ہیں۔ منصوبہ کا اعلان پچھلے سال نومبر کے آخر میں کیا گیا تھا، یہ جنوری 2022ء تک مکمل ہوں گے۔ مدینہ میں سینماؤں کی تعمیر کے اعلان پر مسلمانوں کے تمام مسالک میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔

پاکستان کے معروف مفتی تقی عثمانی نے گذشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر متحدہ عرب امارات کی کمپنی اعمار انٹر ٹینمنٹ کی مدینہ منورہ میں سینما کھولنے کی ٹوئیٹ کے ساتھ ان الفاظ میں ٹویئٹ کی کہ اب مدینہ منورہ میں بھی دس سنیما ہال قائم کرنے کا منصوبہ! انا للہ وانا الیہ راجعون! الفاظ اس پر صدمے کے اظہار سے عاجز ہیں، الیس منکم رجل رشید؟”(کیا تم میں کوئی ایک بھی ڈھنگ کا آدمی نہیں؟)۔
جوابی ٹوئیٹ میں معروف صحافی انصار زاہد نے کہا کہ مدینہ منورہ میں دس سینما ہال قائم کرنے کی خبر انتہائی قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔ سعودی حکومت کو اپنے اس فیصلہ کو فوری واپس لینا چاہیے۔

مفتی تقی عثمانی کے ٹوئیٹ کے جواب میں اپوزیشن کے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی نے کہا، "خود سینما کھولنا کوئی بری بات نہیں لیکن برائی یہ ہے کہ جب اسے بُرے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ مفتی تقی عثمانی نے اس سے قبل بھی 30 جولائی کو سعودی عرب کے بدلتے رویے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور سعودی حکومت کی سرگرمیوں کو اسلام مخالف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ

"ہم دونوں مقدس مقامات اور زائرین کی بے مثال خدمت کی وجہ سے ہمیشہ سعودی عرب کے پرستار رہے ہیں، لیکن اب جو افسوسناک خبریں سوشل میڈیا کے ذریعے آرہی ہیں اور براہ راست بھی اسلام اور ملک عبدالعزیز کی روایات کے خلاف ہیں۔”

یاد رہے کہ سعودی عرب میں 35 سال بعد 2018ء میں سینما کھولنے کا آغاز ہوا تھا۔ گذشتہ تین سالوں میں سعودی عرب میں 34 سینما گھر کھولے گئے ہیں جبکہ آئندہ سالوں میں 70 سینما ہال مزید کھولنے کا امکان بھی ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق تین سالوں میں ایک کروڑ بیس لاکھ سینما کے ٹکٹ فروخت ہوچکے ہیں جبکہ جدہ میں میوزیکل فیسٹول کے عنوان سے موسیقی کا میلہ بھی سجایا گیا، جس میں دنیا بھر سے موسیقاروں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ الیکٹرونک ڈانس فیسٹول دسمبر 2019ء میں منعقد کیا گیا۔ جو 3 دن جاری رہا، اس میں چار لاکھ افراد نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ 2019ء میں ریسلنگ کا پہلا میچ بھی منعقد کیا گیا۔ سعودی عرب میں ایک طرف موسیقی اور ڈانس کو فروغ دیا جارہا ہے، وہاں دوسری طرف مذہبی شعار پر بھی پابندیاں دکھائی دیتی ہیں۔

جون 2021ء میں سعودی عرب کی اسلامی امور کی وزارت نے اعلان کیا تھا کہ مساجد کے لاوڈ سپیکرز کی آواز کو اپنی بلند ترین سطح سے کم کرکے ایک تہائی تک اونچا کرنے کے بعد اذان دی جائے گی۔ ان ہدایات کے مطابق صرف اذان اور اقامت کو بیرونی لاوڈ سپیکر سے ادا کیا جاسکتا ہے، مکمل نماز یا خطبات کو لاﺅڈ سپیکر سے نشر نہیں کیا جاسکتا جبکہ دورانِ نماز دکانیں بند رکھنے کی پابندی کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ محمد بن سلمان نے ویژن 2030ء کے تحت ملک کو قدرے آزاد خیال اور عوامی زندگی سے مذہب کا عمل دخل کم کرنے کیلئے اقدمات اٹھائے ہیں۔

آل سعود کے ظالمانہ رویوں کی تو دنیا بھر کے حریت پسند مذمت کرتے ہیں، حالیہ دنوں فحاشی کے اڈوں کی تعمیر اور اعلانات کے بعد عالم اسلام کے جید علمائے کرام اور مسلمانوں کا دل مضطرب ہے اور سعودی بادشاہوں کے اس غلط فیصلے کو کوس رہے ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت کو ارض حرمین کو اس طرح کی گندگی اور نحوست سے پاک رکھنا چاہیے۔

یہ پورے عالم اسلام کے دلوں کو زخمی اور چھلنی کر دینے والی خبر ہے۔ آل سعود کی حکومت اس بات کو سمجھے کہ مکہ اور مدینہ مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز ہے۔ خدارا اس مرکز کو آلودہ نہ کیا جائے۔ مدینہ منورہ کسی کی جاگیر نہیں، یہ امت مسلمہ کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ بلاشبہ امت مسلمہ اسلام کے مقدس ترین شہر کی حرمت کی توہین پر خاموش نہیں رہے گی۔

یہ بھی دیکھیں

طالبان اور داعش خراسان کے مابین مستقبل میں خانہ جنگی کے امکانات

9/11 سے قبل طالبان کی قیادت کو بنیادی چیلنج شمالی اتحاد کا تھا جس کی …