بدھ , 1 دسمبر 2021

طالبان کی نئی کابینہ، ماضی کی پیشکش

بالاخر ایک طویل انتظار کے بعد طالبان نے اپنی عبوری حکومت کا اعلان کر دیا۔ اسلام پسند جنگجو جنہوں نے تین ہفتوں کے اندر اندر افغانستان پر قبضہ کر کے دنیا کو حیران کر دیا، نے چند روز قبل ہی اپنی عبوری کابینہ کا اعلان کیا ہے۔ اس کابینہ کے بارے میں مشاہدہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کابینہ اسی کابینہ کا پرتو ہے جو 1990 کے دوران افغانستان پر حکومت کر رہی تھی۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس کابینہ کے کوئی فوائد نہیں ہیں۔ طالبان کی اماراتی کابینہ جو کہ 1996 سے 20001 تک تھی یقینی طور پر بہت متحرک تھی اور اگر اس کا موازنہ افغان حکومتوں اور امریکہ کی بٹھائی ہوئی افغان حکومت سے کیا جائے تو طالبان کابینہ ان سے ہزار درجے بہتر تھی کیونکہ کم از کم اس نے اس وقت افغانستان کے بنیادی مسائل پر توجہ دی تھی۔
طالبان کی نئی کابینہ نہ تو ناتجربے کار ہے اور نہ ہی سابقہ حکومتوں کی طرح اس کے اراکین اعلی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ ہی یہ اراکین سابقہ حکومتوں کے اراکین کی طرح نااہل ہیں مگر ایک بات ضرور ہے کہ یہ اراکین طالبان نے اپنے ہی قریبی مختصر حلقے سے چنے ہیں جس سے دیگر گروہوں پر مشتمل حکومت کا امکان ختم ہوتا نظر آتا ہے تاہم ابھی تک یہ عبوری حکومت ہے مستقبل نہیں ہے اس لیے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

کابینہ کی تشکیل میں رکاوٹیں
دیگر گروہوں پر مشتمل حکومت کا قیام دو اہم وجوہات کی وجہ سے ضروری ہے۔
اول، مرکز میں اشرف غنی کا فوری طورپر کابل سے پرواز کر جانے کا مطلب ہے کہ طالبان کو وقت سے پہلے حکومت سنبھالنا پڑ گئی ہے جبکہ وہ اس کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ اس لیے انہیں ایسے سابق قابل اعتبار افراد کی ضرورت تھی جو حکومت کو چلانے میں ان کی مدد کر سکتے جبکہ طالبان اس کے ساتھ ساتھ اپنے مسقبل کی حکومت اور اس کے اقدامات پر غور کر سکتے اور طالبان حکومت کسی بھی خطرے میں پڑے بغیر اپنا کام جاری رکھ سکتی۔ دوسرا، اشرف غنی کے نائب امر اللہ صالح اور وزیر دفاع بسم اللہ محمدی کی اپنے آبائی علاقے پنجشیر میں بغاوت ۔ پنجشیر میں باغی افراد کے سرغنہ احمد مسعود جو کہ احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے ہیں وہ مختلف ممالک جیسا کہ بھارت، فرانس اور امریکہ کی خفیہ امداد کے سر پر لڑنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں اور اس سے لگتا ہے کہ افغانستان کے مرکز کے اطراف میں ابھی تک صورتحال طالبان کے مکمل قابو میں نہیں ہے۔
پنجشیر کے باغیوں کو امید تھی کہ وہ افغانستان کے اردگرد کے ایسے حصوں کو بھی ساتھ ملانے میں کامیاب ہوجائیں گے جو اشرف غنی کے حامی تھے تاہم طالبان کے حملے کے بعد یہ باغی فوری طور پر منتشر ہوگئے اور مختلف علاقوں میں پھیل گئے ہیں تاکہ وہ ایک ایسے اتحاد کی بنیاد رکھ سکیں جس طرح کی بنیاد احمد شاہ مسعود نے رکھی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طالبان ہتھیار ڈالنے والے حالیہ گروہوں پر اس وقت تک اعتبار نہیں کر سکتے جب تک پنجشیر کی بغاوت کو مکمل طور پر کچل نہیں دیا جاتا۔ پس مختلف گروہوں پر مشتمل ایک حکومت کا قیام تبھی ممکن ہے جب تک ان باغی گروہوں کا قلع قمع نہیں ہوجاتا۔
ہم دیکھتے ہیں ک اس وقت عبوری حکومت محدود ہے اور اس کے زیادہ تر اراکین وہی ہیں جو 1990 میں تھے جو حکومت اور بغاوت کے معاملات کو سمجھتے ہیں ۔ اس عبوری کابینہ کی سربراہی ایک کم معروف مگر کلیدی رہنما حسن اخوندزادہ کے پاس۔ حسن اخوندزادہ ماضی میں وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ رہ چکے ہیں اور بعدمیں انہوں نے ہی عبد الغنی برادر کے ساتھ ملک کر کوئٹہ میں طالبان کونسل کی بنیاد رکھی تھی ۔ دونوں ملا عمر کے انتہائی قابل اعتبار ساتھی تھے۔ اس کابینہ کی ایک خاص بات ملا عمر کے بیٹۓ قاری یعقوب اور جلال الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین حقانی کی کابینہ میں شمولیت ہے اور ایک کو وزیر داخلہ جب کہ دوسرے کو وزیر دفاع لگایا گیا ہے ۔ ملا عمر کے بھائی عبد المنانی عمری اور جلال الدین کے بھائی خلیل الرحمان احمد کو بھی نمایاں وزارتیں دی گئی ہیں۔
حسن اور برادر کی طرح وزیر معاشیات گل آغا ہدایت اللہ ملا عمر کا جنگ میں ایک اہم ترین ساتھی تھاجب کہ جنگجوؤں میں بھی انہیں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ حسن نقیب اللہ جس کو اکثر ہم نام ہونے کی وجہ سے ان شخصیات سے ملا دیا جاتا ہے جو دو سال قبل طالبان سے الگ ہوگئی تھی اور عبد الباقی جو کہ جلال الدین نیٹ ورک کے طویل مدتی ساتھی ہیں اور 1990 میں طالبان کی کابینہ میں اپنی خدمات بھی سرانجام دے چکے ہیں وہ بھی شامل ہیں ۔ اسی طرح نور جلال جس کو سراج الدین حقانی کے سکینڈ ان کمانڈ کی حیثیت حاصل ہے اسے بھی وزارت داخلہ میں عہدہ دیا گیا ہے۔
اسی طرح لویا پکتیا ایک اور پشتون علاقہ ہے جس میں جنوبی افغانستان کے تمام صوبے شامل ہیں اور اسے حقانی نیٹ ورک کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ لویا پکتیا کو کابینہ کی دس نشستیں ملی ہیں۔ گزشتہ کئی برس سے حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج حقانی اس وقت طالبان کے نائب رہنماؤں میں سے ایک ہیں، انہیں وزارت داخلہ ملی ہے۔ سراج حقانی کے سر پر پچاس لاکھ ڈالر کا انعام بھی رکھا جا چکا ہے۔ ان کے چچا خلیل حقانی وزیر مہاجرین بنے ہیں، ان کے سر پر بھی پچاس لاکھ ڈالر کا انعام موجود ہے۔
ننگرہار کے مشرقی علاقے میں زیادہ تر پشتون آباد ہیں جنہیں کابینہ میں پانچ نشستیں ملی ہیں۔ اس کے مقابلے میں، شمالی افغانستان میں آباد غیر پشتونوں کو صرف تین عہدے ملے ہیں (دو تاجک اور ایک ازبک) ۔ آرمی چیف کا اہم عہدہ ایک تاجک کمانڈر قاری فصیح الدین کو ملا ہے۔ اس عہدے کو عام طور پر شمالی صوبوں پر قبضہ کرنے میں طالبان کی مدد کا انعام سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن حالیہ واقعات کے بعد فوج بطور ایک کے ادارہ عملی طور پر موجود نہیں ہی چنانچہ اس منصب کو علامتی اہمیت ہی دی جا سکتی ہے۔ نائب وزرائے اعظم میں عبدالسلام حنفی واحد ازبک ہیں۔ طالبان کے ساتھ طویل وابستگی رکھتے ہیں اور 1990 کی دہائی میں طالبان حکومت کا حصہ بھی رہے تھے۔
افغان حکومت سے باہر رکھے جانے والوں میں طالبان کے وہ معروف کمانڈر بھی شامل ہیں جو پاکستانی سیکورٹی اداروں کے پسندیدہ نہیں سمجھے جاتے۔ کابینہ کی فہرست میں منصور اور عامر خان کی قیادت والے دھڑوں کی نمائندگی نہیں ہے۔ اسی طرح سدرے اور گل محمد جیسے کمانڈر بھی غائب ہیں۔ ایران کے ساتھ ممکنہ روابط رکھنے والے طالبان کو بھی ایک طرف کر دیا گیا ہے۔اسی طرح عبد القیوم زاکر جو کہ گوانتاناموبے میں مقید رہے اور طالبان کے عسکری کمانڈر بھی تھے انہیں کوئی عہدہ نہیں دیا گیا جبکہ قاری فصیح الدین جو کہ بدخشاں سے ایک تاجک کمانڈر ہیں اور پنجشر کی فتح میں وہ قائدانہ کردار ادا کر رہے تھے انہیں بھی انعام کے طور پر ترقی دے دی گئی ہے۔
اس کابینہ کی نسلی محدودیت یعنی تینتیس میں سے تیس تقرریاں خالص پٹھانوں کی کی گئی ہیں جو کہ اس بات کو واضح کرتی ہے کہ یہ حکومت ہر گز دیگر دھڑوں پر مشتمل حکومت نہیں ہے اور یہ ماضی کا ہی چہرہ ہے جو کہ اب افغانستان کی قسمت کے فیصلے کرے گا۔ بلاشبہ طالبان کی کابینہ محدود ہے اسی لیے امید کی جارہی ہے کہ یہ اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی کیونکہ طالبان سمجھتے ہیں کہ یہی کابینہ دنیا کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

بشکریہ شفقنا اردو

یہ بھی دیکھیں

بلوچستان کا منہ تو پہلے ہی بند ہے

وسعت اللہ خان ویسے تو اس حکم نامے پر گورنر بلوچستان نے یکم نومبر کو …