بدھ , 27 اکتوبر 2021

حکومت طالبان اور شیعیان افغانستان

تحریر: سید ثاقب اکبر

گذشتہ دنوں شوریٰ علمائے شیعہ افغانستان کا تین روزہ اجلاس منعقد ہوا، جس کے اختتام پر ایک چودہ نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ اسی دوران میں افغانستان میں طالبان حکومت کی طرف سے عبوری کابینہ کا اعلان ہوا۔ علمائے شیعہ کے اعلامیے کو پڑھ کر واضح ہوتا ہے کہ شیعہ اس نئی حکومت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور طالبان سے ان کی توقعات اور مطالبات کیا ہیں۔ اسے سامنے رکھ کر طالبان حکومت اور شیعیان افغانستان کے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں کچھ رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ماضی میں طالبان اور شیعوں کے تعلقات اچھے نہیں رہے۔ اسی طرح ایران کے تعلقات بھی طالبان کے ساتھ تلخ ہی رہے ہیں، دونوں کے ایک دوسرے کے بارے میں شدید قسم کے جذبات پائے جاتے تھے۔ افغانستان میں گزرنے والے بیس سالہ دور نے طالبان اور شیعہ دونوں کو ایک دوسرے کے لئے تبدیل کر دیا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ امریکہ ہے، جسے پورے عالم اسلام میں ایک جارح اور ظالم کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ابھی چند ہفتے قبل اشرف غنی کی حکومت اور طالبان کے نمائندے اسلامی جمہوریہ ایران کی دعوت پر تہران میں اکٹھے ہوئے تھے، جس سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ ایران اور طالبان کے مابین روابط موجود ہیں۔

طالبان کے قابض امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف معرکے میں یا تو افغانی شیعوں نے طالبان کی حمایت میں جنگ کی ہے یا پھر طالبان کی مخالفت نہیں کی۔ ابھی ماضی بھی موجود ہے، جس کی بناء پر بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب تک ہم طالبان کی طرف سے مثبت عملی اقدامات نہیں دیکھ لیتے، اس وقت تک ہمیں ان پر اعتماد پیدا نہیں ہوگا۔ علمائے شیعہ کے اعلامیے میں افغانستان کی صورتحال کے پس منظر اور پیش منظر کو سامنے رکھتے ہوئے کئی ایک مسائل کا تذکرہ موجود ہے۔ شوریٰ علمائے شیعہ افغانستان نے اس بات کو خوش آئند قرار دیا ہے کہ قابض افواج افغانستان سے نکل گئی ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ طالبان سپاہیوں کی جانب سے بعض مقامات پر مذہبی شدت پسندی دیکھنے میں آئی ہے، جس کا سدباب کیا جانا چاہیے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بدامنی اور غربت سے نجات کا واحد راستہ عادلانہ اور پائیدار امن و سلامتی کا قیام ہے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ شوریٰ علمائے شیعہ افغانستان ایک دینی و عوامی مرکز ہے، جس نے افغان مسلمان قوم کے درمیان ہمیشہ اخوت اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے موثر کوششیں کی ہیں۔

اعلامیے میں عاشورا اور مراسم عزاداری کو امن و امان کے ساتھ برقرار کرنے کے لیے جن محترم مسئولین اور ذمہ داران نے کوششیں کیں، ان کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ مستقبل میں وسیع البنیاد حکومت اور اسلامی نظام کی تشکیل کے لیے شوریٰ علمائے شیعہ کا ایک وفد سیاستدانوں اور تحریک طالبان کی قیادت سے ملاقات بھی کرچکا ہے اور ان کے سامنے اپنا نقطہ نظر پیش کرچکا ہے۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین میں مکتب جعفری کو ایک باقاعدہ اسلامی مکتب فکر کے عنوان سے لکھا جائے اور شیعوں کو احوال شخصیہ اور وسیع البنیاد حکومت کی تشکیل میں ملحوظ رکھا جائے۔ اعلامیے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اس مطالبے سے پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ ملک میں اسلامی نظام کے ثبات و استحکام کی بنیاد ہے۔ یہ مطالبہ پہلے بھی طالبان سے ملاقات کے موقع پر پیش کیا جا چکا ہے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ہم سیاسی، اجتماعی، اقتصادی، تعلیمی اور ثقافتی میدان میں اسلامی شریعت کے مطابق خواتین کو حقوق دینے کی حمایت کرتے ہیں۔

مطالبہ کیا گیا ہے کہ شوریٰ علمائے شیعہ افغانستان کو ملک کے تمام اہم امور کے فیصلوں میں شریک کیا جائے، نیز کہا گیا ہے کہ افغانستان کے تمام مسالک، اقوام اور قبائل کو بھی حکومت میں شریک کیا جائے اور طالبان اپنے بارے میں جس طرح کا تاثر اپنے بیانات اور اعلانات میں دیتے رہے ہیں، انھیں سامنے رکھ کر اقدامات کریں۔ یاد رہے کہ گذشتہ ماہ افغانستان میں آئندہ نظام حکومت میں شیعوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ایک حقیقی اسلامی حکومت میں ہر قوم و قبیلہ و مسلک سے تعلق رکھنے والے افغانوں کے حقوق محفوظ ہوں گے۔ سب اس اسلامی حکومت میں حصہ دار ہوں گے، بلا شبہ ہمارے شیعہ بھائی بھی شوریٰ میں موجود ہوں گے اور فیصلوں میں شرکت کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت بھی بعض علاقوں میں شیعہ امریکیوں اور مرکزی حکومت کے خلاف ہمارے ساتھ مل کر جہاد کر رہے ہیں، یہاں تک کہ تلخاب کا کمانڈر شیعوں میں سے منتخب کیا گیا ہے۔ بلاشبہ ہم مستقبل کی حکومت کی تشکیل میں اپنے شیعہ بھائیوں سے استفادہ کریں گے، تاکہ افغانستان کی آئندہ کی فوج ایک وسیع البنیاد اور طاقتور فوج ہو۔

طالبان کی اعلان کردہ نئی عبوری کابینہ کے بارے میں یہ اعتراض سامنے آیا ہے کہ شیعوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ البتہ طالبان کہتے ہیں کہ یہ عبوری حکومت ہے اور باقاعدہ حکومت سازی بعد میں کی جائے گی، جس میں دیگر قبائل اور مسالک کو بھی شامل کیا جائے گا۔ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ عبوری حکومت کب تک رہے گی اور کیا دیگر مسالک، مختلف خطوں اور قبائل کو طالبان دل کھول کر حکومت میں شامل کرتے ہیں یا نہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد نے جو یہ کہا ہے کہ آئندہ کی شوریٰ میں وہ شیعوں سے استفادہ کریں گے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا شوریٰ سے ان کی مراد ایک منتخب پارلیمان ہے، جو عوامی رائے سے منتخب کی جائے گی اور کیا طالبان انتخابات کے قائل بھی ہیں یا نہیں۔ ویسے وہ کہ چکے ہیں کہ وہ مغربی طرز حکومت اور جمہوریت کو قبول نہیں کرتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان کو آئین کی تشکیل کی جانب آنا ہوگا۔ لوگوں کی رائے سے عوامی نمائندوں کا انتخاب کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح ایک حقیقی وسیع البنیاد عوامی حمایت یافتہ حکومت قائم کی جاسکتی ہے۔ پوری دنیا میں ان کے حامی اور مخالف سبھی کہہ رہے ہیں کہ آپ ایک وسیع البنیاد حکومت قائم کریں۔ اس وقت جو معاشی صورتحال افغانستان کو درپیش ہے، اس کا مقابلہ اسی طرح ممکن ہے۔ ہمیں ابھی انتظار کرنا چاہیے اور امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ماضی کی تلخیاں اپنی جگہ، لیکن کہیں نہ کہیں سے مستقبل کی جانب سفر کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

افغانستان میں سب سے بڑا لوزر بھارت

تحریر: رانا بشارت محمود پاکستان کے ہمسایہ اسلامی ملک افغانستان میں طالبان کی طرف سے …