بدھ , 1 دسمبر 2021

73 برس بعد بھی ‘کیسا پاکستان’ کی بحث

تحریر: بابر علی

‘بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے تاریخ کے دھارے کو نمایاں طور پر بدل کر رکھ دیا اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیتے ہیں، محمد علی جناح ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے بیک وقت دونوں کارنامے کرکے دکھائے۔’ قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت کے بارے میں کچھ ایسے الفاظ کا انتخاب امریکی تاریخ دان و پروفیسر اسٹینلی وولپرٹ نے اپنی کتاب جناح آف پاکستان میں کیا ہے۔

زیادہ تر تاریخی اوراق میں 25 دسمبر 1876 کو قائد اعظم محمد علی جناح کا جنم دن لکھا گیا ہے۔ تاہم، کچھ مورخین کا دعویٰ ہے کہ جناح کی اصل تاریخ پیدائش 20 اکتوبر 1875 تھی، جسے جناح نے بعد میں بدل کر 25 دسمبر 1876 کردیا۔ بانی پاکستان ایک کرشماتی و مرعوب کن شخصیت کے ساتھ بے مثال دانشور، معاملہ فہم اور اپنے وقت کے انتہائی مہنگے وکلاء میں شمار ہوتے تھے جو کہ ایک کیس کا اُس وقت تقریباً پندرہ سو روپے معاوضہ وصول کرتے تھے۔ لیکن، جناح کی زندگی میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب انہوں نے وکالت ترک کر کے اداکاری میں قدم رکھا اور لندن میں ایک شیکسپیرین کمپنی کے ساتھ کیرئیر کا آغاز کیا لیکن جناح کی زندگی میں یہ باب انتہائی مختصر سطروں پر محدود رہا۔

جب جناح 1896 میں کراچی واپس لوٹے تو انہوں نے اپنے والد کے کاروبار کو شدید گھاٹے میں دیکھا۔ انہوں نے اپنی قانونی پریکٹس بمبئی (موجودہ ممبئی) میں شروع کرنے کا فیصلہ کیا تاہم اپنی قابلیت کی بدولت جلد ہی وکالت کے شعبے میں دھاک بٹھانے میں کامیاب ہو گئے۔

تقریبا 10 سال بعد وہ سیاست کے میدان میں سرگرم عمل ہوئے۔ انہوں نے اپنی دلچسپی کو قانون اور سیاست میں تقسیم کیا۔ وہ کٹر یا سطحی قسم کے مذہبی بالکل بھی نہیں تھے بلکہ وسیع النظر صلاحیتیوں کے حامل مسلمان تھے، فرقوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ جناح ایک وقت میں ہندو مسلم اتحاد کے سب سے بڑے سفیر مانے جاتے تھے۔ اگر انہیں مذہبی حدود کے اندر صاحب فکر شخص قرار دیا جائے تو بھی شاید کوئی مبالغہ آرائی نہ ہوگی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ نوزائیدہ ریاست پاکستان کو بھی دنیاوی سطور پر استوار کرنا چاہتے تھے۔

یوں تو مختلف تقاریر میں انہوں نے پاکستان کے لئے مخلتف تاویلات تجویز کیں لیکن، گیارہ اگست کی تقریر (جسے چارٹر آف پاکستان بھی کہا جاتا ہے) کو ریاست، نظریہ پاکستان اور امور ریاست کے بارے میں جناح نے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کو خطاب کیا۔ اس خطاب میں محمد علی جناح نے امور ریاست، مذہبی آزادی، قانون کی حکمرانی، مساوات کا پرچار کیا۔ اسی تقریر میں محمد علی جناح مذہب اور ریاست کی علیحدگی کی حمایت بھی کرتے نظر آئے۔

لیکن، آج جب بانی پاکستان کی وفات کو 73 سال ہوچکے ہیں، یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ وہ کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ اس سوال پر پاکستانی قوم بدستور تقسیم ہے۔

پاکستان کی ایک بڑی اکثریت یہ استدلال کرتی ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور آل انڈیا مسلم لیگ پارٹی خالصتا ایک مذہبی ریاست چاہتے تھے جبکہ دوسری جانب، ملک کا ایک ایسا طبقہ بھی ہے کہ جس کا اصرار ہے کہ جناح مغرب کے تعلیم یافتہ آزاد خیال انسان تھے اور وہ ایک اسلامی ریاست نہیں چاہتے تھے۔ دونوں جانب، اپنے خیالات کو مؤثر، بامعنی اور باوزن بنانے کے لئے محمد علی جناح کی مختلف تقاریر و تحاریر کا حوالہ دیا جاتا ہے تاہم ہندوستان سے علیحدہ ہونے کے فوری بعد جناح نے قانون سازوں سے اسلامی بینکاری نظام وضع کرنے کو کہا تھا۔

اقلیتوں کے حوالے سے قائداعظم نے ہرجگہ انہیں مکمل حقوق کی فراہمی اور ریاست کے برابر شہری ہونے کی یقین دہانی کرائی۔ ان کی گیارہ اگست کی تقریر کو ہی دیکھ لیا جائے، تقریر کے اقتباس کے مطابق ان کے الفاظ تھے “آپ سب آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے، آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے، آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو، ریاست کا اس سے کوئی سروکار نہیں”۔

اس سے پہلے بھی نومبر 1941, 1945 اور 1946 اور دیگر مقامات و مواقع پر مختلف تقریبات میں قائداعظم دوٹوک انداز میں یہ باتیں دہرا چکے تھے کہ اقلیتیں ریاست کی برابر و بلاتفریق شہری بن کر رہیں گی، کسی ہندو، سکھ، مسیحی یا کسی بھی اقلیت کو ان کے مذہب کے بنیاد پر پرکھا نہیں جائے گا، سب کو برابر کے حقوق ملیں گے۔

صرف یہی نہیں بلکہ قیام پاکستان کو فوراً بعد آنے والے پہلے اتوار کو قائداعظم نے اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کراچی میں ایک چرچ میں دعوت میں حاضری دی، وہاں پر بھی انہوں نے اقلیتوں کو مکمل تحفظ اور برابری کا یقیں دلایا۔
قائداعظم نے نہ صرف باتوں کی حد تک بلکہ عملی طور پر بھی اقلیتوں کو برابر کے شہری ہونے کا یقین دلایا، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں وزیر داخلہ اجندرناتھ مینڈل جو کہ ایک ہندو تھے سمیت دس سے زائد اقلیتی اراکین شامل کئے۔ بانی پاکستان اقلیتوں کو کس حد تک اہمیت دیتے تھے، وہ ان کے قول و فعل سے بالکل واضح ہے۔

قائد نے اپنی متعدد تقاریر میں معاشی نکات بیان کئے۔ 1947 میں ایک عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا “نمیں ایک ایسے معاشی نظام کا قائل نہیں جہاں امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر کردیا جائے، ہمیں معاشرے کا توازن بگاڑے بغیر دونوں طبقات کے ساتھ انصاف یقینی بنانا ہو گا”۔ انہوں نے بلیک مارکیٹ کی شدید الفاظ میں حوصلہ شکنی کی حتیٰ کہ انہوں نے اس دھندے میں ملوث افراد کے لئے سزائے موت جیسی سزا کا انتخاب کیا۔

وہ معیشت کی اہمیت سے بخوبی آشنا تھے۔ انہوں نے ایک جگہ فرمایا کہ جب تک کوئی ملک معاشی و اقتصادی طور پر کمزور ہے، تب تک وہ زندگی کی جنگ جیتنے کی کوئی امید نہیں رکھ سکتا۔ 1948 میں اسٹیٹ بینک کی بلڈنگ کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اسلامی بینکاری کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے فرمایا "ہمیں اپنی قسمت خود بنانی ہے اور دنیا کوایک ایسا اقتصادی نظام مہیا کرنا ہے جس کی بنیاد اسلام کے تصور مساوات اور معاشرتی انصاف پر مبنی ہو”۔

آج گیارہ ستمبر سن 2021 ہے، بانی پاکستان کی وفات کو تہتر برس بیت چکے، لیکن ہم آج بھی بمشکل ایک خواب کے دھاگے سے لٹک رہے ہیں، اور اس بات پر بٹے ہوئے ہیں قائد ایسا نہیں ویسا، ویسا نہیں ایسا پاکستان چاہتے تھے۔ ہمارا ملک اقلیتوں، عورتوں اور یہاں تک کہ زمین پر مذہبی مقدمہ بازی کے جھمیلوں کی دلدل میں گھرا ہوا ہے۔

ہم پاکستان کی جدوجہد میں بانی کی بہن فاطمہ جناح سمیت خواتین کے کردار کو بھول گئے ہیں اور بڑھتے ہوئے چیلنجوں کے باوجود ‘تو کیا میں کیا’ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ اس ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں ، جو چاہتے ہیں کہ خواتین کی شناخت محض ایک صنف تک محدود ہو جائے۔ ایسا پاکستان تو قائد نے ہرگز نہیں چاہا تھا۔

قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے، اس سے قطع نظر ایک بات تو طے ہے کہ وہ ایسا پاکستان تو یقینی طور ہر نہیں چاہتے تھے جیسا یہ ملک آج بن چکا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح ایک فلاحی ریاست چاہتے تھے، جہاں کسی غریب سے ناانصافی نہ ہو پائے، انصاف کا عَلم بلند سے بلند تر ہو۔ جہاں عقائد کی بنیاد پر ایک کو دوسرے پر فوقیت نہ ہو، وہ ایسی ریاست ہرگز نہیں چاہتے تھے جہاں مذہب کے نام پر شہریوں کو قتل اور تنگ کیا جائے، مذہب کو حب الوطنی کا پیمانہ گردانا جائے، عورتوں پر قدغنیں لگائی جائیں، اظہار رائے کی آزادی ناپید ہو۔ جہاں انصاف کی فراہمی کو روپے اور پیسوں کے ترازو میں نہ ناپا جائے۔ قائد تو ایسے پاکستان کے متلاشی تھے جہاں ہر سُو سکھ، شانتی و امن کی شمع روشن رہے۔ جب ایسا بنے گا پاکستان، تب ہم سمجھ لیں گے کہ یہی ہے جناح کا پاکستان۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بلوچستان کا منہ تو پہلے ہی بند ہے

وسعت اللہ خان ویسے تو اس حکم نامے پر گورنر بلوچستان نے یکم نومبر کو …