پیر , 25 اکتوبر 2021

سعودی عناصر کے ہاتھوں یمنی طالبعلم کے قتل کی مذمت، امریکہ میں مظاہرہ

نیویارک: سعودی عناصر کے ہاتھوں یمنی اسٹوڈنٹ کے قتل کی مذمت میں امریکہ کے کئي صوبوں میں مظاہرہ امریکہ کے صوبے نیویارک، میشیگن اور کیلیفورنیا میں سعودی – اماراتی عناصر کے ہاتھوں یمنی طالبعلم عبد اللہ السنبانی کے قتل کی مذمت میں مظاہرے ہوئے۔ ان مظاہروں میں امریکہ میں مقیم ہزاروں کی تعداد میں یمنی شہری شامل ہوئے۔ یمن کے المسیرہ ٹی وی چینل کے مطابق، عبد اللہ السنبانی کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے کرایے کے نمکخواروں نے اس وقت شہید کر دیا جب وہ صنعا کے راستے میں تھے-

نیویارک میں ہوئے مظاہرے میں صنعا کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی ناکہ بندی کو ختم کرانے کے لئے تشکیل پانے والے بین الاقوامی کمپین کے افراد اور کئی امریکی سیاستدان شریک ہوئے۔

برطانیہ میں مختلف تنظیموں نے بھی اس جرم کی مذمت کی اور اسکے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ میں مقیم اس یمنی جوان کو صنعا کے مشرق میں وا‍قع صوبے لحج میں ایک چیک پوسٹ پر قتل کردیا گیا جس سے یمنی عوام کا غم و غصہ پھوٹ پڑا ہے۔عبد اللہ السنبانی عدن سے صنعا جا رہے تھے کہ صوبے لحج کے طور الباحہ ضلع میں ایک چیک پوسٹ پر سعودی-اماراتی عناصر نے روک کر انہیں شہید کر دیا۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یونیسف سمیت اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں و تنظیموں نے بار بار خبردار کیا ہے کہ سعودی اتحاد کے یمن پر جاری حملوں کی وجہہ سے اس ملک کے عوام کو قحط سمیت ایسے انسانی المیہ کا سامنا ہے جسکی مثال پچھلی صدی میں نہیں ملتی۔

یمن پر سعودی اتحاد کے حملے مارچ 2015 سے جاری ہیں۔ یمن پر سعودی اتحاد کے حملوں میں 20 ہزار سے زیادہ یمنی شہید، دسیوں ہزار زخمی اور دسیوں لاکھ بے گھر ہوئے ہیں۔ سعودی اتحاد نے یمن کی زمینی، ہوائی اور سمندری ناکہ بندی کر رکھی ہے-

یہ بھی دیکھیں

لبنان کو ایرانی تیل کی ترسیل کا سلسلہ جاری

تہران: ایرانی ایندھن کا حامل ایک اور کاروان شام کے راستے لبنان میں داخل ہو …