ہفتہ , 16 اکتوبر 2021

کراچی: لاکھوں افغان مہاجرین کی بھیڑ میں سنگین جرائم پیشہ افراد بھی شامل

کراچی: ایک اندازے کے مطابق صرف کراچی میں تین لاکھ سے پانچ لاکھ تک افغان پناہ گزین موجود ہیں لیکن مہاجرین کی اس بھیڑ میں مجبور انسانوں کے علاوہ سنگین جرائم میں ملوث افراد شامل ہیں۔

15 لاکھ رجسٹرڈ پناہ گزینوں کے ساتھ پاکستان افغان مہاجرین کو پناہ دینے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے لیکن جنگ کے نتیجے میں کی گئی ہجرت محض انسانی تعداد کی اِدھر سے اُدھر منتقلی کا نام نہیں، یہ وہ چین ری ایکشن ہے جس کی تابکاری کے تباہ کن اثرات مہاجرین کے ساتھ ایک سے دوسرے ملک منتقل ہوکر رہتے ہیں، بالکل اُسی طرح جیسے سرحد پار عدم استحکام کے اثرات سے پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی کا منظرنامہ تبدیل ہوا۔

پاکستان میں منشیات اور کلاشنکوف کلچر کی آمد کا ذمے دار افغان جنگ کو ٹھہرایا جاتا ہے۔

محکمہ انسداد دہشتگردی کے انچارج راجہ عمر خطاب کے مطابق کراچی میں جرم کی دنیا میں بھی اس تبدیلی کے اثرات دیکھے گئے جسے ابتداء میں اداروں نے نظرانداز کیا۔

یوں میزبان ریاست پاکستان میں شناخت سے محروم افغان پناہ گزینوں سے متعلق بہت سے منفی تاثرات بھی قائم ہوتے چلے گئے، ساتھ ہی ایک ایسی متوازی اور اندھی معیشت نے جنم لیا جو دستاویزات کی قید اور ٹیکس نیٹ سے آزاد ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزینوں کے تحت رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد 65 ہزار ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل ایکشن پلان کے بعد تقریباً 70 ہزار پناہ گزینوں کو افغان سٹیزن کارڈ جاری کیے گئے جب کہ شہر میں غیررجسٹرڈ پناہ گزینوں کا اندازہ تین لاکھ سے 5 لاکھ کے درمیان ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی و ہندوستانی وزرائے خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے مزید فروغ کے لئے پر عزم

نیویارک: اسلامی جمہوریہ ایران اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل …