ہفتہ , 16 اکتوبر 2021

طالبان اور داعش خراسان کے مابین مستقبل میں خانہ جنگی کے امکانات

9/11 سے قبل طالبان کی قیادت کو بنیادی چیلنج شمالی اتحاد کا تھا جس کی قیادت افغان کمانڈر احمد شاہ مسعود کر رہے تھے ۔ احمد شاہ مسعود طالبان کی افغانستان پر قبضے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ شمالی اتحاد غیر پشتون افغان باشندوں کا طالبان مخالف گروہ تھا جو دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ دیگر نسلی بنیادوں پر بھی طالبان کے خلاف تھا. افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور سابق افغان حکومت کے زمین بوس ہونے کے بعد ، شمالی اتحاد ایک مرتبہ پھر افغانستان پر طالبان کی حکومت کے لیے ایک بڑے چیلنج کی صورت میں سامنے کھڑا ہے۔ تاہم گزشتہ ہفتے طالبان نے شمالی اتحاد کے گڑھ پنجشیر پر قبضہ کر کے اس خطرے کا تدارک کر لیا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ طالبان خطرے سے باہر ہیں بلکہ انہیں اب ایک زیادہ خطرناک اور وحشی دشمن کا سامنا ہے جس کو داعش خراسان یا اسلامک سٹیٹ آف خراسان کہا جاتا ہے۔
داعش خراسان طالبان قیادت کے لیے اس وقت خطرہ بن گئے جب اس کی قیادت اور جنگجو 2015 میں پاکستان کی طرف سے افغانستان کے شمالی صوبے ننگر ہار کی طرف فرار ہوگئے۔ طالبان نے شام میں داعش خراسان سے رابطہ کر کے درخواست کی تھی کہ وہ افغانستان میں ایک اور محاذ نہ کھولیں کیونکہ اس سے امریکہ کے خلاف جہادی جنگ پر برا اثر پڑے گا۔ تاہم داعش نے طالبان کی درخواست کو درخور اعتنا نہ سمجھا اور ننگر ہار میں طالبان کی مضبوط پناہ گاہ پر قبضہ کر لیا اور اپنے اثر کو صوبہ کنڑ تک پھیلا لیا۔ افغانستان کی سلفی آبادی داعش خراسان کی حامی بن گئی جو کہ افغانستان میں حنفی اثرورسوخ کے خلاف ہے۔ افغانستان کی سلفی آبادی نے 9/11 کے بعد کے عرصے سے موقع اٹھا کر کافروں کے خلاف جہاد کو استعمال کر کے افغانستان میں اپنی عسکری بنیادوں کو بہت مضبوط کیا۔
اگرچہ طالبان نے 9/11 کے بعد داعش کو ایک متوازی فرنٹ نہیں بنانے دیا تاہم انہیں اپنے چھوٹے درجوں میں جگہ ضرور دی اور پھر آہستہ آہستہ انہیں ایک طرف کر دیا۔ داعش خراسان درحقیقت طالبان کی اجارہ داری کے خلاف سلفیوں کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم ثابت ہوا جس سے انہیں طالبان کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنے کا موقع ملا۔ داعش کی بنیاد رکھنے والی قیادت درحقیقت پاکستان مخالف جنگجو گروپوں پر مشتمل تھی کیونکہ یہ گروپ قیادت کے جھگڑے اور مذہبی تفرقے کی وجہ سے 2014 میں تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہوا تھا۔ پاکستان کے خلاف اپنے عوامی بیان میں داعش خراسان کے رہنما حافظ سعید خان جو کہ تحریک طالبان پاکستان کے سابق سینیر کمانڈر تھے نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف نیا اتحاد بنائیں گے۔
پاکستانی داعش خراسان کی قیادت بہت جلد ننگر ہار میں امریکی فضائی حملوں میں ہلاک ہوگئی تھی ۔ جس کے بعد سلفی گروہ نے داعش خراسان کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی جس نے افغان طالبان کے خلاف براہ راست جنگ شروع کر دی۔ جس کے بعد داعش خراسان نے ننگر ہار اور کنڑ کے صوبے میں کافی سارے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ دوحہ امن معاہدے کے بعد افغان سیکورٹی فورسز، طالبان کے حملوں اور امریکہ کے فضائی حملوں نے افغانستان میں داعش خراسان کے سارے اڈوں کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ اس کے سینکڑوں جنگجو ہلاک ہوگئے اور ہزاروں نے افغان حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ امریکہ ، طالبان اور افغان حکومت نے مل کر داعش کے خاتمے کا جشن منایا۔ لیکں کنڑ اور ننگر ہار میں داعش کے خاتمے کا مطلب افغانستان میں سے داعش کا خاتمہ ہرگز نہیں تھا ۔ داعش خراسان نے اپنے سابق رہنما کی گرفتاری اور قتل کے بعد ڈاکٹر شہباب المہاجر کو مئی 2020 میں نیا سربراہ چنا اور فوری طور پر دوبارہ ابھر کر سامنے آئی ۔
سابق سینیر افغان سیکورٹ اہکار نے حال ہی میں دعوٰی کیاہے کہ ڈاکٹر مہاجر درحقیقت افغان طالبان سے الگ ہوئے اور وہ حقیقت میں حقانی نیٹ ورک کا حصہ تھے تاہم اب وہ ان سے الگ ہو کر داعش خراسان کا حصہ بن گئے ہیں۔ داعش خراسان کا سربراہ بننے کے بعد انہوں نے کابل نیں ایک خونی باب کا آغاز کیا۔ اس نے فورا ہی ہائی پروفائل دہشت گرد حملے شروع کیے جن میں اگست 2020 میں ننگر ہار جیل توڑنے کے لیے حملہ اور کابل میں ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر اقلیتی گروہوں پر خوفناک حملے شامل تھے۔ اگرچہ ابتدا میں بہت سارے سلفیوں نے داعش خراسان کی حمایت کی تھی مگر ان کی بربریت کو دیکھ کر وہ اس سے منحرف ہوگئے ۔ داعش خراسان نے کئی سلفی شخصیات کو بھی نشانہ بنایا۔ جب کہ داعش خراسان اور طالبان کی مخامصت کا نتیجہ افغان سلفیوں کی مخالفت کی صورت میں نکلا جس کے نتیجے میں افغان طالبان سلفیوں پر شک کرنے لگے کہ وہ داعش خراسان کی حمایت کرتے ہیں۔ جس کے بعد افغان سلفیوں کے ایک اہم سکالر شیخ عبد العزیز نورستانی طالبان سے 2020 کے اوائل میں ملے اور طالبان کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کیا اور کہا کہ داعش کے خلاف جنگ میں انہیں بیچ میں نہ گھسیٹا جائے۔
اس ماہ سلفی اہم شخصیات کے قتل کے کیسز میں ایک کیس شیخ ابو عبداللہ متوکل کا بھی تھا جس کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ انہیں طالبان جنگجوؤں نے قتل کر دیا ہے ، اگرچہ طالبان کے ترجمان نے اس کی نفی کی ہے۔ سلفیوں کا کہنا ہے کہ طالبان کی صفوں میں موجود بعض گروہ انہیں ماضی میں داعش خراسان کے ساتھ تعلق کی وجہ سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ نئی طالبان حکومت کی آمد کے ساتھ ہی سلفیوں میں پریشانی کا عالم ہے کیونکہ ان کے تحفظ کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں جس سے نوجوان سلفی نسل کے داعش خراسان میں واپسی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس سے داعش خراسان مزید مضبوط ہوگی اور ملک میں خانہ جنگی کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
بشکریہ شفقنا اردو

 

یہ بھی دیکھیں

افغانستان میں سب سے بڑا لوزر بھارت

تحریر: رانا بشارت محمود پاکستان کے ہمسایہ اسلامی ملک افغانستان میں طالبان کی طرف سے …