جمعرات , 2 دسمبر 2021

پاکستانی شیعہ کمیونٹی پر پرتشدد واقعات کی رپورٹ

گذشتہ 50 برسوں میں شیعیان پاکستان پر ہونے والے حملوں کے مکمل اعداد وشمار منظرعام پرآگئے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ 1980 سے 2021 کے دوران ہونے والے واقعات میں سے 2013 میں سب سے زیادہ پرتشدد واقعات ریکارڈ ہوئے جن میں 2134 افراد متاثر ہوئے ۔
گذشتہ 50 برسوں میں شیعیان پاکستان پر ہونے والے حملوں کے مکمل اعداد وشمار منظرعام پرآگئے۔ حقائق اور شواہد کی بنیاد پر پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے پرتشدد واقعات کو جمع کرنے والی نجی ویب سائٹ violenceregisterpk.com کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق عقائداور فرقہ کی بنیاد پر سب سے زیادہ شیعہ کمیونٹی پر پرتشدد واقعات و سانحات ریکارڈ ہوئے ہیں،جن میں بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ ،نفرت انگیز مواد کی تشہر وغیر ہ شامل ہے۔

اس نجی ویب سائٹ کے پاس 1963 سے لے کر 2020 تک کا ڈیٹا موجود ہے جسکے مطابق 53 سالوں میں کرسچن کمیونٹی پر 303پرتشد د واقعات،ہندو برادری پر 200 جبکہ احمدیہ پر230 ریکارڈ ہوئے، اس کے مقابل شیعہ مسلمانوں پر 1437تشدد کے واقعات ریکارڈ ہوئے جن میں بم دھماکے، مساجد و مذہبی رسومات پر حملے، توہین کا الزام، تکفیرکے نعرے، ٹارگٹ کلنگ وغیرہ شامل ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق1980 سے 2020 تک شیعہ مسلمانوں پر ہونے والے ان 1437واقعات میں 13336 افرادمتاثر ہوئے، violence رجسٹرڈ کے ڈیٹا بیس کے مطابق پاکستان میں 88 فیصد پرتشدد حملے صرف شیعہ کمیونٹی پر ہوئے۔

پرتشدد واقعات کا ریکارڈ رکھنے والی ڈیٹا بیس ویب سائٹ کےمطابق گذشتہ 50 سالوں میں شیعہ مسلمانوں کے مذہبی رسومات پر ہونے والے حملوں کی تعداد 52 ہے جس میں 624 افراد شہید جبکہ 1019 زخمی ہوئے ، 113 بم دھماکے ہوئے جن میں 1580 افراد شہید 3432 افراد زخمی ہوئےاسی طرح دیگر واقعات کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ 1980 سے 2021 کے دوران ہونے والے واقعات میں سے 2013 میں سب سے زیادہ پرتشدد واقعات ریکارڈ ہوئے جن میں 2134 افراد متاثر ہوئے ۔

رپورٹ کے مطابق 2019 اور 2020 کے دوران نیا ٹرینڈ توہین کے پرچوں کی صورت میں سامنے آیا ہے، صرف اگست 2020 میں 42 توہین کے کیس شیعہ مسلمانوں پر درج کیئے گئے، واضح رہے کہ ان میں رواں سال 2021 میں درج کیئے جانے والے توہین اور جلوس و مجالس کروانے کی ایف آئی آر کا ریکارڈ شامل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ violenceregisterpk.com ایک نجی ویب سائٹ ہے جس نے یہ اعداد و شمار جاری کیئے ہیں ، جبکہ شیعہ ادارے ان پرتشدد واقعات کے نتیجے میں 20 ہزار افراد کے متاثر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

براہ راست پروازوں کے اضافہ سے ایران پاکستان عوامی تعلقات اور سیاحت کی ترقی

کراچی: اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان عوامی تعلقات کو …