پیر , 24 جنوری 2022

امداد، مگر سود کے ساتھ

تحریر: تصور حسین شہزاد

لیجیے صاحب، ہمارے سب سے گہرے دوست سعودی عرب، جہاں کے سربراہ محمد بن سلمان وہاں پاکستان کے سفیر بھی ہیں، ان کے پاکستان پر بے پناہ احسانات ہیں۔ وہ پاکستان کے گہرے دوست ہیں، ہر مشکل وقت میں پاکستان کے کام آتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ دنیا میں کوئی بھی ملک کسی کا دوست نہیں ہوتا، وہی دوست ہے، جہاں سفارتی مفادات ہوتے ہیں۔ اسی سے تعلق ہوتا ہے، جس کیساتھ آپ کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں، اسی کی دوستی شہد سے زیادہ میٹھی اور ہمالیہ سے زیادہ بلند ہوتی ہے۔ چھوٹے اور کمزور ملک پھر فخر سے دنیا میں بتاتے پھرتے ہیں کہ ’’جی فلاں ملک ہمارا گہرا دوست ہے۔‘‘ ہمارے عوام اتنے سادہ ہیں کہ وہ حقیقی معنوں میں اس دوستی کو حقیقی دوستی ہی سمجھ بیٹھتے ہیں، جو محض مفادات کے گرد گھومتی ہے۔

شاہراہ ریشم اور بندرگاہوں کا معاملہ نہ ہوتا تو ہم دیکھتے کہ چین ہمیں گھاس ڈالتا ہے یا نہیں، لیکن ہم دل و جان سے سرِتسلیم خم کئے ہوئے ہیں کہ چین ہمارا گہرا دوست ہے۔ ایسے ہی جذبات ہم ترکی کے بارے میں بھی رکھتے ہیں، لیکن بات سفارتی مفادات پر آکر تھم جاتی ہے۔ ترکی ہمارا ایسا گہرا دوست ہے کہ ہم اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی قیمت چکا رہے ہیں اور ہمارے رجب طیب اردگان اسرائیل کیساتھ سفارتی تعلقات رکھے ہوئے ہیں، انہوں نے ہماری اس دیرینہ دوستی کا خیال تک نہیں کیا۔ اسی طرح سعودی عرب تو اسرائیلی محبت میں اتنا آگے نکل گیا ہے کہ ’’نیوم‘‘ نام کا ایک الگ شہر بسا رہا ہے، جہاں اسرائیلی کھلے عام آ جا سکیں گے۔

یو اے ای والوں کیساتھ بھی ہماری ’’مضبوط ترین‘‘ دوستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، مگر اس نے بھی عجلت میں نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے، بلکہ اس کیساتھ سفارتی تعلقات مضبوط کرنے کیلئے اپنے اخلاقی و دینی قوانین میں بھی تبدیلی کر دی گئی ہے۔ ایران نے ہمارے درد کو سمجھا، گیس بحران سے نجات دلانے کیلئے وہ میدان میں آیا، ہم نے ہی اس کیساتھ معاہدہ کیا اور ہم ہی اس معاہدے سے امریکہ و سعودی عرب کی ایماء پر مُکر گئے۔ ایران نے اپنے حصے کی گیس پائپ لائن مکمل کرلی ہے اور ہم جنہوں نے ایران سے گیس مانگی تھی، اپنے ملک میں منصوبے پر کوئی عمل نہیں کرسکے۔ حیرت ہے کہ ایرانی بجلی حلال ہے جبکہ ایران گیس کو حرام سمجھ رہے ہیں؟ بجلی سے سعودی عرب کو مسئلہ نہ امریکہ کو تکلیف، بلوچستان کے بیشتر حصوں میں ایرانی بجلی ہی استعمال ہوتی ہے، مگر ہم نے گیس مانگی تو سب ہمارے گہرے دوست ناراض ہوگئے۔

رہا ہمارا گہرا اور مضبوط دوست سعودی عرب تو سعودی عرب کی مضبوط دوستی کا احوال بھی سن لیجئے۔ ہمیں معاشی بحران سے بچانے کیلئے تین ارب ڈالر ’’امداد‘‘ کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ وہ امداد ہے، جسے بوتل میں بند کرکے دیا گیا ہے کہ ہم بوتل کو کھول نہیں سکیں گے، بلکہ صرف دیکھ سکیں گے، یعنی یہ رقم ہمارے اکاونٹ میں پڑی رہے گی، استعمال نہیں ہوگی۔ اب ہمارے اس گہرے دوست نے اس ’’امداد‘‘ پر بھی ہم سے سود مانگ لیا ہے۔ ہمارے گہرے دوست نے حکم دیا ہے کہ اس امداد پر چار فیصد سود دینا ہوگا۔ یعنی خادمین حرمین شریفین یعنی آل سعود نے بھی سود کا کاروبار شروع کر دیا ہے۔ جی ہاں وہی سود جسے اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔ اب سوال تو بنتا ہے کہ حضور آپ تو ہمارے گہرے دوست ہیں، ہر مشکل میں پاکستان کی مدد کرتے ہیں، پھر اس مشکل میں پاکستان کی مدد کرنے پر سود کا مطالبہ چہ معنی دارد؟؟

سعودی عرب نے کبھی بھی مشکل وقت میں پاکستان کی مفت مدد نہیں کی، بلکہ جب بھی پاکستان نے سعودی عرب سے کچھ مانگا، اس کے بدلے میں سعودی عرب نے اپنے مطالبات کی ایک لمبی فہرست تھما دی، اور کہا کہ پاکستان ہمارے لئے یہ کام کرے تو ہم امداد دیں گے۔ ابھی کل کی ہی بات ہے کہ ہمارے وزیراعظم عمران خان نے ملائیشیا میں ایک کانفرنس رکھوائی تھی، اس کی میزبانی اور ایجنڈا بھی ہمارا ہی تھا، کانفرنس کا مقصد اسلامو فوبیا کیخلاف اسلام کا درست چہرہ پیش کرنا تھا، مگر ہمارے گہرے دوست نے وزیراعظم کو ریاض طلب کر لیا اور دھمکی دی کہ آپ او آئی سی کے مقابلے میں نیا پلیٹ فارم بنا رہے ہیں؟ فوراً اس سے دستبردار ہو جائیں، ورنہ سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کو نکال دیا جائے گا اور دیا گیا قرضہ بھی واپس لے لیا جائے گا۔ ہمارے گہرے دوست کی اس دھمکی سے ہمارے وزیراعظم ڈر گئے اور کوالالمپور کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے۔

اسی طرح یمن کیخلاف محاذ میں سعودی عرب نے ہمارا ہی کاندھا استعمال کیا۔ ہمارے ہی سابق آرمی چیف کو اس اتحاد کا سربراہ بنایا، اب وہ اتحاد یمنیوں سے جوتے کھانے کے بعد تتر بتر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یمن میں سعودی عرب کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حوثیوں سے ایک انچ زمین خالی نہیں کروا سکے، بلکہ حوثیوں نے مزید علاقوں کو بھی اپنے تسلط میں لے لیا۔ اب پاکستان میں سعودی عرب کے حامی کچھ مُلاں ڈونگرے بجا رہے ہیں، ذرا یہ مُلاں حضرات سود کی حرمت پر تو فتویٰ صادر فرما دیں۔ یہاں تو گلے پھاڑ پھاڑ کر سود حرام ہے، سود حرام ہے، کا راگ الاپتے ہیں۔ اب سعودی عرب نے جو چار فیصد سود پاکستان سے وصول کرنا ہے، اس حوالے سے بھی اپنے خیالات عالیہ سے قوم کو ضرور نوازیں۔ مگر کہاں؟ یہ حق بات بول پڑے تو سعودی عرب سے ریالوں میں ملنے والی امداد بند ہو جائے گی۔

ہمارے گہرے دوست نے جو ’’امداد‘‘ پاکستان کو دینی ہے، یہ ایک سال تک ہمارے اکاونٹ میں رہے گی۔ ہم خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ اس سے آئی ایم ایف کو راضی کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ آئی ایم ایف ہم سے زیادہ جانتا ہے کہ یہ امداد بند بوتل ہے، جسے ہم کھول نہیں سکتے۔ مشیر خزانہ شوکت ترین نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ سعودی وزیرِ خزانہ نے انہیں آگاہ کر دیا ہے کہ پاکستان کی ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے میں مدد کیلئے سعودی عرب حکومتِ پاکستان کے اکاؤنٹ میں تین ارب ڈالر جمع کروا رہا ہے، اس کیساتھ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کا تیل مؤخر ادائیگیوں پر دیا جائے گا۔ سودی امداد ملنے پر پاکستان میں شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب کی تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہیں۔

مگر معاشیات کے ماہرین پریشان ہیں کہ دنیا میں یہ واحد ملک ہے، جو امداد بھی سود پر دیتا ہے۔ حالانکہ امداد کا مطلب ہی مفت مدد ہوتا ہے، یہ کیسی امداد ہے، جو نہ ہم خرچ کرسکتے ہیں اور نہ اس کو استعمال میں لا سکتے ہیں، بس دیکھ کر ہی پیٹ بھریں گے اور سود الگ سے ادا کریں گے اور شائد حضرت اقبالؒ نے اسی موقع کیلئے کہا تھا کہ
ہند میں حکمتِ دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذّتِ کردار، نہ افکارِ عمیق
حلقۂ شوق میں وہ جُرأتِ اندیشہ کہاں
آہ محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق
خود بدلتے نہیں، قُرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سِکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قومی سلامتی پالیسی 26-2022، اہم نکات کیا ہیں؟

تحریر: فرحت جاوید ’بس سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اب پاکستان نے اپنی …