پیر , 24 جنوری 2022

مغرب نے "دہشت گردی” کے بارے میں اپنا تصور عرب حکومتوں پر مسلط کر دیا

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

لگتا ہے کہ مغرب اور اس کا سرکردہ "امریکہ” اس وقت اسرائیل کے ساتھ تنازعے کے سلسلے میں اپنا تصور زیادہ تر عرب حکمرانوں پر مسلط کرنے میں کامیاب ہوا جب اس نے عرب رائے عامہ کے اندر تک گھسنے میں کامیابی حاصل کی اور "مغربی تصورات اور خیالات” کی "عربی تصورات و خیالات” کے طور پر تشہیر کی۔
رائے عامہ کی تباہی میں عرب حکومتوں کے کردار کو "کم نہ سمجھا جائے”، ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ حکومتیں اور خاص طور پر وہ حکومتیں جنہوں نے غاصب اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کئے ہیں اور ان کی سائبر افواج نیز تعلیم کے شعبوں سے منسلک ادارے اور افراد، تجزیہ کار اور مبصرین، جماعتوں کے سربراہ اور اخبار نویس، جنہوں نے ان مغربی تصورات کی ترویج کا اہتمام کیا ہے، نہ ہوتیں مغرب کبھی بھی عرب اقوام کی رائے کو متاثر نہ کرسکتا اور عرب دنیا کی بصیرت و شعور کو غفلت میں نہ بدل سکتا۔
بہت سے عربوں نے نہ صرف برطانوی حکومت کی طرف سے حماس کو "دہشت گرد تنظیموں” کی فہرست میں شامل کرنے کی مذمت نہیں کی ہے، بلکہ انھوں نے اس معاندانہ انگریزی موقف پر کوئی بھی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ بلاشبہ ان عرب ممالک نے مغرب کے تمام معاندانہ اقدامات کے حوالے سے ایسی ہی مجرمانہ، خائنانہ اور ذلیلانہ خاموشی اختیار کرتے رہے ہیں؛ آسٹریلیا نے لبنان کی حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دیا، اور مغرب نے دوسری عرب اور اسلامی مزاحمتی تحریکوں – بشمول انصار اللہ اور الحشد الشعبی اور شامی قومی افواج – کے خلاف معاندانہ کارروائیاں کیں لیکن عرب ممالک پر مسلط آمر اور قبائلی حکومتوں مذمت کے دو بول بھی نہ بول سکے۔
صورت حال یہ ہے کہ ایک ملک کا کوئی باشندہ اسلامی مزاحمتی تحریکوں کی مالی اور اخلاقی حمایت کی پاداش میں گرفتار کیا جائے تو اس کی گرفتاری کی خبر فوری طور پر ان "عربی ذرائع ابلاغ” کی شہہ سرخی میں تبدیل ہوجاتی ہے، جو غاصب اسرائیلی ریاست کے ساتھ عربوں کے تعلقات بحال کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔
جب ہم کہتے ہیں کہ اگر غدار عرب حکومتیں نہ ہوتیں تو مغرب کبھی بھی اپنی "ثقافت”، "نظریات” اور "تصورات” کو عربوں پر مسلط کرنے میں کامیاب نہ ہوسکتا۔ کیونکہ "دہشت گرد” اور "دہشت گردی” کا عنوان – جسے مغرب اسلامی مزاحمتی تحریکوں پر لاگو کرتا ہے – عرب حکمران بھی وجہ پوچھے بغیر، اسے قبول کر لیتے ہیں؛ اور آج عرب حکمران بھی ان مزاحمتی تنظیموں کو دہشت گرد سمجھتے ہیں! اور اگر ان کے زیر تسلط ممالک میں کوئی شہری از عربی اور اسلامی مزاحمت کی مادی یا اخلاقی حمایت کرے تو عرب حکومتیں اسے گرفتار کرتی ہیں اور ان کا مقاطعہ کرتی ہیں۔
ادھر، اسرائیل سازباز کرنے والی غدار عربی حکومتوں کا تزویراتی حلیف (Strategic Ally) سمجھا جارہا ہے اور وہ اس وقت آپس میں سیکورٹی اور عسکری تعلقات بحال کرنے میں مصروف ہیں اور عرب دارالحکومتوں میں غاصب اور مجرم یہودی ریاست کے سرغنوں کا والہانہ خیر مقدم کیا جاتا ہے۔
عالمگیریت نامی تصور کا پرچار ایک منافقانہ حربہ تھا اور عالمگیریت سے امریکہ کا مطلب ہرگز یہ نہ تھا کہ دنیا بھر کے ممالک کی اقدار کو یک جا کرکے ایک گلوبل ویلج کی بنیاد رکھی جائے بلکہ امریکہ اور اس کے غیر اخلاقی اور غیر انسانی تصورات اور نیو لبرلزم کا عالمگیر کرنا مقصود تھا۔ امریکی-مغربی تصورات و اقدار – بالخصوص "دہشت گردی”، "مزاحمت” اور "فلسطین” کے بارے میں امریکی-مغربی موقف – کو عالمگیر بنانا، نیز "اسرائیل کے ساتھ عربوں کی پرامن بقائے باہمی” – اور یہ کہ اسلامی جمہوریہ ایران عربوں کا دشمن ہے اور اس کا محاصرہ کرنا چاہئے اور اس کے ساتھ دشمنی کرنا چاہئے جیسے تصورات کی ترویج اور ان زہر آلود تصورات کو عربوں کے اذہان میں کندہ کرنا – عرب اور اسلامی دنیا کے مفکرین اور حقیقی سماجی و سیاسی راہنماؤں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان تصورات کی ترویج علاقے کے مستقبل کو مبہم بنا رہی ہے چنانچہ انہیں اٹھ کر اپنے معاشروں کی رائے عامہ کی اصلاح کے لئے اقدام کرنا پڑے گا۔ عقل و ہوش سے عاری عرب حکمرانوں کے مغرب سے اخذ کردہ تفکرات کے برعکس، اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی عرب اور اسلامی ملک کا دشمن نہیں ہے اور مختلف مواقع پر ان ممالک کی حکومتوں کو درپیش خطرات کا ازالہ کرتا رہا ہے، جبکہ عربوں اور مسلمانوں اور قرآن اور اسلام کا اصل دشمن اسرائیل ہے، اور مسلم دانشوروں کا فرض بنتا ہے کہ "دشمن کو دوست اور دوست کو دشمن” بنانے کی مغربی سازش کو فاش کرکے اس کا راستہ روک لیں اور سمجھیں اور سمجھائیں کہ مغربی تصورات کی پیروی انہیں کمزور بنا دیتے ہیں اور ان کے وسائل کو لوٹ مار کے عادی امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے خزانوں کی نذر کرتے ہیں۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قومی سلامتی پالیسی 26-2022، اہم نکات کیا ہیں؟

تحریر: فرحت جاوید ’بس سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اب پاکستان نے اپنی …