پیر , 24 جنوری 2022

’گوادر کو حق دو‘ ریلی میں خواتین، بچوں کی بڑی تعداد میں شرکت

گوادر: گوادر اور مکران سمیت دیگر علاقوں میں عوامی حقوق کے لیے شروع کی گئی تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین طالبات، سیاسی کارکنان اور محنت کش خواتین شامل تھیں جو ضلع گوادر کے تربت، اورماڑہ، جیوانی، پسنی اور دیگر علاقوں سے گوادر شہر پہنچی تھیں۔

ریلی الجوہر پبلک اسکول سے شروع ہوئی اور مختلف شاہراہوں اور گلیوں سے مارچ کرنے کے بعد میرین پہنچی۔

وہ صوبائی حکومت کے خلاف اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے رہے، جن میں سے زیادہ تر نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’گوادر کو حق دو‘ لکھا ہوا تھا۔

جماعت اسلامی (جے آئی) بلوچستان چیپٹر کے سیکرٹری جنرل مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ جو گزشتہ دو ہفتوں سے گوادر میں دھرنے کی قیادت کر رہے ہیں۔

انہوں نے خواتین کارکنوں کا خیرمقدم کیا اور زور دیا کہ خواتین کی اتنی بڑی ریلی اس بات کا ثبوت ہے اب ہر شخص اپنے حقوق کی تحریک میں شامل ہونے کو تیار ہے۔

جنرل مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ گوادر کے عوام کو سی پیک اور گوادر پورٹ کے نام پر دھوکا دیا گیا ہے جبکہ انہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ماہی گیروں کو روزی روٹی کمانے سے محروم کر دیا گیا، سرحدی تجارت پر پابندی لگائی گئی اور لوگوں کو صحت، تعلیم، پانی کی فراہمی اور دیگر بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں۔

رہنما جماعت اسلامی نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈرگ مافیا مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت سے منشیات اور شراب کا کاروبار کر رہا ہے جس کی وجہ سے نوجوان منشیات کے عادی ہو رہے ہیں اور صوبائی حکومت شراب کی دکانوں کو ختم کرنے اور منشیات کے کاروبار کے خلاف کارروائی کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے اس حوالے سے نوٹی فکیشن جاری کر دیا تھا لیکن اس کے طاقتور اداروں نے احکامات ماننے سے انکار کر دیا۔

جنرل مولانا ہدایت الرحمٰن نے افسوس کا اظہار کیا کہ مظاہرین کو صرف اس لیے ’بھارتی ایجنٹ‘ قرار دیا گیا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے عوام کے ایجنٹ ہیں کسی دشمن ملک کے ایجنٹ نہیں ہیں، بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی ایجنٹ کو سزا دینے کے بجائے حکومت اس کی رہائی کے لیے قانون سازی کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سی پیک اور گوادر پورٹ مقامی لوگوں کی خوشحالی کے لیے نہیں ہیں تو انہیں یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔

رہنما جماعت اسلامی نے چینی کمپنیوں کو تعمیراتی سامان فراہم کرنے والی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے احتجاج کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ گوادر کی ترقی کی باتیں کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین باضابطہ گفتگو

انقرہ: ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین ٹیلی فونی گفتگو ہوئی ہے۔ ترکی …