پیر , 24 جنوری 2022

کیا کورونا کی نئی قسم تیزی سے پھیل سکتی ہے؟

کورونا کی نئی قسم سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

عالمی وباء کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کینیڈا اور سوئٹزر لینڈ کے بعد اسپین بھی پہنچ گئی۔

دوسری جانب برطانیہ میں نئی پابندیاں نافذ کردی گئیں اور تمام بالغ افراد کو کورونا ویکسین کی تیسری ڈوز لگوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں کو بوسٹر شاٹس کی ہدایت کردی۔

برطانوی طبی ماہرین کے مطابق کورونا کی یہ قسم اب تک سامنے آنے والی تمام اقسام میں سب سے زیادہ خطرناک ہے۔

رپورٹس کے مطابق خطرناک وائرس کےکیسز کی جنوبی افریقہ ، یورپ اور اسرائیل میں تصدیق ہوچکی ہے۔ وائرس کا مزید پھیلاؤ روکنےکے لیے عالمی سطح پر ہنگامی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ کینیڈا میں کووڈ-19 کے اومیکرون ویرینٹ سے متاثر ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر پانچ ہو گئی ہے۔

جی سیون ملکوں نے اومیکرون کی روک تھام کے لئے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے جنوبی افریقا سے سامنے آنے والی نئی قسم کو ’اومیکرون‘ کا نام دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق پریشانی کی بات یہ ہے کہ نئی قسم میں مجموعی طور پر 50 جینیاتی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جبکہ اس کی نسبت کچھ عرصہ قبل دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والی کورونا کی ڈیلٹا قسم میں صرف 2 جینیاتی تبدیلیاں پائی گئی تھیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق فی الحال پریشان کن اعداد و شمار سامنے نہیں آئے جس کی بنیاد پر یہ تجویز کیا جا سکے کہ او می کرون دیگر اقسام سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس میں دو ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا کی نئی قسم کیخلاف موجودہ ویکسین کی افادیت دیکھنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں تاہم اس بات کا قوی امکان ہے کہ نئے ویرینٹ پر موجودہ ٹیسٹ اور کورونا وائرس کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

گردوں کی خرابی سے کیسے بچا جائے؟ دس احتیاطی تدابیر

گردوں کا کام جسم سے فضول مائع اور مادوں کو فلٹر کرکے پیشاب کے ذریعے …