پیر , 24 جنوری 2022

نائن الیون متاثرین کا افغانستان کے منجمد اثاثے بطور معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ

نیویارک: امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے متاثرہ خاندان چاہتے ہیں کہ امریکا کے پاس موجود افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضے کے طور پر دیے جائیں۔

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے وہ وفاقی عدالت کو کابل کو رقم واپس دینے یا اسے متاثرین کے اہلِ خانہ میں تقسیم کرنے سے قومی سلامتی پر مرتب ہونے والے اثرات سے آگاہ کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق ’امریکا کا محکمہ انصاف نائن الیون مدعیان کے وکلا کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ اگر حکومت افغانستان کو رقم واپس نہ کرے تواسے متاثرین میں تقسیم کرنے کا معاہدہ کیا جاسکے‘۔

اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’تجویز پر غور کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل، حکومت کے اداروں سے رابطہ کر رہی ہے‘۔

یاد رہے کہ 20 سال قبل 9/11 کے واقعے کے بعد کم و بیش 150 متاثرہ خاندانوں نے اپنے نقصان کے معاوضے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا، واقعے میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک اور 5 ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اس قانونی دعویٰ میں القاعدہ اور طالبان کو نامزد کیا گیا تھا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حملے کی منصوبہ بندی کی اس لیے انہیں معاوضے کی بھی ادائیگی کرنی چاہیے۔

ایک دہائی قبل عدالت نے مدعا علیہان کو واقعے میں ملوث پایا اور انہیں 7 ارب ڈالر مالیت کا زرتلافی ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم فیصلہ علامتی ظاہر ہوا کیونکہ نائن الیون کے فوری بعد امریکا نے افغانستان پرحملہ کیا اور طالبان کا تخت الٹتے ہوئے القاعدہ کو ختم کردیا تھا۔

رواں سال 15 اگست کو طالبان واپس اقتدار میں آئے اور دعویٰ کیا کہ نیویارک میں امریکی وفاقی ذخائر میں منجمد افغان مرکزی بینک کے تقریباً 7 ارب ڈالرز کے اثاثوں پر ان کا حق ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین باضابطہ گفتگو

انقرہ: ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین ٹیلی فونی گفتگو ہوئی ہے۔ ترکی …