ہفتہ , 22 جنوری 2022

سعودی عرب میں انسانی حقوق کی علمبردار خواتین کی بدتر صورتحال پر تشویش

یورپی پارلیمنٹ کے ایک سو بیس سے زیادہ ممبران نے سعودی عرب کی انسانی حقوق کی خاتون کارکنوں کے حق میں آواز بلند کی ہے۔

یورپی رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی انسانی حقوق کی علمبردار خواتین کو جیل سے آزاد ہونے کے بعد بھی سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

120 سے زیادہ یورپی یونین کے رکن پارلیمنٹ نے خواتین کے انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت پر سعودی عرب کی انسانی حقوق کی خاتون کارکنوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ایک سو بین سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے ایک خط پردستخط کرکے سعودی عرب کی ان تمام انسانی حقوق کی علمبردار خواتین کو بغیر شرط رہا کرنے کا مطالبہ کیا جن کو ریاض نے انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی وجہ سے جیل میں بند کر رکھا ہے۔

اس خط میں ان انسانی حقوق کی خاتون کارکنوں کی ایذائیں دیئے جانے کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

یورپی ارکان پارلیمنٹ کے اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلسل عالمی دباؤ کی وجہ سے کچھ خاتون کارکنوں کو رہا کیا گیا ہے تاہم آزادی کے بعد ان پر عائد پابندیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ خط کے مطابق اس کام سے ان کے بنیادی حقوق پامال ہوتے ہیں۔

گھریلو تشدد بھی سعودی خواتین کی ایک سنجیدہ پریشانی ہے۔ مردوں کی جانب سے تشددکا شکار ہونے کے بعد خواتین کا کوئی پوچھنے والا نہيں ہے۔

واضح رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت ہر سال انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے سیکڑوں افراد کو جیل میں بند کر دیتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین باضابطہ گفتگو

انقرہ: ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین ٹیلی فونی گفتگو ہوئی ہے۔ ترکی …