پیر , 24 جنوری 2022

ترمیمی آرڈیننس کے بعد کون سا کیس چلے گا کون سا نہیں، نیب نے پالیسی بنالی

قومی احتساب بیورو (نیب) ترمیمی آرڈیننس کے بعد کون سا کیس چلے گا، کون سا نہیں؟ نیب نے پالیسی بنالی۔

پراسیکیوٹر جنرل نیب نے تمام نیب بیوروز کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرلز کو خط لکھ کر واضح کیا ہے کہ منی لانڈرنگ،کرپشن، آمدن سے زائد اثاثوں اور اختیارات کے غلط استعمال کے کیسز پر نیب کا اختیار برقرار ہے۔ عوام سے فراڈ کرنے والے پرائیویٹ افراد پر بھی نیب کا اختیار بحال ہو چکا ہے تاہم کابینہ اور دیگر فورمز سے منظور شدہ منصوبوں پر بنے کیسز اب نیب کے اختیار میں نہیں، محض ضابطے کی غلطیوں پر بھی نیب کارروائی نہیں کرے گا۔

نیب آرڈیننس کے بعد کن حکومتی اور اپوزیشن شخصیات کے کیس ختم ہوسکتے ہیں؟

نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سید اصغر حیدر نے ڈپٹی پراسیکیوٹرز کو خط لکھ کر نیب کی پالیسی سے آگاہ کیا ہے کہ ترمیمی آرڈیننس کے بعد کون سے کیسز احتساب عدالت میں چلیں گے اور کون سے نہیں۔

خط کے مطابق منی لانڈرنگ کے کیسز پر انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت نیب کارروائی جاری رکھ سکے گا جبکہ کرپشن، آمدن سے زائد اثاثوں اور اختیارات کے غلط استعمال کے کیسز پر بھی نیب کا اختیار برقرار ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ عوام سے فراڈ کرنے والے پرائیویٹ افراد پر بھی نیب کا اختیار بحال ہو چکا ہے تاہم کابینہ اور دیگر فورمز سے منظور شدہ منصوبوں پر بنے کیسز پر اب نیب کا اختیار نہیں، محض ضابطے کی غلطیوں پر بھی نیب کارروائی نہیں کرے گا۔

اس کے علاوہ بینک قرض کے معاملات پر کارروائی سے پہلے اسٹیٹ بینک کی منظوری لازمی لی جائے۔

خط میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرلز کو ترمیمی آرڈیننس کے تحت استثنیٰ کے حامل کیسز کی فہرست فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ بتائیں کہ ان کے بیورو میں جاری کون کون سے کیسز اب مزید نہیں چل سکتے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ غیر مبہم رائے کے ساتھ کیسز کی فہرست فراہم کریں تاکہ ہیڈ کوارٹر ان پر فیصلہ کر سکے۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین باضابطہ گفتگو

انقرہ: ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین ٹیلی فونی گفتگو ہوئی ہے۔ ترکی …