پیر , 24 جنوری 2022

داعش پاکستان کے لئے کتنا بڑا خطرہ؟

رپورٹ: سید عدیل زیدی

افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد سے عالمی دہشتگرد تنظیم داعش کی کارروائیوں اور سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے، گذشتہ کچھ عرصہ کے دوران آئی ایس آئی ایس کی جانب سے افغان علاقوں قندوز، قندھار اور کابل میں دہشتگردی کی ہولناک کارروائیاں کی گئیں اور ان کی ذمہ داری بھی قبول کی گئی، دہشتگردی کے ان واقعات میں سینکڑوں افغان شہری شہید ہوئے۔ طالبان فورسز کی جانب سے داعش کیخلاف بعض علاقوں میں کارروائیاں بھی کی گئیں، جن میں داعش کے دہشتگردوں اور جنگجووں کی ہلاکتوں کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ تاہم اب تک یہ کارروائیاں فیصلہ کن ثابت نہیں ہوئیں۔ افغانستان میں کارروائیوں کے ساتھ ساتھ داعش خراسان کی جانب سے پاکستان میں بھی دہشتگردی کی کارروائیاں کرنے کی دھمکیاں سامنے آئی ہیں، گذشتہ دنوں داعش خراسان کے ایک کمانڈر کا ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کیساتھ ایک انٹرویو منظر عام پر آیا۔

خاتون صحافی کو دیئے گئے اس انٹرویو میں داعش کمانڈر کا کہنا تھا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں جو کچھ غلط ہو رہا ہے، اس کی وجہ پاکستان ہے، یعنی پاکستان تمام مسائل کی جڑ ہے، اس لئے ہم سب سے پہلے پاکستان کو اپنا ہدف بنائیں گے اور ایسا کرنے سے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہم یہ بات جانتے ہیں کہ پہلے تو طالبان شریعت کا نفاذ کرنا چاہتے تھے، لیکن اب جبکہ وہ سب باتیں مان کر حکومت سنبھال چکے ہیں، تو اس لئے اب وہ شریعت کا نفاذ نہیں کرسکتے۔ لہذا ہم طالبان کیخلاف بھی برسر پیکار ہیں اور ان کے پیچھے کردار ادا کرنے والے پاکستان کیخلاف بھی ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ رواں سال داعش خراسان کی جانب سے ’’یلغار‘‘ کے عنوان سے اردو زبان میں ایک مجلہ بھی جاری کیا گیا تھا، جس میں براہ راست پاکستان کو بھی دھمکیاں دی گئی تھیں اور اس مجلے کے اردو زبان میں شائع ہونے کے پس پردہ محرکات بھی پاکستان سے ہی منسلک تھے۔

عراق و شام سے ہوتے ہوئے افغانستان میں داعش کی موجودگی اب کوئی افسانہ نہیں رہی، طالبان کی جانب سے داعش کیخلاف مسلح کارروائیاں بھی کی گئیں، تاہم طالبان کو اس دہشتگرد تنظیم کے حوالے سے دیگر مسائل کیساتھ ساتھ سب سے اہم مشکل مقامی افراد کی داعش کیساتھ وابستگی کی صورت میں درپیش ہے۔ گذشتہ دنوں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور اقتدار پر طالبان کے کنٹرول کے بعد سے افغان انٹیلی جنس کے درجنوں عناصر داعش تنظیم میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ امریکی اخبار نے ایک سابق افغان ذمہ دار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ افغان فوج کے ایک افسر نے داعش تنظیم کی شاخ (داعش خراسان) میں شمولیت اختیار کی تھی، وہ جنوب مشرقی صوبے پکتیا کے صدر مقام گردیز میں افغان فوج کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ڈپو کا ذمہ دار تھا، یہ افسر چند روز قبل طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں مارا گیا۔

سابق ذمہ دار نے بتایا کہ افغان انٹیلی جنس اور فوج کے بہت سے عناصر جن کو وہ جانتا تھا، نے بھی داعش خراسان میں شمولیت اختیار کی۔ اس سے قبل طالبان نے ان کے گھروں کی تلاشی لیکر ان سب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خود کو ملک کے نئے حکام کے حوالے کر دیں۔ دوسری جانب نیشنل ڈائریکٹوریٹ فار سیکورٹی کے زیر انتظام جاسوسی ایجنسی کے سابق سربراہ رحمت الله نبيل کے مطابق بعض علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے کچھ سابقہ عناصر کے لئے داعش تنظیم نہایت پرکشش بن چکی ہے۔ اس وقت طالبان کے خلاف داعش تنظیم کے سوا کوئی اور گروپ نہیں ہے، جس میں یہ عناصر شامل ہوسکیں۔ پاکستانی حکام نے طالبان رہنماوں کیساتھ ملاقاتوں کے دوران داعش سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔

طالبان نے اسلام آباد کو بھرپور یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ افغان سرزمین کسی صورت پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم درحقیقت طالبان کا یہ دعویٰ اسی صورت درست ثابت ہوسکتا ہے کہ جب وہ افغان سرزمین پر اس عالمی دہشتگرد تنظیم کو کنٹرول کریں۔ اب تک داعش کی جانب سے افغانستان میں کئے جانے والے دھماکوں، جن میں خاص طور پر وہاں آباد شیعہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، اس جانب واضح اشارہ ہے کہ داعش خراسان افغانستان میں اپنا ٹھوس وجود رکھتی ہے اور اس کو مقامی سپورٹ بھی کسی نہ کسی صورت میں ضرور حاصل ہے۔ پاکستانی حکام کو ایسے کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے کیلئے 2600 کلو میٹر سے زائد افغان سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاک، افغان حکام کو بارڈر سکیورٹی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے حوالے سے مضبوط میکانیزم بنانے کی بھی ضرورت ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قومی سلامتی پالیسی 26-2022، اہم نکات کیا ہیں؟

تحریر: فرحت جاوید ’بس سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اب پاکستان نے اپنی …