پیر , 24 جنوری 2022

سعودی عرب یمن میں انسانی حقوق کی تحقیقات سے پریشان

لندن: سعودی عرب یمن میں انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ذریعے کرائی جانے والی تحقیقات کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

برطانوی اخبار گارڈیئن نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب اس کوشش میں ہے کہ یمن میں اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کے معاملات کی تحقیقات کے سلسلے کو روک دیا جائے اور وہ یہ نہیں چاہتا کہ یمن میں مصروف جارحیت اس کے اتحاد کے ذریعے انجام پانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں تحقیقات عمل میں لائی جائیں۔

اس سے قبل اکتوبر کے مہینے میں بھی سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر دباؤ بنا کر یمن میں جاری جنگی جرائم کی تحقیقات کی مدت میں توسیع کے فیصلے پر روک لگوا دی تھی۔

گزشتہ برسوں میں بھی اقوام متحدہ نے سعودی عرب کا نام دو بار طفل کشی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا تھا جسے ریاض نے اپنے پیٹرو ڈالر کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے دوبارہ خارج کروا دیا تھا۔

سعوی عرب اپنے اتحادی ممالک کی مدد سے یمن میں مارچ دوہزار پندرہ سے بدترین جارحیت میں مصروف ہے اور جارح اتحاد کے فضائی و زمینی حملوں سے ملک کی کوئی بھی جگہ حتیٰ مساجد، اسکول اور اسپتال بھی محفوظ نہیں رہ پائے ہیں۔

تحقیقات بتاتی ہیں کہ سعودی عرب کی جارحیت کے نتیجے میں ملکِ یمن کی تقریبا پچاسی فیصد بنیادی تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو جبکہ اب تک لاکھوں یمنی شہید و زخمی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے یمن میں جاری انسانی المیہ کو صدی کا بدترین المیہ قرار دیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین باضابطہ گفتگو

انقرہ: ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین ٹیلی فونی گفتگو ہوئی ہے۔ ترکی …