پیر , 24 جنوری 2022

اللہ کے بندے اور آئی ایم ایف کے بندے

تحریر: تصور حسین شہزاد

پاکستانی قوم اتنی سادہ ہے کہ جس عطار کے لونڈے کی وجہ سے بیمار ہوتی ہے، دوا بھی اُسی سے لینے پہنچ جاتی ہے۔ اب اگر ہم آئی ایم ایف کو دیکھیں تو ہماری 80 فیصد سے زائد مشکلات کا ذمہ دار یہی ادارہ ہے۔ اُوپر سے اسی ادارے نے ہمارے اُوپر ’’اپنے بندے‘‘ مسلط کئے ہوئے ہیں۔ یہ بندے بظاہر تو پاکستانی ہیں، لیکن ان کو آئی ایم ایف کے مفادات پاکستان سے زیادہ عزیز ہیں۔ ظاہر ہے جس کے ملازم ہیں، اسی کا فائدہ سوچیں گے۔ اب موجودہ گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر کی ہی مثال لے لیجیئے۔ موصوف کو گورنر جیسا حساس اور اہم ترین عہدہ دیدیا گیا ہے۔ عوام کو خوش کرنے کیلئے کہا گیا کہ موصوف وطن کی محبت میں آئی ایم ایف کی نوکری ٹھکرا کر پاکستان کی ترقی کیلئے تشریف لائے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ رضا باقر صاحب کو گورنر بنایا ہی آئی ایم ایف کی ہدایت پر گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہماری معاشی تنزلی کی ایسی ایسی تاویلیں پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ حکیم لقمان اگر اس دور میں زندہ ہوتے تو پانی پانی ہو جاتے۔

گزشتہ ماہ کی بات ہے۔ موصوف گورنر سٹیٹ بینک صاحب، لندن میں تھے۔ ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔ عشائیے میں اوورسیز پاکستانیوں نے روپے کی بے قدری کا شکوہ کیا تو موصوف نے ایسا حکیمانہ جواب دیا کہ ہر کوئی ششدر رہ گیا۔ موصوف نے خطاب میں فرمایا اوورسیز پاکستانیوں کی محنت اور مشقت سے کمائی گئی رقم میں موجودہ شرح تبادلہ کے باعث اضافہ ہو رہا ہے۔ موصوف نے فرمایا اگر آپ پاکستان میں تیس ارب ڈالر بھیجتے ہیں، اور روپے کی قدر میں دس فیصد کمی ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ڈالر بھیجنے والوں کو روپے کی قدر میں کمی سے تین ارب ڈالر کو فائدہ ہو رہا ہے۔ (تو یہ ہیں وہ لوگ جو روپے کی بے قدری میں مصروف ہیں) موصوف نے فرمایا، ہر معاشی پالیسی کچھ لوگوں کے لئے مفید تو کچھ کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔

وہ بتانا چاہ رہے تھے کہ لاکھوں اوورسیز پاکستانیوں کو ان کی پالیسیوں سے فائدہ اور کروڑوں پاکستان میں مقیم شہریوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ موصوف کی یہ منطق تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہہ دے کہ سگریٹ بہت مفید چیز ہے، اس کے پینے سے گھر میں چوری نہیں ہوتی۔ کیونکہ سگریٹ پینے والے کو دمہ ہو جاتا ہے، وہ ساری ساری رات کھانستا رہتا ہے، اس کے کھانسنے سے گھر میں چور نہیں آتے کہ اہلخانہ جاگ رہے ہیں۔ رضا باقر صاحب، وطن ماں کے جیسا ہوتا ہے۔ ماں کیساتھ غداری وہی کرتا ہے جس کی رگوں میں خالص خون نہیں ہوتا۔ آپ ایسی پالیسیاں دے کر جس کا پاکستان کی بجائے کسی اور کو فائدہ ہو، آپ ماں کیساتھ غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ رضا باقر صاحب آپ تو گورنر کی بجائے لطیفہ ساز ثابت ہو رہے ہیں۔ ایسی ایسی دور کی کوڑی لاتے ہیں، کہ اللہ کی پناہ۔ آپ نے کراچی میں سٹاک مارکیٹ میں کھڑے ہو کر خوش خبری سنائی کہ ملک میں غربت کی شرح کم ہوئی ہے۔ لوگ گاڑیاں اور موٹر سائیکل خرید رہے ہیں، ہوٹل اور ریستوران لوگوں سے بھرے پڑے ہیں۔ طلب میں اضافے کے باعث پاکستان میں کاریں مہنگی ہو رہی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ رضا باقر صاحب یہ تو وہی لطیفے ہیں جو پرویز مشرف اور شوکت عزیز سنایا کرتے تھے۔

شوکت ترین سے کسی گستاخ صحافی نے سوال کر ڈالا کہ حضور یہ بتائیے کہ گزشتہ تین برسوں میں ڈالر ایک سو بیس سے ایک سو اٹھہتر روپے تک کیسے پہنچ گیا؟؟ تو موصوف نے اس پر براہ راست تبصرے سے گریز کیا۔ بس اتنا کہا کہ ڈالر کو رسہ ڈالنے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں، بہت جلد نیچے آ جائے گا۔ خود کو معاشی عقل کُل سمجھنے والے فرماتے ہیں کہ پاکستان کا مسئلہ افراط زر ہے۔ حضور، ہمیں کیا پتہ افراط زر کس بلا کر نام ہے، ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ جب تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اشیائے خوردونوش سے لے کر ٹرانسپورٹ کے کرایوں تک ہر چیز میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے عام آدمی بُری طرح متاثر ہوتا ہے۔ حتی کہ حمام میں شیو کرنیوالا نائی بھی شیو کی قیمت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ ایک غریب آدمی حمام پر چلا گیا، پوچھا شیو کے کتنے پیسے لو گے؟؟ نائی نے جواب دیا، 60 روپے۔ گاہک بولا، اتنے زیادہ، لگتا ہی کیا ہے صرف 5 روپے کا ایک بلیڈ؟؟ نائی بولا، پتہ ہے، چینی 120 روپے کلو مل رہی ہے، جس پر سادہ لوح غریب نے جواب دیا، ’’آپ پھیکی شیو کر دیں‘‘۔ تو ہماری ماہرین معیشت کا حال بھی عین اس سادہ لوح شہری کے جیسا ہی ہے جو پھیکی شیو کروانے حمام پر پہنچا ہے۔

مہنگائی کی شرح میں تو اضافہ ہو رہا ہے، مگر تنخواہ اور آمدن کی شرح وہیں کی وہیں ہے، تو جب آمدن اور خرچ میں فرق زیادہ واضح ہونے لگے تو غربت کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ غربت بڑھ جائے تو جرائم جنم لیتے ہیں۔ جرائم بڑھیں تو معاشرے کا امن داؤ پر لگ جاتا ہے، امن داؤ پر لگ جائے تو معیشت کا گراف اوپر جانے کی بجائے سمت بدلتے ہوئے نیچے کا رُخ کر لیتا ہے۔ یہ آج کے معاشی سقراط عوام کو یہ کہہ کر تسلی دے رہے ہیں کہ پاکستان میں غربت خطے کے دیگر ممالک کے نسبت بہت کم ہے۔ حضور، کبھی دیگر ممالک کی جانب سے عوام کو دی گئی سہولتوں کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا ہے آپ نے؟؟ وہاں کیوں آپ کو سانپ سونگھ جاتا ہے؟؟

حضور خواجہ سراء سے بیٹے کی اُمید نہ لگائیں۔ آئی ایم ایف کے نہیں اللہ کے بندوں کو معیشت کی زمام تھمائیں، غیر ملکی مالیاتی اداروں کی بجائے اللہ سے اُمید لگائیں۔ ایاک نعبدو و ایاک نستعین، کو قول کی بجائے فعل کا حصہ بنائیں، اللہ اُن کا ہاتھ تھام لیتا ہے، جو اس سے اُمید لگاتے ہیں۔ اور جو آئی ایم ایف سے اُمید لگاتے ہیں، آئی ایم ایف ان کو ڈبو دیتا ہے۔ اور ایسی بہت سے مثالیں موجود ہیں۔ موصوف رضا باقر مصر، بلغاریہ، رومانیہ، قبرص، گھانا، یونان، جمیکا، پُرتگال، تھائی لینڈ اور یوکرائن میں بھی آئی ایم ایف کے ایما پر معاشی بربادی کے بیج بو کر آئے ہیں۔ اور اگر ہم ان سے پاکستان میں بھلائی کی توقع کر رہے ہیں تو ہم کھلی گمراہی میں گھرے ہوئے ہیں۔ اللہ کے بندے بنیں، آئی ایم ایف کے بندے نہ بنیں۔ جب اللہ کی رسی کو تھام لیں گے تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی، اللہ پر توکل لگا کر تو دیکھیں۔

ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قومی سلامتی پالیسی 26-2022، اہم نکات کیا ہیں؟

تحریر: فرحت جاوید ’بس سب سے بڑی بات یہی ہے کہ اب پاکستان نے اپنی …