پیر , 24 جنوری 2022

6 کھرب روپے کی ایڈجسٹمنٹس کے ساتھ ’منی بجٹ تیار‘

اسلام آباد: حکومت نے غیر معمولی حدت کی حامل معیشت کو ٹھنڈا کرنے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہوئے معاہدے کے تحت ’منی بجٹ‘ کو حتمی شکل دے دی جس میں 6 کھرب روپے کی مالی ایڈجسٹمنٹس اور اخراجات کی کٹوتیاں شامل ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام وفاقی حکومت کی جانب سے 5 ماہ قبل مالی سال 2022 کے لیے پیش کیے گئے ’ترقیاتی بجٹ‘ کے اثرات کو واپس پلٹانے میں کردار ادا کرے گا۔

ان اقدامات کو ’پیشگی اقدامات‘ کہا جارہا ہے جو جنوری میں آئی ایم ایف بورڈ سے منظوری کے لیے پاکستان کی درخواست جمع کرانے کی راہ ہموار کریں گے، بورڈ کی منظوری سے ملک کے لیے ایک ارب ڈالر جاری ہوسکیں گے۔

دوسری جانب حکومت نے یوسف خان کو سیکریٹری خزانہ کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ پلاننگ ڈویژن کے حامد یعقوب شیخ کو تعینات کردیا۔

جن ایڈجسٹمنٹس کو حتمی شکل دی گئی ہے اس میں حکومت نے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت اخراجات میں 2 کھرب روپے کی کمی اور حکومت کے عمومی اخراجات میں 50 ارب روپے کی کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب ٹیکس استثنیٰ واپس لینے سے حکومت کو تقریباً 350 ارب روپے حاصل ہوں گے۔

آئی ایم ایف 7 کھرب روپے کے ٹیکس اقدامات کا خواہاں ہے جس میں ٹیکس استثنیٰ واپس لینا اور ٹیکس سلیبز پر نظرِ ثانی شامل ہے۔

تاہم رواں مالی سال کے لیے ہوئے معاہدے میں صرف 350 ارب روپے کا ٹیکس استثنیٰ ختم کیا جائے گا اور اشیائے خورونوش، کھاد اور کیڑے مار ادویات پر یہ استثنیٰ برقرار رہے گا۔

آئی ایم ایف نے پروویڈنٹ فنڈ پر ٹیکس بڑھانے اور ٹیکس کے لیے تنخواہوں کے سلیبز پر نظرِ ثانی کر کے اسے بھی بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم فی الوقت اس تجویز کو ایک طرف کردیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ بل کو بغور جائزے کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، ابھی اس پر قانون ڈویژن میں غور جاری ہے جس کے بعد کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے کراچی، لاہور، پشاور اور اسلام آباد سمیت ملک کے 40 بڑے شہروں میں ٹیکس کے حساب کے لیے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں قیمتوں کی شرح کو مارکیٹ کی سطح کے 90 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔

اس کے علاوہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں لین دین پر ٹیکس کی وصولی بڑھانے کے لیے فہرست میں شہروں کی تعداد 20 سے بڑھا کر 40 کردی گئی ہے۔

ساتھ ہی حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی درآمدات کم کرنے کے لیے ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے پر غور کا فیصلہ کیا ہے، بجٹ 2022 میں حکومت نے مقامی مارکیٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کےفروغ کے لیے ڈیوٹی کم کردی تھی۔

اس کے علاوہ یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹیاں لگا کر ہر طرح کی کمپلیٹ بلٹ یونٹ (سی بی یو) وہیکلز یعنی مکمل تیار گاڑیوں کی درآمدات کو محدود کیا جائے۔

اسی طرح سی کے ڈی/ایس کے ڈی حالتوں میں موجود گاڑیوں پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) لاگو کرنے کی تجویز زیر غور ہے، اس طرح کی گاڑیوں کی درآمدات آٹوموبائل شعبے کی مکمل درآمد کا 80 فیصد سے زائد ہیں۔

نومبر کے مہینے میں سی کے ڈی/ایس کے ڈی درآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سی کے ڈی سے مراد کمپلیٹ ناکڈ ڈاؤن یعنی مکمل پرزوں کی شکل میں جبکہ ایس کے ڈی یعنی سیمی ناکڈ ڈاؤن یا ادھوری تیار شدہ گاڑی ہے۔

اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ متنازع درآمدی ڈیوٹی پر کارپوریٹ گارنٹی کی سہولت کو واپس لے لیا جائے گا اور اس کی جگہ بینک کی ضمانت یا پے آرڈر کردیا جائے گا۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ نے متعدد غیر ضروری اور لگژری اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے کی تجویز بھی پیش کی۔

ساتھ ہی غیر ضروری اشیا کی درآمد کی حوصلہ شکنی کے لیے 525 اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ اشیا پہلے ہی 100 فیصد کیش مارجن کے تابع تھیں، جس نے درآمدات کو محدود کرنے کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں مدد نہیں کی۔

کیش مارجن کے تحت درآمد کنندہ کیس کی کارروائی سے قبل درآمد کی 100 فیصد قیمت بینک میں جمع کرائے گا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق وزارت تجارت ریگولیٹری ڈیوٹیز کے نفاذ اور کیش مارجن کی مخالفت کر رہی ہے کہ اس سے معیشت سست ہوجائے گی، تاہم مشیر خزانہ ان فیصلوں کے نفاذ کے حوالے سے سنجیدہ ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین باضابطہ گفتگو

انقرہ: ترکی اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کے مابین ٹیلی فونی گفتگو ہوئی ہے۔ ترکی …